أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

اَفَلَمۡ يَسِيۡرُوۡا فِى الۡاَرۡضِ فَتَكُوۡنَ لَهُمۡ قُلُوۡبٌ يَّعۡقِلُوۡنَ بِهَاۤ اَوۡ اٰذَانٌ يَّسۡمَعُوۡنَ بِهَا‌ ۚ فَاِنَّهَا لَا تَعۡمَى الۡاَبۡصَارُ وَلٰـكِنۡ تَعۡمَى الۡـقُلُوۡبُ الَّتِىۡ فِى الصُّدُوۡرِ ۞

ترجمہ:

سو کیا انہوں نے زمین میں سفر نہیں کیا کہ ان کے دل ایسے ہوتے جن سے یہ سمجھتے یا ان کے کان ایسے ہوتے جن سے یہ غور سے سنتے ! پس حقیقت یہ ہے کہ آنکھیں اندھی نہیں ہوتیں لیکن سینوں میں جو دل ہیں وہ اندھے ہو جاتے ہیں

الحج : ٤٦ میں فرمایا : سو کیا انہوں نے زمین میں سفر نہیں کیا کہ ان کے دل ایسے ہوتے جن سے یہ سمجھتے۔

حافظ اسماعیل بن عمر ابن کثیر دمشقی متوفی 774 ھ لکھتے ہیں :

امام ابن ابی الدنیا نے کتاب التفکر والاعتبار میں اپنی سند کے ساتھ یہر وایت بیان کی ہے۔ کہ اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی طرف یہ وحی کی کہ اے موسیٰ ! آپ لوہے کی دو جوتیاں بنائیں اور لاٹھی لیں اور زمین میں سفر کریں پھر آثار قدرت اور عبرت کی نشانیاں دیکھیں۔ آپ کی جوتی ٹکڑے ٹکڑے ہوجائے گی اور لاٹھی ٹوٹ جائے گی مگر وہ نشانیاں ختم نہیں ہوں گی۔

نیز امام ابن ابی الدنیا نے بعض حکماء کی یہ عبارت نقل کی ہے کہ نصیحت کے ساتھ اپنے دل کو زندہ رکھو اور غور و فکر کے ساتھ دل کو منور کرو، اور زہد اور دنیا سے بےرغبتی کے ساتھ نفس کو مارو اور یقین کے ساتھ اس کو قوی کرو، موت کی یاد سے دل کو ذلیل کرو اور فنا کے یقین سے اس کو صابر بنائو اور زمانے کی مصیبتوں کو دکھا کر اس کو خوفزدہ کرو، دن اور رات کے تعاقب اور تواتر سے اس کو بیدار رکھو، گزشتہ لوگوں کے واقعات سے اسے عبرت دلائو اور پہلے لوگوں کے قصے سنا کر اس کو بیدار رکھو، ان کے شہروں اور ان کے حالات میں اس کو فغور و فکر کرنے کا عادی بنائو اور دیکھو کہ بکاروں اور گناہگاروں کے ساتھ کیسا معاملہ ہوا، وہ کس طرح الٹ پلٹ کردیئے گئے۔ سو اس آیت میں بھی یہی ارشاد ہے کہ پہلی امتوں کے واقعات کو سامنے رکھ کر دلوں کو سمجھدار بنائو اور ان کی تباہی اور بربادی کے واقعات سن کر عبرت حاصل کرو اور یاد رکھو کہ صرف آنکھیں ہی اندھی نہیں ہوتیں، دل بھی اندھے ہوتے ہیں اور سب سے برا اندھا پن دل کا اندھا ہونا ہے، دل اگر اندھا ہو تو انسان نصیحت پکڑتا ہے نہ عبرت حاصل کرتا ہے اور نہ خیر و شکر کی تمیز ہوتی ہے۔ 

ابو محمد عبداللہ بن محمد بن حیان اندلسی شترینی متوفی 517 ھ نے اپنے بعض اشعار میں اس مضمون کو خوب نبھایا ہے، وہ کہتے ہیں کہ :

اے وہ شخص جو گناہوں سے لذت حاصل کر رہا ہے

کیا تو اپنے بڑھاپے اور برے انجام سے بیخبر ہے !

