أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

وَالَّذِيۡنَ سَعَوۡا فِىۡۤ اٰيٰتِنَا مُعٰجِزِيۡنَ اُولٰٓئِكَ اَصۡحٰبُ الۡجَحِيۡمِ ۞

ترجمہ:

اور جو لوگ ہماری آیتوں کی تکذیب میں سرتوڑ کوشش کرتے ہیں وہی دوزخ والے ہیں

الحج :51 میں فرمایا ہے : والذین سعوا فی ایتنا معجزین اس کا لفظی ترجمہ ہے جو لوگ ہماری آیتوں کی تکذیب میں عاجز کردینے کی حد تک کوشش کرتے ہیں، یعنی ان کا عزم یہ ہوتا ہے کہ وہ اللہ کی ایٓتوں کی تکذیب میں ایسے شبہات وارد کریں گے جس کے جواب سے وہ اللہ کے رسول اور مسلمانوں کو عاجز کردیں گے، پھر الحج :52 میں ایسے ہی شبہات اور ان شبہات ہی کی وجہ سے نبی کی اس آرزو میں رخنے ڈالنے کا بیان فرمایا ہے کہ نبی کے دین کی اشاعت اور تبلیغ ہو اور اس کی امت میں کثرت اور وسعت ہو، پھر بتایا ہے کہ اللہ تعالیٰ ان کے شبہات کو بیخ و بن سے اکھاڑ دیتا ہے اور اپنی آیتوں کو راسخ اور محکم کردیتا ہے۔

القرآن – سورۃ نمبر 22 الحج آیت نمبر 51