أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

ذٰ لِكَ‌ۚ وَمَنۡ عَاقَبَ بِمِثۡلِ مَا عُوۡقِبَ بِهٖ ثُمَّ بُغِىَ عَلَيۡهِ لَيَنۡصُرَنَّهُ اللّٰهُ ‌ؕ اِنَّ اللّٰهَ لَعَفُوٌّ غَفُوۡرٌ ۞

ترجمہ:

اور یہ اس لئے ہے کہ جس نے اتنی ہی اذیت پہنچائی جتنی اسے اذیت پہنائی گئی تھی، پھر اس پر زیادتی کی گی تو اللہ اس کی ضرور مدد فرمائے گا، بیشک اللہ ضرور بہت معاف کرنے والا بہت بخشنے والا ہے

تفسیر:

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : اور یہ اس لئے ہے کہ جس نے اتنی ہی اذیت پہنچائی جتنی اسے اذیت پہنچائی جتنی اسے اذیت پہنچائی گی تھی، پھر اس پر زیادتی کی گئی تو اللہ کی ضرور مدد فرمائے گا بیشک اللہ ضرور بہت معاف کرنے والا، بہت بخشنے والا ہے۔ (الحج :60)

سزا بہ قدر جرم دینا عدل ہے 

یعنی ہم نے تم سے جو بیان کیا ہے، وہ اسی طرح ہے، مقاتل نے کہا یہ آیت مکہ کے ان مشرکین کے متعلق نازل ہوئی جب رجب شروع ہونے سے دو دن پہلے مسلمانوں کے ساتھ مشرکوں کا ٹکرائو ہوا۔ انہوں نے آپس میں کہا (سیدنا) محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے اصحاب حرمت والے مہینوں میں قتال مکروہ جانتے ہیں سو انہوں نے مسلمانوں پر حملہ کیا، پس مسلمانوں ثابت قدم رہے اور اللہ نے مشرکین کے خلاف ان کی مدد فرمائی پھر حرمت والے مہینوں میں جنگ کرنے کی وجہ سے مسلمانوں کے دل میں خطرہ پیدا ہوا تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی۔ (جامع البیان جز 17 ص 256 زاد المسیر ج ٥ ص 426)

جس شخص نے کسی شخص کو اس کے جرم کی اتنی ہی سزا دی جتنا اس کا جرم ہے تو یہ جرم نہیں بلکہ عدل اور انصاف ہے۔ مثلاً کسی شخص نے کسی کا دانت توڑا تو اس کا دانت توڑنا جرم ہے اور اس کے بدلے میں اس کا دانت توڑنا عدل اور انصاف ہے۔ قرآن مجید میں ہے :

وجزآء سینۃ سیئۃ مثلھا (الشوری : ٤٠) قمن اعتدی علیکم فاعتدوا علیہ بمثل ما اعتدی علیکم (البقرہ :194) برائی کا بدلہ اس کی مثل برائی ہے۔ جس نے تم پر زیادتی کی تو تم بھی اس کے اوپر اتنی ہی زیادتی کرو جتنی اس نے تم پر زیادتی کی ہے۔

قصاص کے تمام احکام اسی اصول پر مبنی ہیں۔

تلوار سے قصاص لینے میں اختلاف فقہاء 

امام فخر الدین محمد ابن عمر رازی متوفی 727 ھ لکھتے ہیں :

امام شافعی (رح) نے فرمایا جس شخص نے کسی کو آگ سے جلایا ہم اس کو آگ سے جلانے کی سزا دیں گے اور جس شخص نے کسی کو دریا میں غرق کیا ہم اس کو دریا میں غرق کرنے کی سزا دیں گے اور امام ابوحنیفہ نے فرمایا بلکہ قاتل کو تلوار سے قتل کیا جائے گا۔ امام شافعی (رح) نے اس آیت سے استدلال فرمایا ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ نے مظلوم کے لئے یہ جائز قرار دیا یہ کہ وہ ظالم سے ویسا ہی بدلہ لے جیسا اس نے مظلوم پر ظلم کیا ہے اور اس کی نصرت کا وعدہ فرمایا ہے۔ (تفسیر کبیرج ٨ ص 246 مطبوعہ داراحیاء التراث العربی بیروت، 1415 ھ)

امام ابوحنیفہ پر امام رازی کے اعتراض کا جواب 

ہم کہتے ہیں کہ قصاص (بدلہ) لینے میں مماثلت واجب نہیں ہے مثلاً ایک شخص دوسرے کو کہے اے زانی ! اور وہ بھی بدلہ لینے کے لیے اس کو کہے تم زانی ہو یا اے زانی کہے تو دونوں پر حد قذف لگے گی۔ اس سے معلوم ہوا کہ قصاص میں مماثلت شرعی حدود کے اندر ہوگی اور جو شخص کسی کو آگ میں جلا دے اس کے بدلہ میں اس کو آگ میں جلانا صحیح نہیں ہے۔ حدیث میں ہے :

حضرت ابوہریرہ (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ہم کو ایک لشکر میں بھیجا اور فرمایا گر تم کو فلاں فلاں شخص مل جائیں تو ان کو آگ میں جلا دینا، پھر جب ہم نکلنے لگے تو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : میں نے یہ حکم دیا تھا کہ ان دونوں کو آگ میں جلا دینا لیکن آگ کا عذاب اللہ کے سوا کئو نہیں دیتا، اگر تم کو وہ دونوں مل جائیں تو تم ان دونوں کو قتل کردینا۔ (صحیح البخاری رقم الحدیث :3016 سنن ابودائود رقم الحدیث :2674 مسند احمد رقم الحدیث :8054 عالم الکتب)

