أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

اۨلَّذِيۡنَ اُخۡرِجُوۡا مِنۡ دِيَارِهِمۡ بِغَيۡرِ حَقٍّ اِلَّاۤ اَنۡ يَّقُوۡلُوۡا رَبُّنَا اللّٰهُ‌ ؕ وَلَوۡلَا دَ فۡعُ اللّٰهِ النَّاسَ بَعۡضَهُمۡ بِبَـعۡضٍ لَّهُدِّمَتۡ صَوَامِعُ وَبِيَعٌ وَّصَلَوٰتٌ وَّمَسٰجِدُ يُذۡكَرُ فِيۡهَا اسۡمُ اللّٰهِ كَثِيۡرًا‌ ؕ وَلَيَنۡصُرَنَّ اللّٰهُ مَنۡ يَّنۡصُرُهٗ ؕ اِنَّ اللّٰهَ لَقَوِىٌّ عَزِيۡزٌ ۞

ترجمہ:

جن لوگوں کو ان کے گھروں سے ناحق نکالا گیا محض اتنی بات پر کہ وہ کہتے تھے کہ ہمارا رب اللہ ہے، اور اگر اللہ بعض لوگوں کو دوسرے بعض لوگوں سے دور کرتا نہ رہتا تو راہبوں کی خانقاہیں اور کلیسائیں اور یہودیوں کے معبد اور ان جن مسجدوں میں اللہ کا بہت ذکر کیا جاتا ہے ان سب کو ضرور منہدم کردیا جاتا اور جو اللہ (کے دین) کی مدد کرتا ہے اللہ اس کی ضرور مدد فرماتا ہے، بیشک اللہ ضرور قوت والا بہت غلبہ والا ہے

بعض لوگوں کو بعض دوسرے لوگوں سے دور کرنے کا محامل 

الحج :40 میں فرمایا : جن لوگوں کو ان کے گھروں سے ناحق نکالا گیا محض اتنی بات پر کہ وہ کہتے تھے کہ ہمارا رب اللہ ہے ! آیت کے اس حصہ میں اللہ تعالیٰ نے دو وجہوں سے ان کا ظلم بیان فرمایا ہے، ایک وجہ تو یہ ہے کہ ان کو ان کے گھروں سے نکالا گیا اور دوسری وجہ یہ ہے کہ ان کو صرف اس کہنے پر نکالا گیا کہ انہوں نے کہا تھا ہمار ابر اللہ یہ۔

اس کے بعد فرمایا اور اگر اللہ بعض لوگوں کو دور سے بعض لوگوں سے دور کرتا نہ رہتا تو راہبوں کی خانقاہیں اور کلیسائیں اور یہودیوں کے معبد اور جن مسجدوں میں اللہ کا بہت ذکر کیا جاتا ہے، ان سب کو ضرور منہدم کردیا جاتا۔ اس آیت میں جو فرمایا ہے اللہ بعض لوگوں کو دور سے بعض لوگوں سے دور فرماتا رہتا ہے۔ اس کے حسب ذیل محامل ہیں۔

(١) اس سے مراد ہے مسلمانوں کو کفار کے خلاف جہاد کی اجازت دینا گویا اللہ تعالیٰ نے فرمایا اللہ مسلمانوں کو مشرکین کے خلاف جہاد کی اجازت دے کر ان سے کفار اور مشرکین کو دور فرماتا ہے اور اگر اللہ یہ اجازت نہ دیتا تو مشرکین مسلمانوں کی عبادگاہوں پر قبضہ کرلیتے اور اسی وجہ سے راہبوں کی خانقاہوں، کلیسائوں اور یہودیوں کے معبد کا بھی ذکر فرمایا۔ ہرچند کہ یہ غیر اہل اسلام کی عبادت گاہیں ہیں۔

(٢) جو مسلمان عذر کی وجہ سے جہاد نہیں کرسکتے، ان سے جہاد کی مشقت کو جہاد کرنے والے مسلمانوں کے سبب سے دور فرما دیتا ہے۔

(۳) اللہ تعالیٰ نیک لوگوں کی وجہ سے برے لوگوں سے عذاب کو دور فرما دیتا ہے۔ سو نمازیوں کی برکت سے بےنمازوں کے عذاب کو دور فرما دیتا ہے اور صدقہ کرنے والوں کی وجہ سے ان سے عذاب کو دور کردیتا ہے جو صدقہ نہیں کرتے اور حج کرنے والوں کی وجہ سے ان سے عذاب کو دور کردیتا ہے جو حج نہیں کرتے۔

حضرت ابن عمر (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا، بیشک اللہ نیک مسلمان کے سب سے اس کے پڑوس کے سو گھروں سے مصائب کو دور کردیتا ہے۔ (الکامل لابن عدی ج و ص 274، جدید العقیلی ج ٤ ص 404، مجمع الزوائد ج ٩ ص 167، اس کی سند ضعیف ہے)

حضرت ابوہریرہ (رض) بیان کرتے ہیں کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : نیکی میں سبقت کرو، نیکی میں سبقت کرو، اگر نوجوان اللہ سے ڈرنے والے اور بوڑھے نمازیں پڑھنے والے اور چرنے والے چوپائے نہ ہوتے تو سب پر آندھیوں کا عذاب آجاتا۔ (مسند ابویعلی رقم الحدیث :6402، مسند البز اور رقم الحدیث :2193 مسند البزار رقم الحدیث :2193 السنن الکبریٰ للبیہقی ج ٣ ص 345 تاریخ بغداد ج ٦ ص 64 مجمع الزوائد ج 10 ص 227، 230 المطالب العالیہ رقم الحدیث :3185)

یہود و نصاریٰ کی عبادت کے مقامات اور مسلمانوں کی عبادت کے مقام کو جمع کرنے کی توجیہات 

