أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

قُلۡ يٰۤاَيُّهَا النَّاسُ اِنَّمَاۤ اَنَا لَـكُمۡ نَذِيۡرٌ مُّبِيۡنٌ‌ۚ‏ ۞

ترجمہ:

آپ کہیے اے لوگو ! میں تمہیں واضح طور پر عذاب سے ڈرانے والا ہوں

تفسیر:

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : آپ کہیے اے لوگو ! میں تمہیں واضح طور پر عذا سے ڈرانے والا ہوں۔ سو جو لوگ ایمان لائے اور انہوں نے نیک اعمال کئے، ان کے لئے مغفرت ہے اور عزت کی روزی ہے۔ اور جو لوگ ہماری آیتوں کی تکذیب میں سرتوڑ کوشش کرتے ہیں، وہی دوزخ والے ہیں۔ (الحج :49-51)

آپ کو پغیام حق سنانے میں ثابت قدم رکھنا 

الحج :49 میں فرمایا : آپ کہیے اے لوگو ! میں تمہیں واضح طور پر عذاب سے ڈرانے والا ہوں۔ اس کا معنی یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول کو یہ حکم دیا کہ آپ دائمی طور پر مستقلاً ان کو اللہ کے عذاب سے ڈراتے رہیں اور مشرکین مکہ جو آپ کا انکار اور آپ کی تکذیب کرتے ہیں اور آپ کا مذاق اڑاتے ہوئے یہ پوچھتے ہیں کہ آپ جس عذاب سے ہم کو ڈرا رہے ہیں، وہ آخر کب آئے گا ؟ تو آپ اس سے دل برداشتہ اور رنجیدہ نہ ہوں، اور ان سے کہیں کہ میں تو تم کو صرف عذاب سے ڈرانے کے لئے بھجیا گیا ہوں اور تمہاری یہ تندوتیز اور طنز آمیز باتیں اور تمہاری یہ تضحیک مجھے اپنا مشن پورا کرنے اور عذاب سے ڈرانے سے نہیں روکیں گی۔

تبیان القرآن – سورۃ نمبر 22 الحج آیت نمبر 49