أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

يَدۡعُوۡامِنۡ دُوۡنِ اللّٰهِ مَالَايَضُرُّهٗ وَمَا لَا يَنۡفَعُهٗ ‌ؕ ذٰ لِكَ هُوَالضَّلٰلُ الۡبَعِيۡدُ‌۞

ترجمہ:

وہ اللہ کے سوا اس کی عبادت کرتا ہے جو اس کو نہ نقصان پہنچا سکتا ہے نہ نفع دے سکتا ہے، یہی دور کی گمراہی ہے

(الانبیا : ١٢ میں فرمایا : وہ اللہ کے سوا اس کی عبادت کرتا ہے جو اس کو نہ نقصان پہنچ اسکتا ہے نہ نفع دے سکتا ہے، یہی دور کی گمراہی ہے۔

بہت دور کی گمراہی کا بیان 

یہ منفاق جو دنیا سے منافع اور فوائد نہ ملنے کی وجہ سے کفر ظاہر کی طرف لوٹ گیا اور اللہ کو چھوڑ کر بتوں کی عبادت کرنے لگا جو اس کو کوئی نقصان پہنچا سکتے ہیں نہ نفع دے سکتے ہیں یہ بہت دور کی گمراہی میں ہے، وہ یہ سمجھ کر کفر کی طرف لوٹا تھا کہ ظاہراً اسلام قبول کر کے تو اسے کوئی فائدہ نہیں ہوا اب اس کے خود ساختہ معبود اس کو کوئی فائدہ پہنچائیں گے حالانکہ اس کے باطل معبود اسے کیا فائدہ پہنچا سکتے تھے وہ تو بالکل بےبس اور لاچار ہیں ان سے کسی فائدہ کی توقع رکھنا تو بہت دور کی گمراہی ہے۔ ایسا شخص یہ کیوں نہیں سوچتا کہ کفر کی طرف لوٹنے کے بعد بھی اس کو جو دنیاوی فائدہ حاصل ہوگا وہ بھی درحقیقت اللہ تعالیٰ ہی کی طرف سے ہوگا۔ بعض اوقات اللہ تعالیٰ اپنی کسی حکمت کی وجہ سے کوئی خیرروک لیتا ہے اس وجہ سے اللہ تعالیٰ سے مایوس ہو کر بتوں کی طرف مائل ہونا اور شرک کی طرف جھک جانا سخت جہالت اور بہت دور کی گمراہی ہے۔

القرآن – سورۃ نمبر 22 الحج آیت نمبر 12