(١) حسن نے کہا، ان مقامات سے مراد مومنوں کی عبادات کے مقامات ہیں خواہ وہ کسی مذہب کے مومنین ہوں۔

(٢) زجاج نے کہا اگر اللہ ہر نبی کی شریعت میں بعض لوگوں کو بعض لوگوں سے دور نہ کرتا تو کسی نبی کے زمانہ میں نماز پڑھنے کی جگہ سلامت نہ رہتی، اور اگر اللہ بعض شریروں اور مفسدوں کو نیک لوگوں سے دور نہ کرتا تو حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے زمانہ میں ان کی عبادت گاہیں قائم نہ رہتیں اور حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) یک زمانہ میں ان کے معبد سلامت نہ رہتے اور ہمارے نبی سیدنا محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے زمانہ میں آپ کی مسجدیں باقی نہ رہتیں۔ اس بناء پر یہودیوں اور عیسائیوں کی عبادت گاہوں سے اس وقت تک مفسدوں کو دور رکھا گیا جب تک وہ دین حق پر قائم تھے اور انہوں نے اپنے دین میں تحریف نہیں کی تھی اور ان کی شریعت منسوخ نہیں کی گئی تھی۔

(٣) اس سے مراد یہ ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے زمانہ میں بھی ان کے معاہد کی حفاظت کی گئی کیونکہ ان عبادت گاہوں میں بہرحال اللہ تعالیٰ کا نام لیا جاتا ہے اور وہ بت پرستوں اور مشرکوں کے بت کدوں اور مندروں کی طرح نہیں ہیں۔

(٤) اگر قتال اور جہاد کو مشروع نہ کیا جاتا تو کسی زمانہ میں اور کسی نبی کی امت میں بھی اہل حق کی عبادت گاہیں محفوظ نہ رہتیں۔

الصوامع، البیع اور صلوات کے معانی 

صوامع، صومعتہ کی جمع ہے، صومعتہ اس بلند عمارت کو کہتے ہیں جس کا بالائی حصہ محدب (گائوں دم) ہو، عیسائی چونکہ اپنے عبادت خانوں کا سرا بنلد، باریک اور گائوں دم بناتے ہیں، اس لئے اس کو صومعہ کہتے ہیں۔

علامہقرطبی نے لکھا ہے کہ اسلام سے پہلے صوامع نصاریٰ کے راہبوں کے ساتھ مخصوص تھے اور صائبین (آتش پرست) گرجوں کے ساتھ مختص تھے پھر بعد میں مسلمانوں کی اذان کی جگہ کو صومعہ کہا جانے لگا۔ (الجامع لا حکام القرآن جز 12 ص 67)

یع : یہ بیع کی جمع ہے عبادت خانہ، اس کا معنی ہے یہود و نصاریٰ کا عبادت خانہ اور گرجا۔ علامہ قرطبینے لکھا ہے کہ یہ عیسائیوں کا معبد ہے اور امام طبری نے لکھا ہے یہ یہودیوں کی عبادت گاہ ہے۔ (الجامع لاحکام القرآن جز ١٢ ص 67)

صلوات : یہ صلوۃ کی جمع ہے۔ اس کا معنی ہے رحمتیں، دعائیں، نمازیں عبادت خانے۔ علامہ قرطبی نے لکھا ہے حضرت ابن عباس نے فرمایا الصلوت سے مراد ہے یہود و نصاریٰ کی عبادت گاہیں۔ ابوالعالیہ نے کہا اس سے مراد ہے صائبین کی مساجد۔ ابن زیاد نے کہا اس سے مراد ہے جب دشمنان اسلام کے حملوں کی وجہ سے مسلمانوں کی مساجد ویران ہوجائیں اور ان میں نمازیں معطل ہوجائیں۔ (الجامع لاحکام القرآن جز ١٢ ص 67)

امام فخر الدین محمد بن عمر رازی متوفی 606 ھ لکھتے ہیں۔ الصوامع، البیع الصلوات اور المساجد کے حسب ذیل محامل ہیں :

(١) ابوالعالیہ نے کہا الصوامع نصاریٰ کی وہ عبادت گاہیں ہیں اور البیع یہودیوں کی عبادت گاہیں اور صلوات، صائبین کی عبادت گاہیں ہیں اور مساجد مسلمانوں کی عبتاد گاہیں ہیں۔

(٢) زجاج نے کہا الصوامع نصاریٰ کی وہ عبادت گاہیں ہیں جن کو انہوں نے صحرا میں بنایا تھا اور البیع ان کی وہ عبادت گاہیں ہیں جن کو انہوں نے شہروں میں بنایا تھا اور صلوات یہودیوں کی عبادت گاہیں ہیں عربانی میں اس کو صلوتا کہتے ہیں۔

(٣) قتادہ نے کہا الصوامع صائبین کے لئے ہیں، البیع نصاریٰ کے لئے اور صلوات یہود کے لئے۔

(٤) حسن نے کہا یہ تمام مساجد کے اسماء ہیں۔ رہا الصوامع تو وہ اس لئے ہے کہ کبھی مسلمان اس طرز کی مساجد بناتے ہیں اور رہا البیع تو یہ اس لئے کہ مسلمانوں کی مساجد پر اس کا تشیباً اطلاق ہے اور رہا الصلوات تو اس کا معنی یہ ہے کہ اگر اللہ تعالیٰ مفسدوں کو دور نہ کرتا تو نمازیں معطل ہوجاتیں اور مساجد منہدم اور ویران ہوجاتیں۔ (تفسیر کبیرج ٨ ص 230 مطبوعہ دارالفکر بیروت، 1415 ھ)

القرآن – سورۃ نمبر 22 الحج آیت نمبر 40