اگر تجھے وعظ سن کر نصیحت حاصل نہیں ہوتی

تو کیا تجھے آنکھوں کے ساتھ دیکھنے سے بھی عبرت حاصل نہیں ہوتی !

سنو آنکھیں اور کان اپنا کام نہ کریں تو

یہ اس قدر برا نہیں جتنا واقعات سے عبرت حاصل نہ کرنا برا ہے !

یاد رکھو یہ دنیا باقی رہے گی نہ آسمان

نہ یہ بلند اور روشن آفتاب اور نہ خوبصورت ماہتاب !

ضرور ایک دن اس دنیا سے کوچ کر جانا ہے

خواہ دل کو ناگوار ہو، خواہ وہ امیر ہو یا غریب، شہری ہو یا دیہاتی 

(تفسیر ابن کثیر ج ٣ ص 253-254 مطبوعہ دارالفکر بیروت 1419 ھ)

غور و فکر کرنے کا محل آیا دل ہے یا دماغ ؟

امام فخر الدین محمد بن عمر رازی متوفی 606 ھ لکھتے ہیں :

کیا یہ آیت اس پر دلالت کرتی ہے کہ عقل علم ہے اور علم کا محل دل ہے ؟ اس کا جواب یہ ہے کہ ہاں ! کیونکہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ فتکون لھم قلوب یعقلون بھا۔ (الحج :46) کہ ان کے دل ایسے ہوتے جن سے یہ سمجھتے اس لئے قلب کو تعقل اور غور و فکر کا محل قرار دینا واجب ہے۔ نیز اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے :

ان فی ذلک لذکری لمن کان لہ قلب (ق : ٣٧) اس قرآن میں ہر اس شخص کے لئے نصیحت ہے جس کا دل ہو۔ (تفسیر کبیرج ٨ ص 234، مطبوعہ داراحیاء التراث العربی بیروت، 1415 ھ)

علامہ ابو عبداللہ محمد بن احمد مالکی قرطبی متوفی 668 ھ لکھتے ہیں :

اس آیت میں قلب کی اضافت دل کی طرف کی ہے کیونکہ دل عقل کا محل ہے جیسا کہ سننے کا محل کان ہیں اور ایک قول یہ ہے کہ عقل کا محل دماغ ہے اور یہ امام ابوحنیفہ سے روایت ہے اور میری رائے میں یہ قول صحیح نہیں ہے۔ (الجامع لاحکام القرآن جز ٢ ۃ ص ٧٢ مطبوعہ دارالفکر بیروت، 1415 ھ)

علامہ ابوالحیان محمد بن یوسف اندلسی متوفی 754 ھ لکھتے ہیں : ایکق وم کے نزدیک غور و فکر کا محل دماغ ہے اور اللہ تعالیٰ نے بیان فرمایا کہ اس کا محل سینہ (دل) ہے۔ (البحر المحیط ج ٧ ص 522، مطبوعہ دارالفکر بیروت، 1412 ھ)

علامہ نووی لکھتے ہیں کہ جو علماء یہ کہتے ہیں کہ عقل دماغ میں ہے، ان کی دلیل یہ ہے کہ جب دماغ فاسد ہو تو عقل فاسد ہوجاتی ہے، اس سے معلوم ہوا کہ قعل دماغ میں ہوتی ہے۔ علامہ نووی اس دلیل کا رد کرتے ہوئے لکھتے ہیں، یہ دلیل صحیح نہیں ہے کیونکہ یہ ہوسکتا ہے کہ عقل دمغا میں نہ ہو لیکن اللہ تعالیٰ کی یہ عادت جاریہ ہو کہ وہ دماغ کے فساد کے قوت عقل کو فاسد کردیتا ہو اور اس میں کوئی استحالہ نہیں ہے۔ (شرح مسلم ج ٢ ص ٢٨، مطبوعہ کراچی :1375 ھ)

