أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

اَلَمۡ تَرَ اَنَّ اللّٰهَ اَنۡزَلَ مِنَ السَّمَآءِ مَآءً فَتُصۡبِحُ الۡاَرۡضُ مُخۡضَرَّة ً ؕاِنَّ اللّٰهَ لَطِيۡفٌ خَبِيۡرٌ‌ ۞

ترجمہ:

کیا آپ نے نہیں دیکھا کہ اللہ نے آسمان سے پانی نازل کیا جس سے زمین سرسبز ہوگئی، بیشک اللہ بہت لطف کرنے والا نہایت خبر رکھنے والا ہے

تفسیر:

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : کیا آپ نے نہیں دیکھا کہ اللہ نے آسمان سے پانی نازل کیا جس سے زمین سرسبز ہوگئی، بیشک اللہ بہت لطف کرنے والا، نہایت خبر رکھنے والا ہے۔ (الحج : ٦٣ )

اللہ اپنی مخلوق پر بہت رحم ہے اور اور ان کی ضروریات کی خبر رکھنے والا ہے، اس لئے اس نے آسمان سے پانی نازل فرما کر زمین میں سبزہ غلہ اور پھل وغیرہ پیدا فرمائے تاکہ انسانوں اور حیوانوں کی غذا کا سامان فراہم ہو اور اس آیت میں یہ دلیل بھی ہے کہ جب اللہ تعالیٰ مردہ زمین کو زندہ کرنے پر قادر ہے تو اس تمام کائنات کو بھی دوبارہ زندہ کرنے پر قادر ہے۔

تبیان القرآن – سورۃ نمبر 22 الحج آیت نمبر 63