عکرمہ بیان کرتے ہیں کہ حضرت علی (رض) نے کچھ لوگوں کو آگ میں جلا دیا۔ حضرت ابن عباس (رض) کو یہ خبر پہنچی تو انہوں نے کہا اگر میں ہوتا تو ان کو آگ میں نہ جلاتا، کیونکہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اللہ کے عذاب سے عذاب مت دو اور میں ان کو ضرور قتل کردیتا کیونکہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا ہے جو شخص اپنا دین بدلے اس کو قتل کردو۔ (صحیح البخارق ریم الحدیث :3017 سنن ابو دائود رقم الحدیث :1871 عالم الکتب مسند حمیدی رقم الحدیث :533)

امام اعظم ابوحنیفہ فرماتے ہیں کہ تلوار کے سوا کسی چیز سے قصاص لینا جائز نہیں، ان کی دلیل یہ حدیث ہے :

حضرت نعمان بن بشیر (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : تلوار کے سوا اور کسی چیز کے ساتھ قصاص لنیا جائز نہیں ہے۔ یہ حدیث حضرت ابوبکرہ سے بھی مروی ہے۔ (سنن ابن ماجہ رقم الحدیث :2667, 2668 سنن دار قطنی ج ٣ ص 106 سنن بیہقی ج ٣ ص 63، ج ٨ ص 42 مصنف ابن ابی شیبہ ج ٩ ص 354 المعجم الکبیر رقم الحدیث :10044 مجمع الزوائد ج ٦ ص 291 کنز العمال رقم الحدیث :39807)

بدلہ لینے کے بجائے معاف کردینا بہتر ہے 

اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے :

وجزآء سیئۃ سیئۃ مثلھا فمن عفا و اصلح فاجرہ علی اللہ انہ لایحب الظلمین۔ (الشوری :40) او برائی کا بدلہ اسی کی مثل برائی ہے، پس جس شخص نے معاف کردیا اور اصلاح کرلی تو اس کا اجر اللہ کے ذمہ کرم پر ہے، بیشک وہ ظالموں سے محبت نہیں کرتا۔

ولمن صبروغفران ذلک لمن عزم الامسور۔ (الشوری : ٤٣) اور جس نے صبر کیا اور معاف کردیا تو وہ ہمت کے کاموں میں سے ہے۔

وان تعفوآ اقرب للتقویٰ (البقرہ :237) اور گار تم معاف کردو تو یہ پرہیز گاری کے زیادہ قریب ہے۔ زیر تفسیر آیت میں بدلہ لینے کی اجازت دینے کے بعد فرمایا ہے : بیشک اللہ ضرور بہت معاف کرنے ولا بہت بخشنے والا ہے۔

اس کی وجہ یہ ہے کہ سورة شوریٰ میں فرمایا ہے افضل اور اولیٰ یہ ہے کہ انسان اپنا بدلہ نہ لے اور صبر کرے اور معاف کر دے، لیکن اگر اس نے تقاضائے بشریت سے بدلہ لے لیا تو اللہ تعالیٰ نے فرمایا میں اس کی اس تقصیر کو معاف کر دوں گا کیونکہ میں نے ہی اس کو بدلہ لینے کی اجازت دی تھی۔ اللہ تعالیٰ نے اس آیت کے آخر میں معاف کرنے اور بخشنے کا اس لئے ذکر فرمایا ہے کہ اللہ تعالیٰ کریم ہے وہ اپنے بندہ کو عاف کردیتا ہے اور سزا نہیں دیتا تو بندہ کو بھی چاہیے کہ وہ بھی بدلہ نہ لے اور معاف کر دے اور اپنے رب تبارک و تعالیٰ کی صفت کا مظہر بنے۔

ہمارے نبی سیدنا محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی بھی یہی سیرت ہے کہ آپ بدلہ نہیں لیتے تھے، معاف فرما دیتے تھے۔

حضرت عائشہ (رض) بیان کرتی ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) طبعاً بےہودہ باتیں کرتے تھے نہ تکلفاً اور نہ بازار میں چلاتے تھے اور برائی کا بدلہ برائی سے نہیں لیتے تھے لیکن معاف کردیتے تھے اور درگزر کرتے تھے۔ (سنن الترمذی رقم الحدیث :2016، مسند احمد ج ٦ ص 174، مصنفابن ابی شیبہ ج ٨ ص 330، صحیح ابن حبان رقم الحدیث :6409 سنن بیہقی ج ٧ ص 45)

حضرت عائشہ (رض) بیان کرتی ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر جب بھی زیادتی کی گئی میں نے آپ کو کبھی اس کا بدلہ لیتے ہوئے نہیں دیکھا ماسوا اس کے کہ اللہ کی حدود کو توڑا جائے اور جب اللہ کی حدود کو تواڑ جاتا تو آپ سب سے زیادہ غضب فرمانے والے تھے، اور آپ کو جب بھی دو چیزوں کا اختیار دیا جاتا تو آپ ان میں سے آسان جانب کو اختیار فرماتے تھے بہ شرطی کہ وہ جانب گناہ نہ ہو۔ (صحیح البخاری رقم الحدیث :3560, 6146 صحیح مسلم رقم الحدیث :2327 سنن ابو دائود رقم الحدیث :4785 مسند احمد ج ٦ ص 85)

تبیان القرآن – سورۃ نمبر 22 الحج آیت نمبر 60