علامہ نووی کا یہ جواب صحیح نہیں ہے کیونکہ اس طرح کہا جاسکتا ہے کہ آنکھ سے بصارت کا ادراک نہیں ہوتا اور آنکھ ضائع ہوجانے سے بصارت اس لئے چلی جاتی ہے کہ اللہ تعالیٰ کی یہ عادت جاریہ ہے کہ وہ آنکھوں کے فساد کے وقت بصارت کو فاسد کردیتا ہے اور یہ ہدایت کے خلاف ہے۔

دماغ کے محل عقل ہونے پر دلائل 

عقل کا محل دماغ ہے، اس پر دلیل یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے جس کام کی استعداد اور صلاحیت جس عضو میں رکھی ہے اس کا محل اسی عضو کو بنایا ہے اور یہی اللہ تعالیٰ کی عادت جاریہ ہے اور ہم بداہتہ جانتے ہیں کہ غور و فکر اور سوچ و بچار کا کام دماغ سے لیا جاتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ زیادہ مطالعہ کرنے، زیادہ غور و فکر کرنے اور زیادہ سوچ و بچار سے دماغ تھک جاتا ہے۔ دل کو کوئی تھکاوٹ نہیں ہوتی۔ زیاد ہپڑھنے سے بھی سر میں درد ہوجاتا ہے دل میں کوئی درد نہیں ہوتا، اگر بی بڑھ جانے اور مٹاپے سے عارضہ قلب کی بیماری لاحق ہوجائے اور دل کے دورے پڑنے لگیں تو اس سے انسان کی عقل متاثر نہیں ہوتی۔ اسی طرح بلڈ پریشر بڑھ جانے کی وجہ سے دل کو زیادہ مشقت اور محنت کرنا پڑے تو اس سے بھی عقل کی کارکردگی میں کوئی فرق نہیں پڑتا۔ اس کے برخلاف اگر دماغ کو کوئی بیماری لاحق ہو جیسے عدم ارتکاز، ذہنی انتشار، انجانا خوف، نسیان، مالیخولیا اور جنون وغیرہ تو ان بیماریوں سے عقل کی کارکردگی کم یا فاسد ہوجاتی ہے۔ نیز اگر دماغ پر کوئی چوٹ لگ جائے تو اس سے بھی عقل متاثر ہوتی ہے بعض اوقات دماغ کی چوٹ کی وجہ یس انسان کی یادداشت ختم ہوجاتی ہے، بعض دفعہ سوچنے اور سمجھنے کی صلاحیت کم یا ختم ہوجاتی ہے۔ یہ تمام چیزیں بکثرت مشاہدات اور بداہت سے ثابت ہیں اور ان کا انکار کرنا بداہت کا انکار کرنا ہے، اور سب سے واضح دلیل یہ ہے کہ مغربی ممالک میں بعض لوگوں کا آپریشن سے دل بدل دیا گیا اگر عقل اور ادراک کا محل دل ہوتا تو دل بدل جانے سے پوری شخصیت بدل جانی چاہیے تھی جبکہ ان لوگوں نے بتایا کہ ان کے علوم اور معلومات، احساسات اور جذبات میں کوئی فرق واقع نہیں ہوا۔ اس سے ثابت ہوا کہ عقل کا محل دماغ ہے دل نہیں ہے۔

