أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

فَكَاَيِّنۡ مِّنۡ قَرۡيَةٍ اَهۡلَكۡنٰهَا وَهِىَ ظَالِمَةٌ فَهِىَ خَاوِيَةٌ عَلٰى عُرُوۡشِهَا وَبِئۡرٍ مُّعَطَّلَةٍ وَّقَصۡرٍ مَّشِيۡدٍ‏ ۞

ترجمہ:

پس ہم نے کتنی ہی بستیوں کو ہلاک کردیا جو ظالم تھیں سو اب وہ اپنی چھتوں پر گری ہوئی پڑی ہیں اور بہت سے غیرآباد کنوئیں اور بہت سے مضبوط محل

تفسیر:

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : پس ہم نے کتنی ہی بستیوں کو ہلاک کردیا جو ظالم تھیں سو اب وہ اپنی چھتوں پر گری ہوئی پڑی ہیں اور بہت سے غیر آباد کنوئیں اور بہت سے مضبوط محل۔ سو کیا انہوں نے زمین میں سفر نہیں کیا کہ ان کے دل ایسے ہوتے جن سے یہ سمجھتے یا ان کے کان ایسے ہوتے جن سے غور سے سنتے ! پس حقیقت یہ ہے کہ آنکھیں اندھی نہیں ہوتیں لیکن سینوں میں جو دل ہیں وہ اندھے ہوجاتے ہیں۔ (الحج :45-46)

پچھلی امتوں کے واقعات سے عبرت حاصل کرنا 

الحج : ٤٥ میں یہ بیان فرمایا : ہم نے کتنی ایسی بستیوں کو فنا کے گھاٹ اتار دیا جن میں ظالم لوگ رسولوں کی تکذیب کرتے تھے، جن بستیوں کے محلات کھنڈر بن چکے ہیں اور اوندھے منہ گرے ہوئے ہیں، ان کی منزلیں ویران ہوگئیں ان کے کنوئیں خالی پڑے ہوئے ہیں، چونے اور پتھروں سے بنائے ہوئے ان کے مضبوط اور بلند وبالا محلات زمین بوس ہوگئے ان کی خوب صورتی اور مضبوطی عبث اور بےکار ثابت ہوئی۔ اللہ کے عذاب نے ان کو تہس نہس کردیا۔

تبیان القرآن – سورۃ نمبر 22 الحج آیت نمبر 45