تحریر.. پروفیسر عون محمد سعیدی مصطفوی بہاولپور

(مستحبات کے باب میں ایک بہت بڑی ٹھوکر)

مستحبات کے باب میں جہاں وہابیہ دیابنہ نے ٹھوکر کھائی کہ انہیں حرام و قبیح قرار دیا وہاں اہل سنت نے بھی بہت بڑی ٹھوکر کھائی کہ ان پر لاکھوں کروڑوں اڑانے شروع کر دیے، حالانکہ یہ وہ دور ہے جس میں فرائض و واجبات پر جتنا بھی خرچ کیا جائے کم ہے. ایسے میں اپنی کثیر کثیر صلاحیتیں اور مال و دولت مستحبات پہ خرچ کر دینا اور اس امر کو باعث نجات سمجھنا بلا شبہ سخت تکلیف دہ امر ہے.

اب جتنا زور ہم میلاد النبی صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم پہ لگاتے ہیں، اگر اتنا زور اقامت صلوٰۃ پہ لگایا جاتا تو خود سوچیں کہ کتنی بڑی تبدیلی رونما ہو سکتی تھی.. اسی طرح جتنا زور ہم قل خوانی و عرس وغیرہ پہ لگاتے ہیں اگر اتنا زور مدارس و جامعات کی فلاح و بہبود پہ لگایا جاتا تو کتنا زیادہ فائدہ حاصل ہو سکتا تھا… اسی طرح جتنی دولت ہم پیری مریدی نظام پہ خرچ کرتے ہیں اگر اتنی دولت تصنیف و تالیف پہ خرچ کرتے تو کتنا کام عروج و ترقی کی طرف گامزن ہو سکتا تھا… اور جتنا زور ہم رد وہابیت و دیوبندیت پہ لگاتے ہیں اگر اتنا ہی زور اتحاد و اقامت دین پہ لگاتے تو کتنا بڑا انقلاب برپا ہو سکتا تھا… مگر افسوس کہ ہم نے اپنا بہت سا وقت، صلاحیت اور پیسہ برباد کر دیا.. اور تاحال بھی اسی پہ مصر ہیں.

ان اللہ لا یغیر ما بقوم حتی یغیروا ما بانفسھم.

ضرورت اس امر کی ہے کہ علماء کرام علم ترجیحات کا مطالعہ فرمائیں، اپنے ذہن کو بھی تبدیل کریں اور عوام کی بھی صحیح خطوط پر تربیت کریں تاکہ انھیں دینی معاملات میں صحیح طور پر پیسے خرچ کرنا کا ڈھنگ آئے اور دین ترقی کرے.

ہماری حالت ان اشعار کے بالکل عین مطابق ہے…

کشتی بھی نہیں بدلی دریا بھی نہیں بدلا

اور ڈوبنے والوں کا جذبہ بھی نہیں بدلا

ہے شوق سفر ایسا اک عمر سے یاروں نے

منزل بھی نہیں پائی رستہ بھی نہیں بدلا

بے کار گیا بن میں سونا مرا صدیوں کا

اس شہر میں تو اب تک سکہ بھی نہیں بدلا

بے سمت ہواؤں نے ہر لہر سے سازش کی

خوابوں کے جزیرے کا نقشہ بھی نہیں بدلا