أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

يَدۡعُوۡا لَمَنۡ ضَرُّهٗۤ اَقۡرَبُ مِنۡ نَّـفۡعِهٖ‌ؕ لَبِئۡسَ الۡمَوۡلٰى وَلَبِئۡسَ الۡعَشِيۡرُ۞

ترجمہ:

وہ اس کو پکارتا ہے جس کا ضرر اس کے نفع سے زیادہ قریب ہے، وہ کیسا برا مددگار ہے اور کیسا برا ساتھی ہے

الانبیاء :13 میں فرمایا : وہ اس کو پکارتا ہے جس کا ضرر اس کے نفع سے زیادہ قریب ہے، وہ کیسا بڑا مددگار اور کیسا برا ساتھی ہے۔

کفار کے ضرر پہنچانے اور نہ پہنچانے میں تعارض کا جواب 

اس پر یہ اعتراض ہے کہ اس سے پہلی آیتم میں فرمایا : بت کوئی نفع اور نقصان نہیں پہنچا سکتے اور اس آیت میں فرمایا : ان کا ضرر ان کے نفع سے زیادہ قریب ہے۔ اس کا معنی ہے وہ ضرر پہنچاتے ہیں اور یہ تعارض ہے، اس کے حسب ذیل جوابات ہیں :

(١) بت فی نفسھا ضرر نہیں پہنچاتے لیکن ان کی عبادت کرنا اخروی عذاب اور ضرر کا سبب ہے اور سبب کے اعتبار سے ان کی طرف ضرر کی اضافت کی ہے، جیسا کہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے بتوں کے متعلق فرمایا :

رب انھن اضللن کثیراً من الناس (ابراہیم :36) اے میرے رب ! ان بتوں نے بہت لوگوں کو گمراہ کردیا ہے۔ حالانکہ بت خود گمراہ نہیں کرتے، گمراہی کا سبب ہیں۔ پس سبب کے اعتبار سے ان کی طرف اضافت کی۔

(٢) واقع میں بت نفع اور ضرر پہنچانے پر قادر نہیں ہیں لیکن بہ فرض محال یہ مان بھی لیا جائے تو ان کا ضرر پہنچانا نفع دینے سے زیادہ ہے۔

(٣) کفار جب اپنے دل میں انصاف کریں گے تو جان لیں گے کہ دنیا میں ان بتوں سے ان کو نفع یا ضرر حاصل نہیں ہوا پھر جب وہ آخرت میں ان بتوں کی عبادت کرنے کی وجہ سے عذاب عظیم کو دیکھیں گے تو کہیں گے کہ تمہارا ضرر تمہارے نفع سے بہت زیادہ ہے۔

القرآن – سورۃ نمبر 22 الحج آیت نمبر 13