أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

لَهٗ مَا فِى السَّمٰوٰتِ وَمَا فِى الۡاَرۡضِ‌ ؕ وَاِنَّ اللّٰهَ لَهُوَالۡغَنِىُّ الۡحَمِيۡدُ۞

ترجمہ:

اسی کی ملک میں ہے جو کچھ آسمانوں میں ہے اور جو کچھ زمینوں میں ہے، اور بیشک اللہ ہی بےنیاز ہے تمام تعریفیں کیا ہوا ؏

تفسیر:

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : اسی کی ملکیت میں ہے جو کچھ آسمانوں میں ہے اور جو کچھ زمینوں میں ہے اور بیشک اللہ ہی بےنیاز ہے، تمام تعریفیں کیا ہوا۔ (الحج ٦٤) 

اس آیت کا معنی یہ ہے کہ تمام کائنات اپنے اختیار سے یا بغیر اختیار کے اللہ تعالیٰ کی اطاعت کر رہی ہے اور اللہ تعالیٰ اس کائنات میں ہر قسم کا تصرف فرما رہا ہے اور وہ ہر چیز سے مستغنی ہے اور وہ کسی کی تعریف کرنے سے بھی مستغنی ہے۔ اس نے مخلقو کو پیدا کیا اور اپنی حکمت سے آسمان سے پانی برسایا اور زمین سے اناج پیدا فرمایا۔ یہ اس کی انسانوں اور حیوانوں پر رحمت ہے اور اس کا انعام اور احسان ہے، اسے اس کی ضرورت اور غرض نہ تھی سو وہی حمد کا مستحق ہے، اس لئے اس کا حمد کیا ہوا ہونا واجب ہے۔

تبیان القرآن – سورۃ نمبر 22 الحج آیت نمبر 64