قرآن اور حدیث میں دل کی طرف عقل اور ادراک کی نسبت کرنے کی توجیہ 

رہا یہ سوال کہ قرآن مجید میں عقل اور ادراک کی نسبت دل کی طرف کی گئی ہے، دماغ کی طرف نہیں کی گیئ۔ اس کا جواب یہ ہے کہ قرآن سائنس کی زبان میں نہیں بلکہ عرف اور ادب کی زبان میں کلام کرتا ہے اور روز مرہ کی گفتگو، عرف، محاورات اور ادبی زبان میں علم و ادراک، سوچ و بچار، احساسات، جذبات، خیالات بلکہ تقریباً دماغ کے تمام افعال کو سینے اور دل کی طرف منسوب کیا جاتا ہے، حتیٰ کہ کسی چیز کے یاد ہونے کو کہتے ہیں کہ وہ تو میرے سینے میں موجود ہے۔ کہتے ہیں کہ میرے دل میں یہ خیال آیا، میرا دل اس کو نہیں مانتا حالانکہ دل تو صرف خون پمپ کا کرنے کا ایک آلہ ہے۔ سائنسی ترقی کے اس دور میں بھی پڑھے لکھے ادیب اور سائنس دان اپنی گفتگو میں الفت اور محبت اور علم اور ادراک کی نسبت دل کی طرف کرتے ہیں دماغ کی طرف نہیں کرتے۔

قرآن مجید میں عام لوگوں کے عرف اور محاورے کے مطابق خطاب ہے، اس پر دلیل یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے :

وانزل من السمآء مآء (لبقرہ : ٢٢) اور اللہ تعالیٰ نے آسمان سے پانی اتارا۔

حالانکہ یہ پانی بخارتا کی صورت میں زمین سے اوپر جاتا ہے اور بارش کی صورت میں نازل ہوتا ہے لیکن چونکہ عرف اور محاورے میں کہا جاتا ہے کہ آسمان سے بارش ہوئی اس لئے اس کے مطابق خطاب فرمایا۔ نیز ارشاد ہے :

حتی اذا بلغ مغرب الشمس وجدھا تغرب فی عین حمئۃ (الکھف :86) یہاں تک کہ جب وہ سورج کے غروب ہونے کی جگہ پہنچے تو انہوں نے اس (سورج) کو سیاہ دلدل کے چشمہ میں غروب ہوتا ہوا دیکھا۔

حالانکہ عقل اور سائنس کے نزدیک سورج کبھی غروب نہیں ہوتا۔ وہ ہمیشہ اپنے مدار میں گھومتا رہتا ہے اور یہ تو بالکل بدیہی ہے کہ سورج چشمہ میں غروب نہیں ہوسکتا لیکن عرف میں ایسا ہی کہتے ہیں۔ مثلاً کہتے ہیں ” سورج پہاڑ کے پیچھے چھپ گیا “ اسی طرح عرف کے مطابق یہاں ارشاد فرمایا ہے۔

میرے شیخ علامہ سید احمد سعید کا ظمی قدس سرہ نے فرمایا قرآن مجید میں عام سطح کے لوگوں اور عرف کے مطابق خطاب کیا ہے اور عقلاء اور سائنس دانوں کی اصطلاح کے مطابق خطاب نہیں کیا کیونکہ اللہ تعالیٰ عقل اور سائنس اور اعلیٰ درجہ کے دماغوں کے مطابق خطاب کرتا تو یہ عام لوگوں کے لئے غیر مانوس ہوتا اور وہ اس سے فائدہ نہ اٹھا سکتے اور یہ چیز اللہ تعالیٰ کی حکمت کے بھی خلاف تھے اور اس کی رحمت کے بھی خلاف تھی۔

ایک حدیث میں صراحتاً عقل اور ادراک کی دل کی نسبت نہیں کی گئی بلکہ انسانی دل کو اخلاق اور عادات کا مرکز قرار دیا ہے اگر دل میں اچھے خیالات ہوں تو انسان کے تمام اعضاء سے اچھے افعال کا ظہور ہوگا لین چونکہ اخلاق کا اچھا برا ہونا بھی انسانی فکر پر موقوف ہے، اس لئے کہا جاسکتا ہے کہ اس حدیث میں فکر کا مرکز دل کو قرار دیا ہے، اور ہمارے نزدیک یہ بھی عرف اور محاورات کے مطابق اطلاق مجازی ہے۔ سا بحث کو مکمل کرنے کے لئے ہم اس سلسلے میں ائمہ مجتہدین اور فقہاء اسلام کے نظریات پیش کریں گے۔ علامہ نووی کے حوالے سے ہم امام شافعی کا نظریہ بیان کرچکے ہیں کہ وہ دل کو عقل کا محل قرار دیتے ہیں۔ اب ہم باقی ائمہ اور فقہاء کے نظریات پیش کریں گے۔ تاہم اس سے پہلے ہم عقل کی تعریف بیان کریں گے۔

