أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

لِّيَجۡعَلَ مَا يُلۡقِى الشَّيۡطٰنُ فِتۡـنَةً لِّـلَّذِيۡنَ فِىۡ قُلُوۡبِهِمۡ مَّرَضٌ وَّالۡقَاسِيَةِ قُلُوۡبُهُمۡ‌ ۚ وَ اِنَّ الظّٰلِمِيۡنَ لَفِىۡ شِقَاقٍۭ بَعِيۡدٍۙ ۞

ترجمہ:

تاکہ اللہ شیطان کے ڈالے ہوئے شبہات کو ان لوگوں کے لئے آزمائش بنا دے جن کے دلوں میں بیماری ہے اور جن کے دل سخت ہوچکے ہیں، بیشک ظالم لوگ بہت دور کی مخالفت میں ہیں

تفسیر:

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : تاکہ اللہ شیطان کے ڈالے ہوئے (شبہات) کو ان لوگوں کے لئے آزمائش بنا دے جن کے دلوں میں بیماری ہے اور جن کے دل سخت ہوچکے ہیں، بیشک ظالم لوگ بہت دور کی مخالفت میں ہیں۔ (الحج : ٥٣ )

جن کے دلوں میں بیماری ہے، ان سے مراد منافقین ہیں جن کے دلوں میں شکوک اور شبہات کی بیماری ہے اور جن کے دل سخت ہوچکے ہیں ان سے مراد کفار ہیں۔ شیطان نے یہ شبہات ڈالے تھے کہ قرآن مجید میں فرمایا ہے کہ دوزخ میں شجرۃ الزقوم ہے تو آگ میں درخت کیسے ہوسکتا ہے ؟ اور اللہ تو سب سے بڑا ہے اس نے مچھر کی مثال کیوں دی ہے، اسی طرح کے دوسرے شبہات ڈالے جن کا بیان گزر چکا ہے۔ سو منافقین تو ان شبہات کی بنیاد پر اسلام کے خلاف مہم چلائیں گے اور کفار کو دوسرے شبہات ڈالے جن کا بیان گزر چکا ہے۔ سو منافقین تو ان شبہات کی بنیاد پر اسلام کے خلاف مہم چلائیں گے اور کفار و ان شبہات کی وجہ سے اپنی ہٹ دھرمی پر ڈٹے رہنے کا اور موقع ملے گا۔

تبیان القرآن – سورۃ نمبر 22 الحج آیت نمبر 53