أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

اَلَّذِيۡنَ اِنۡ مَّكَّنّٰهُمۡ فِى الۡاَرۡضِ اَقَامُوا الصَّلٰوةَ وَاٰتَوُا الزَّكٰوةَ وَاَمَرُوۡا بِالۡمَعۡرُوۡفِ وَنَهَوۡا عَنِ الۡمُنۡكَرِ‌ ؕ وَلِلّٰهِ عَاقِبَةُ الۡاُمُوۡرِ ۞

ترجمہ:

ان لوگوں کو اگر ہم زمین میں اقتدار عطا فرمائیں تو وہ نماز قائم کریں، زکوۃ ادا کریں اور نیکی کا حکم دیں اور برائی سے روکیں اور تمام کاموں کا انجام اللہ ہی کے اختیار میں ہے

تفسیر:

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : ان لوگوں کو اگر ہم زمین میں اقتدار عطا فرمائیں تو وہ نماز قائم کریں، زکوۃ ادا کریں اور نیکی کا حکم دیں اور برائی سے روکیں اور تمام کاموں کا انجام اللہ ہی کے اختیار میں ہے۔ اگر یہ آپ کی تکذیب کرتے ہیں (تو آپ پریشان نہ ہوں) سو ان سے پہلے نوح کی قوم نے اور عاد نے اور ثمود نے (تکذیب کی تھی) ۔ اور ابراہیم کی قوم نے اور لوط کی قوم نے۔ اور اصحاب مدین نے (بھی تکذیب کی تھی) اور موسیٰ کی تکذیب کی گئی پس میں نے کافروں کو کچھ مہلت دی پھر میں نے ان کو پکڑ لیا تو کیسا تھا میرا عذاب۔ (الحج :41-44 )

خلفاء راشدین کی فضیلت 

الحج : ٤١ میں اقتدار دینے سے مراد ہے ان کو سلطنت اور حکومت عطا فرمانا اور ان کو یہ قوت دینا کہ وہ اپنے احکام کو لوگوں پر نافذ کرسکیں اور اس سے مراد مطلق قدرت نہیں ہے کیونکہ مطلطق قدرت تو ہر شخص کو حاصل ہے لیکن ہر شخص کو یہ قدرت نہیں ہے کہ وہ زمین میں نماز کا نظام قائم کرے، مسلمانوں سے زکوۃ وصول کر کے اس کے مصارف پر خرچ رکے، نیکی کا حکم دے اور برائی سے روکے یعنی لوگوں سے نیک کاموں پر عمل کرائے اور برے کاموں پر ان پر حد اور تعزیر جاری کرے۔

اب رہا یہ کہ ان لوگوں سے مراد کون ہیں اور یہ کن لوگوں کی صفت ہے ؟ اس کا جواب یہ ہے کہ اس سے مراد وہ لوگ ہیں جن کا ذکر اس سے پہلی آیت میں فرمایا ہے : جن لوگوں کو ان کے گھروں سے ناحق نکالا گیا، محض اتنی بات پر کہ وہ کہتے تھے کہ ہمارا رب اللہ ہے۔ (الحج :40) خلاصہ یہ ہے کہ اس سے مراد مہاجرین ہیں اور اس آیت کا مصداق خلفاء راشدین ہیں، کیونکہ ان ہی کو اللہ تعالیٰ نے زمین میں سلطنت عطا فرمائی تھی اور اقتدار دیا تھا اور انہوں نے ہی نمازوں اور زکوۃ کا نظام قائم کیا، نیک کاموں کو پھیلایا اور برے کاموں پر حدود و تعزیرات جاری کیں۔ خلفاء راشدین کے بعد بھی ہرچند کہ نیک اور عادل حکمران آے لیکن خیر اور فلاح کا جو نظام خلفاء راشدین کے عہد میں جاری ہوا تھا، اس کے نظیر بعد کے کسی دور میں نہیں مل سکی۔

جن کو اقتدار عطا کیا جائے گا ان کے مصادیق 

علامہ ابو عبداللہ مالکی قرطی نے اس آیت کے مصداق میں حسب ذیل اقوال نقل کئے ہیں :

(١) یہ چار خلفاء راشدین ہیں، زمین میں ان کے علاوہ اور کسی کو ایسا اقتدار نہیں ملا۔

(٢) حضرت ابن عباس نے کہا اس سے مراد مہاجرین اور انصار ہیں اور جو ان کی نیکی کے ساتھ اتباع کریں۔

(٣) قتادہ نے کہا یہ سیدنا محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے اصحاب ہیں۔

(٤) الحسن اور ابوالعالیہ نے کہا یہ امت اس آیت کا مصداق ہے جب اللہ تعالیٰ اس کو فتح عطا فرماتا ہے تو یہ نمازوں کو قائم کرتی ہے یعنی حکمران۔

(٥) ضحاک نے کہا اللہ تعالیٰ نے ملک اور اقتدار عطا فرمانے کی شرط عائد کی ہے کہ وہ ان چار امور پر عمل کرائیں۔

(٦) سہل بن عبداللہ نے کہا سلطان پر اور جو علماء اس کے پاس آتے ہیں اور ان پر واجب ہے کہ وہ نیکی کا حکم دیں اور برائی سیروکیں، عام لوگوں پر یہ واجب نہیں ہے کہ وہ سلطان اور علماء کو حکم دیں۔ (الجامع لاحکام القرآن جز ١٢ ص 68-69 مطبوعہ دارالفکر بیروت، 1415 ھ)

تبیان القرآن – سورۃ نمبر 22 الحج آیت نمبر 41