عقل کی تعریف میں علماء کے اقوال 

علامہ محمد فرید وجدی لکھتے ہیں :

عقل انسان میں ادراک کرنے کی قوت ہے اور یہ روح کے مظاہر میں سے ایک مظہر ہے اور اس کا محل مخ (مغز) ہے جیسا کہ ابصار روح کے خصائص میں سے ایک خاصہ ہے اور اس کا آلہ آنکھ ہے۔ (دائرۃ المعارف العشرین ج ٦ ص 523)

علامہ میر سید شریف لکھتے ہیں :

عقل وہ قوت ہے جس سے حقائق اشیاء کا ادراک ہوتا ہے۔ ایک قول یہ ہے کہ اس کا محل سر ہے اور ایک قول یہ ہے کہ اس کا محل قلب ہے۔ (کتاب التعریفات ص 65 ایران)

علامہ تفتازانی لکھتے ہیں :

عقل وہ قوت ہے جس میں علوم اور ادراکات کی صلاحیت ہے اور ایک قول یہ ہے کہ عقل ایک جوہر ہے جس سے غائبات کا بالواسطہ اور محسوسات کا بالمشاہدہ ادراک ہوتا ہے۔ (شرح العقائد ص ١٦)

علامہ زبیدی نے اشبطی سے نقل کیا ہے کہ عقل اگر عرض ہے تو وہ نفس میں ایک مکلہ ہے، جس کی وجہ سے نفس میں علوم اور ادراکات کی صلاحیت ہے اور اگر عقل جوہر ہے تو ایک جوہر لطیف ہے جس کی وجہ سے غائبات کا بالواسطہ اور محسوسات کا بالمشاہدہ ادراک ہوتا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اس کو دماغ میں پیدا کیا ہے اور اس کا نور قلب میں ہے۔ (تاج العروس ج ٨ ص 26)

علامہ زبیدی نے علامہ مجد الدین کی اس تعریف کا ذکر کیا ہے :

عقل وہ قوت ہے جس سے اچھی اور بری چیزوں میں تمیز حاصل ہوتی ہے اور علامہ راغب اصفہانی کی یہ تعریف ذکر کی ہے : عقل وہ قوت ہے جس سے قبول علم کی صلاحیت ہے اور لکھا ہے کہ حق یہ ہے کہ عقل قلب یا دماغ میں ایک روحانی نور ہے جس سے نفس علوم بدیہہ اور نظریہ کا ادراک کرتا ہے۔ (تاج العروس ج ٨ ص ٢٥ )

علامہ شرتونی نے لکھا ہے عقل ایک روحانی نور ہے جس سے نفس علوم بدیہیہ اور نظریہ کا ادراک کرتا ہے اور ایک قول یہ ہے کہ وہ ایک طبعی صفت ہے جس کی وجہ سے انسان میں فہم خطاب کی صلاحیت ہوتی ہے۔ (اقرب المواردج ٢ ص 12)

محل عقل کے بارے میں ائمہ مذاہب کے اقوال 

امام ابوحنیفہ نے فرمایا ہے عقل دماغ میں ہے۔

شمس الائمہ سرخسی حنفی لکھتے ہیں :

