وَ لَقَدِ اسْتُهْزِئَ بِرُسُلٍ مِّنْ قَبْلِكَ فَاَمْلَیْتُ لِلَّذِیْنَ كَفَرُوْا ثُمَّ اَخَذْتُهُمْ-فَكَیْفَ كَانَ عِقَابِ(۳۲)

اور بےشک تم سے اگلے رسولوں پر بھی ہنسی کی گئی تو میں نے کافروں کو کچھ دنوں ڈھیل دی پھر انہیں پکڑا(ف۹۱) تو میرا عذاب کیسا تھا

(ف91)

اور دنیا میں انہیں قحط و قتل و قید میں مبتلا کیا اور آخرت میں ان کے لئے عذابِ جہنّم ہے ۔

اَفَمَنْ هُوَ قَآىٕمٌ عَلٰى كُلِّ نَفْسٍۭ بِمَا كَسَبَتْۚ-وَ جَعَلُوْا لِلّٰهِ شُرَكَآءَؕ-قُلْ سَمُّوْهُمْؕ-اَمْ تُنَبِّــٴُـوْنَهٗ بِمَا لَا یَعْلَمُ فِی الْاَرْضِ اَمْ بِظَاهِرٍ مِّنَ الْقَوْلِؕ-بَلْ زُیِّنَ لِلَّذِیْنَ كَفَرُوْا مَكْرُهُمْ وَ صُدُّوْا عَنِ السَّبِیْلِؕ-وَ مَنْ یُّضْلِلِ اللّٰهُ فَمَا لَهٗ مِنْ هَادٍ(۳۳)

تو کیا وہ ہر جان پر اس کے اعمال کی نگہداشت رکھتا ہے (ف۹۲) اور وہ اللہ کے شریک ٹھہراتے ہیں تم فرماؤ ان کا نام تو لو (ف۹۳) یااسے وہ بتاتے ہو جو اس کے علم میں ساری زمین میں نہیں(ف۹۴) یایونہی اُوپری (بے معنی)بات (ف۹۵) بلکہ کافروں کی نگاہ میں ان کا فریب اچھا ٹھہرا ہے اور راہ سے روکے گئے(ف۹۶) اور جسے اللہ گمراہ کرے اسے کوئی ہدایت کرنے والا نہیں

(ف92)

نیک کی بھی بد کی بھی یعنی اللہ تعالٰی کیا وہ ان بتوں کی مثل ہوسکتا ہے جو ایسے نہیں نہ انہیں علم ہے نہ قدرت ، عاجز بے شعور ہیں ۔

(ف93)

وہ ہیں کون ؟

(ف94)

اور جو اس کے علم میں نہ ہو وہ باطلِ مَحض ہے ، ہو ہی نہیں سکتا کیونکہ اس کا علم ہر چیز کو محیط ہے لہذا اسکے لئے شریک ہونا باطل وغلط ۔

(ف95)

کے درپے ہوتے ہو جس کی کچھ اصل و حقیقت نہیں ۔

(ف96)

یعنی رُشد و ہدایت اور دین کی راہ سے ۔

لَهُمْ عَذَابٌ فِی الْحَیٰوةِ الدُّنْیَا وَ لَعَذَابُ الْاٰخِرَةِ اَشَقُّۚ-وَ مَا لَهُمْ مِّنَ اللّٰهِ مِنْ وَّاقٍ(۳۴)

انہیں دنیا کے جیتے عذاب ہوگا (ف۹۷) اور بےشک آخرت کا عذاب سب سے سخت ہے اور انہیں اللہ سے بچانے والا کوئی نہیں

(ف97)

قتل و قید کا ۔

مَثَلُ الْجَنَّةِ الَّتِیْ وُعِدَ الْمُتَّقُوْنَؕ-تَجْرِیْ مِنْ تَحْتِهَا الْاَنْهٰرُؕ-اُكُلُهَا دَآىٕمٌ وَّ ظِلُّهَاؕ-تِلْكَ عُقْبَى الَّذِیْنَ اتَّقَوْا ﳓ وَّ عُقْبَى الْكٰفِرِیْنَ النَّارُ(۳۵)

