أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

الَّذِيۡنَ اِذَا ذُكِرَ اللّٰهُ وَجِلَتۡ قُلُوۡبُهُمۡ وَالصّٰبِرِيۡنَ عَلٰى مَاۤ اَصَابَهُمۡ وَالۡمُقِيۡمِى الصَّلٰوةِ ۙ وَمِمَّا رَزَقۡنٰهُمۡ يُنۡفِقُوۡنَ ۞

ترجمہ:

جب اللہ کا ذکر کیا جائے تو ان کے دل تھرتھرا جاتے ہیں اور وہ مصائب پر صبر کرتے ہیں اور نماز قائم رکھتے ہیں اور ہم نے جو کچھ ان کو دیا ہے اس میں سے خرچ کرتے ہیں

صبر کہاں کرنا چاہیے اور کہاں نہیں 

الحج :35 میں فرمایا : جب اللہ کا ذکر کیا جائے تو ان کے دل تھرتھرا جاتے ہیں، یعنی ان پر اللہ تعالیٰ کے عذاب کے خوف کے آثار ظاہر ہوتے ہیں اور اس خوف کے دو اثر ہیں ایک یہ کہ وہ مشکلات اور مصائب پر صبر کرتے ہیں جیسا کہ اس کے بعد فرمایا اور وہ مصائب پر صبر کرتے ہیں اور یہ سوچ کر پرسکون رہتے ہیں کہ یہ بیماریاں اور تکلیفیں اللہ کی طرف سے آتی ہیں اور جو چیز محبوب کی طرف سے آئے وہ بھی محبوب ہوتی ہی اور جو مظالم ظالموں اور کافروں کی طرف سے آئیں، ان پر صبر کرنا واجب نہیں ہے بلکہ انسان پر واجب ہے کہ حتیٰ الامکان ان مظالم کو دفع کرے خواہ اس کے لئے اس سے جنگ کرنی پڑے اور اس کا دوسرا اثر یہ ہے کہ انسان اپنی جان اور مال سے اللہ کی تعظیم میں مشغول رہے، جان سے اللہ تعالیٰ کی تعظیم نماز پڑھنے میں ہے اور مال سے اس کی تعظیم، اس کی دی ہوئی چیزوں میں سے خرچ کرنے میں ہے اس لئے اس کے بعد فرمایا اور وہ نماز قائم رکھتے ہیں اور جو کچھ ہم نے ان کو دیا ہے اس میں وہ خرچ کرتے ہیں۔

القرآن – سورۃ نمبر 22 الحج آیت نمبر 35