أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

ذٰ لِكَ بِاَنَّ اللّٰهَ يُوۡلِجُ الَّيۡلَ فِى النَّهَارِ وَيُوۡلِجُ النَّهَارَ فِى الَّيۡلِ وَاَنَّ اللّٰهَ سَمِيۡعٌۢ بَصِيۡرٌ‏ ۞

ترجمہ:

یہ اس لئے ہے کہ اللہ رات کو دن میں داخل فرماتا ہے اور دن کو رات میں داخل فرماتا ہے اور بیشک اللہ بہت سننے والا بہت دیکھنے والا ہے

تفسیر:

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : یہ اس لئے ہے کہ اللہ رات کو دن میں داخل فرماتا ہے اور دن کو رات میں داخل فرماتا ہے اور بیشک اللہ بہت سننے والا بہت دیکھنے والا ہے۔ (الحج :61)

رات کو دن میں اور دن کو رات میں داخل کرنے کا محمل 

اللہ نے اس سے پہلی آیت میں جو فرمایا ہے کہ وہ مظلوم کی مدد پر قادر ہے یہ ارشاد اسی طرح ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ بہت قادر ہے اور یہ اس کی قدرت کے آثار میں سے ہے کہ وہ رات کو دن میں داخل فرماتا ہے اور دن کو رات میں داخل فرماتا ہے۔ سو جو رات اور دن میں تصرف فرما ات ہے وہ مصیبت زدہ کی مدد پر ضرورقادر ہے۔

رات کو دن میں اور دن کو رات میں داخل کرنے کا محمل یہ ہے کہ جب اندھیرا چلا جاتا ہے تو روشنی آجاتی ہے اور جب روشنی چلی جاتی ہے تو اندھیرا چھ جاتا ہے اور اس کا دوسرا محمل یہ ہے کہ اللہ کبھی راتوں کی مقدار کم کر کے دن کو زیادہ کردیتا ہے اور بکھی دن کی مقدار کم کر کے رات کو زیادہ کردیتا ہے۔

تبیان القرآن – سورۃ نمبر 22 الحج آیت نمبر 61