احوال اس جنت کا کہ ڈر والوں کے لیے جس کا وعدہ ہے اس کے نیچے نہریں بہتی ہیں اس کے میوے ہمیشہ اور اس کا سایہ (ف۹۸)ڈر والوں کا تو یہ انجام ہے (ف۹۹) اور کافروں کا انجام آ گ

(ف98)

یعنی اس کے میوے اور اس کا سایہ دائمی ہے ، ان میں سے کوئی منقطع اور زائل ہونے والا نہیں ۔ جنّت کا حال عجیب ہے اس میں نہ سورج ہے نہ چاند نہ تاریکی باوجود اس کے غیر منقطع دائمی سایہ ہے ۔

(ف99)

یعنی تقوٰی والوں کے لئے جنّت ہے ۔

وَ الَّذِیْنَ اٰتَیْنٰهُمُ الْكِتٰبَ یَفْرَحُوْنَ بِمَاۤ اُنْزِلَ اِلَیْكَ وَ مِنَ الْاَحْزَابِ مَنْ یُّنْكِرُ بَعْضَهٗؕ-قُلْ اِنَّمَاۤ اُمِرْتُ اَنْ اَعْبُدَ اللّٰهَ وَ لَاۤ اُشْرِكَ بِهٖؕ-اِلَیْهِ اَدْعُوْا وَ اِلَیْهِ مَاٰبِ(۳۶)

اور جن کو ہم نے کتاب دی (ف۱۰۰) وہ اس پر خوش ہوتے جو تمہاری طرف اترا اور ان گروہوں میں (ف۱۰۱) کچھ وہ ہیں کہ اس کے بعض سے منکر ہیں تم فرماؤ مجھے تو یہی حکم ہے کہ اللہ کی بندگی کروں اور اس کا شریک نہ ٹھہراؤں میں اسی کی طرف بلاتا ہوں اور اسی کی طرف مجھے پھرنا (ف۱۰۲)

(ف100)

یعنی وہ یہود و نصارٰی جو اسلام سے مشرف ہوئے جیسے کہ عبداللہ بن سلام وغیرہ اور حبشہ و نجران کے نصرانی ۔

(ف101)

یہود ونصارٰی و مشرکین کے جو آپ کی عداوت میں سرشار ہیں اورآپ پر انہوں نے چڑھائیاں کیں ہیں ۔

(ف102)

اس میں کیا بات قابلِ انکار ہے کیوں نہیں مانتے ! ۔

وَ كَذٰلِكَ اَنْزَلْنٰهُ حُكْمًا عَرَبِیًّاؕ-وَ لَىٕنِ اتَّبَعْتَ اَهْوَآءَهُمْ بَعْدَ مَا جَآءَكَ مِنَ الْعِلْمِۙ-مَا لَكَ مِنَ اللّٰهِ مِنْ وَّلِیٍّ وَّ لَا وَاقٍ۠(۳۷)

اور اسی طرح ہم نے اسے عربی فیصلہ اتارا (ف۱۰۳) اور اے سننے والے اگر تو ان کی خواہشوں پر چلے گا (ف۱۰۴) بعد اس کے کہ تجھے علم آچکا تو اللہ کے آگے نہ تیرا کوئی حمایتی ہوگا نہ بچانے والا

(ف103)

یعنی جس طرح پہلے انبیاء کو ان کی زبانوں میں احکام دیئے تھے اسی طرح ہم نے یہ قرآن اے سیدِ انبیاء صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم آپ کی زبان عربی میں نازِل فرمایا ۔ قرآنِ کریم کو حکم اس لئے فرمایا کہ اس میں اللہ کی عبادت اور اس کی توحید اور اس کے دین کی طرف دعوت اور تمام تکالیف و احکام اور حلال و حرام کا بیان ہے ۔ بعض عُلَماء نے فرمایا چونکہ اللہ تعالٰی نے تمام خَلق پر قرآن شریف کے قبول کرنے اور اس کے مطابق عمل کرنے کا حکم فرمایا اس لئے اس کا نام حکم رکھا ۔

(ف104)

یعنی کافِروں کو جو اپنے دین کی طرف بلاتے ہیں ۔