الفصل الثالث

تیسری فصل

حدیث نمبر 358

روایت ہے حضرت عثمان ابن ابی العاص سے ۱؎ فرماتے ہیں کہ حضور انورصلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے جو آخری عہد کیا تھا وہ یہ تھا کہ جب تم کسی قوم کی امامت کرو تو انہیں ہلکی نماز پڑھاؤ ۲؎ (مسلم)اس کی دوسری روایت میں ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا اپنی قوم کی امامت کرو فرماتے ہیں میں نے عرض کیا یارسول اﷲ میں اپنے دل میں کچھ پاتا ہوں ۳؎ فرمایا قریب آؤ مجھے اپنے سامنے بٹھایا اپنا ہاتھ میرے سینے پر دو پستانوں کے درمیان رکھا پھر فرمایا پھرو تو اپنا ہاتھ میری پیٹھ میں دو کندھوں کے درمیان رکھا پھر فرمایا اپنی قوم کی امامت کرو ۴؎ جو کسی قوم کا امام ہو تو نماز ہلکی پڑھائے کہ ان میں بڈھے بیمار مریض اور کمزور اور کام کاج والے ہیں اور جب کوئی نماز اکیلے پڑھے تو جیسے چاہے پڑھے۔

شرح

۱؎ آپ ثقفی ہیں،حضورصلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ اور عہد صدیقی و فاروقی میں طائف کے عامل رہے،حضورصلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کے بعد بنی ثقیف نے مرتد ہونا چاہا تو آپ نے فرمایا کہ تم لوگ ایمان میں آخر تھے کفر میں آگے کیوں ہوئے جاتے ہو اور سب کو ارتداد سے روک لیا۔

۲؎ غالبًا آپ کو طائف بھیجتے وقت آخری یہ وصیت فرمائی ہوگی۔

۳؎ امام بننے کی حالت میں کبرو غرور(نووی)یا وسوسے اور برے خیالات یا کمزوری جس کی وجہ سے امامت کی ہمت نہیں پڑتی، ہوسکتا ہے کہ تینوں ہی مراد ہوں۔

۴؎ حضورصلی اللہ علیہ وسلم کے ہاتھ پھیرنے کی برکت سے آپ کے دل کی ساری بیماریاں جاتی رہیں،جرات و ہمت پیدا ہوئی تب یہ حکم دیا گیا۔معلوم ہوا کہ حضورصلی اللہ علیہ وسلم کا ہاتھ دافع البلاء، مشکل کشا ہے،کیوں نہ ہو جب یوسف علیہ السلام کی قمیص یعقوب علیہ السلام کی آنکھ کی بیماریاں دور کرسکتی ہے تو سید الانبیاءصلی اللہ علیہ وسلم کا ہاتھ بلکہ آپ کا لعاب دہن آپ کے تبرکات قلب و قالب کی تمام بیماریاں ایک آن میں دفع کرسکتے ہیں،ان کے سہارے سے کمزور طاقت ور ہوجاتے ہیں اور کم ہمت دلیر صلی اللہ علیہ وسلم۔