حشر میں سوال ہوگا

اللہ تعالیٰ نے قراٰن پاک میں لڑکی کے ساتھ کی جانے والی ناانصافی پر آخرت کی وعید بھی بیان فرمائی تا کہ صرف یہ سمجھ لیا جائے کہ جھالت کے مقابل اسلام کا طریقہ پسندیدہ ہے بلکہ سراسر ناانصافی اور ظلم ہے اسے کبھی بھی روا نہیں رکھا جا سکتا، اور اسکا تعلق حقوق العباد کی پامالی سے ہے صاحب حق معاف نہ کرے معاف بھی نہ کیا جائے گا،اللہ تعالیٰ فرماتا ہے واذا الموٗدۃ سئلت بای ذنب قتلت،اور زندہ درگور سے پوچھا جائے گا کہ کس گناہ کے لئے قتل کی گئی؟ اللہ کو معلوم ہی ہے کہ لڑکی کا کوئی قصور نہیں،اس لئے کہ اسے تو بچپن ہی میں قتل کر دیا گیا تھا،اور اسے مار ڈالنے والے کو بھی معلوم ہے کہ میں نے بغیر قصور کے صرف لڑکی ہونے کی وجہ سے مار ڈالا ہے،مگر اسے میدان محشر میں صرف حجت کے لئے پوچھا جائے گا،لڑکی ہونے میں اسکا کیا قصور ؟اللہ نے چاہا کہ وہ لڑکی ہو تو لڑکی ہوئی،نہ پیدا ہونے میں اسکی اپنی چاہت نہ نر اور مادہ ہونے میں اسکی اپنی چاہت،کیا اسے اللہ کی جو چاہت اسکے ساتھ متعلق ہوئی اسکی وجہ سے مجرم ٹھرایا گیا؟ تو کیا اللہ کے ارادہ کو جرم سمجھا جا رہا ہے؟اللہ قادر قیوم ہے،فعال لما یرید ہے،مالک علی الاطلاق ہے اس کے ارادہ پر روک لگانے والا کون؟اس کے فعل پر چون و چرا کرنے کی کسکی جراٗت؟لایسئل عما یفعل وہم یسئلون،اس سے نہیں پوچھا جاتا جو وہ کرے اور ان سب سے سوال ہوگا،خلاصہٗ کلام یہ کہ لڑکیوں کو مارڈالنا بہت بڑا جرم ہے