اگر کوئی شخص کسی کے سر پر ضرب لگائے جس سے اس کی عقلی چلی جائے تو عقل کے جانے کے اعتبار سے اس پر دیت لازم ہوگی اور اس میں موضحہ (ایسی ضرب جس سے ہڈی ظاہر ہوجائے، درختار) کی ارش (جرمانہ) بھی داخل ہوگی اور حسن (رض) کا قول ہے کہ اس میں موضحہ کی ارش داخل نہیں ہوگی، کیونکہ جنایت (ضرب لگانے) کا محل مختل ہے کیونکہ موضحہ کا محل اور ہے برخلاف اس صورت کے جب موضحہ بالوں کے ساتھ ہو۔ ہم یہ کہتے ہیں کہ عقل کا جانا نفس کے تبدیل ہوجانے اور اس کے بہائم (حیوانوں) کے ساتھ لاحق ہوجانے کے مترادف ہے اور یہ بمنزلہ موت ہے، اگر کوئی شخص کسی کے سر پر ایسی ضرب لگائے جس سے ہڈی ظاہر ہوجائے اور وہ اس سے مرجائے تو اس سے پوری دیت لازم آتی ہے اور اس میں سر پر ضرب لگانے کا جرمانہ بھی داخل ہے۔ (المبسوط ج ٢٦ ص ٩٩)

شمس الائمہ سرخسی کے بیان کا حاصل یہ ہے کہ امام ابوحنیفہ کے نزدیک اگر سر پر ضرب لگانے سے مکمل عقل زائل ہوجائے۔ تو پوری دیت لازم ائے گی ورنہ اس کے حساب سے لازم آئے گی اور اس مسئلہ پر یہ د لیل ہے کہ امام اعظم ابوحینفہ کے نزدیک عقل کا محل دماغ ہے۔

امام مالک کے نزدیک بھی عقل کا محل دماغ ہے۔ علامہ سحنون بن سعید تنوخی مالکی لکھتے ہیں :

میں نے امام عبدالرحمٰن بن قاسم سے سوال کیا کہ کسی شخص کے سر پر عمداً ایسی ضرب لگائی گئی جس سے اس کی ہڈی ظاہر ہوگئی اور اس کی سماعت اور عقل چلی گی تو اس مسئلہ میں امام مالک کا کیا قول ہے ؟ امام ابن قاسم نے فرمایا اگر اس نے ایسی ضرب لگائی جس سے ہڈی ظاہر ہوگئی اور وہ دماغ تک پہنچ گئی تو موضحہ کا قصاص لیا جائے گا اور مامومہ (ضرب دماغ تک پہنچنے میں) اس کی عاقلہ دیت ادا کریں گے اور اگر اس نے کسی کے سر پر ایسی ضرب لگائی جس سے اس کی ہڈی ظاہر ہوگئی اور اس کی سماعت اور عقل چلی گی تو اس کے علاج کے بعد دیکھا جائے گا اگر وہ ٹھیک ہوگیا تو موضحہ میں ضارب سے قصاص لیا جائے گا پھر دیکھا جائے گا آیا اس ضرب سے مضروب کی سماعت اور عقل زائل ہوگئی ہے یا نہیں اگر اس کی عقل اور سماعت زائل ہوگئی ہے تو اس کے مال سے سماعت اور عقل کی دیت وصول کی جائے گی اور اگر اس کی سماعت اور عقل زائل نہیں ہوئی ہے تو اس سے علاج کا خرچ وصول کیا جائے گا۔ (المدونتہ الکبریٰ ج ٤ ص 487)

اس مسئلہ سے واضح ہوگیا کہ امام مالک کے نزدیک بھی عقل دماغ میں ہے۔ امام شافعی کے بارے میں ہم پہلے علامہ نووی سے نقل کرچکے ہیں کہ ان کے نزدیک عقل قلب میں ہے۔ امام رازی شافعی کی بھی یہی رائے ہے۔ امام احمد بن حنبل کی رائے بھی یہی معلوم ہوتی ہے کیونکہ حنبلی علماء نے عقل کا مستقر قلب قرار دیا ہے۔

علامہ عبدالرحمٰن محمد بن علی بن محمد جوزی حنبلی متوفی 597 ء لکھتے ہیں :

قلب سایہ جمے ہوئے خون کا ایک لوتھڑا ہے، یہ دل کی کوٹھڑی ہے، نفس کا گھر ہے اور عقل کا مسکن ہے۔ (زاد المسیر ج ١ ص ٢٨ مطبوعہ مکتب اسلامی بیروت، 1412 ھ)

القرآن – سورۃ نمبر 22 الحج آیت نمبر 46