أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

وَالَّذِيۡنَ هَاجَرُوۡا فِىۡ سَبِيۡلِ اللّٰهِ ثُمَّ قُتِلُوۡۤا اَوۡ مَاتُوۡا لَيَرۡزُقَنَّهُمُ اللّٰهُ رِزۡقًا حَسَنًا‌ؕ وَاِنَّ اللّٰهَ لَهُوَ خَيۡرُ الرّٰزِقِيۡنَ ۞

ترجمہ:

اور جن لوگوں نے اللہ کے راستے میں ہجرت کی پھر وہ قتل کردیئے گئے یا وہ (طبعی موت) مرگئے، اللہ ان کو ضرور عمدہ رزق عطا فرمائے گا، اور بیشک اللہ سب دینے والوں سے بہترین دینے والا ہے

تفسیر:

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : اور جن لوگوں نے اللہ کے راستہ میں ہجرت کی پھر وہ قتل کردیئے گئے یا وہ (طبعی موت) مرگئے اللہ ان کو ضرور عمدہ رزق عطا فرمائے گا اور اللہ سب دینے والوں سے بہتر دینے والا ہے۔ اللہ انہیں ضرور ایسی جگہ داخل فرمائے گا جس سے وہ راضی ہوں گے اور بیشک اللہ خوب جاننے والا برد بار ہے۔ (الحج : ٥٩-٥٨ )

آیا اللہ کی راہ میں قتل کئے جانے والے اور طبع موت مرنے والے دونوں کا اجر برابر ہے 

اس آیت کے نزول کا سبب یہ ہے کہ حضرت عثمان بن مظعون اور حضرت ابوسلمہ بن عبدالاسد جب مدینہ میں فوت ہوگئے تو بعض لوگوں نے کہا جو اللہ کی راہ میں فوت ہوجائے وہ اس سے افضل ہے جو طبعی موت مرے۔ تب یہ آیت نازل ہوئی کہ مہاجرین میں سے جو اللہ کی راہ میں قتل کیا جائے یا جو طبعی موت مرے گا اللہ تعالیٰ دونوں کو رزق حسن عطا فرمائے گا یعنی دونوں کا مرتبہ برابر ہے اور ظاہر شریعت کی اس پر دلالت ہے کہ شہید افضل ہے اور بعض اہل علم نے یہ کہا ہے کہ اللہ کی راہ میں قتل کیا جانے والا اور اللہ کی راہ میں مرنے والا دونوں شہید ہیں لیکن اللہ کی راہ میں قتل کئے جانے والے کا مرتبہ اور اس کی فضیلت زیادہ ہے اور بعض نے کہا کہ دونوں کا مرتبہ زیادہ ہے اور انہوں نے اس آیت سے اور حسب ذیل آیت اور احادیث سے استدلال کیا ہے :

ومن یخرج من بیتہ مھاجر الی اللہ ور سولہ ثم یدرکہ الموت فقہ وقع اخرہ علی اللہ (النسائ : ١٠٠) اور جو شخص اپنے گھر سے اللہ اور اس کے رسول کی طرف ہجرت کے لیء نکلا پھر اس کو موت نے آلیا تو اس کا اجر اللہ کے ذمہ (کرم) پر ثابت ہوگیا۔

حضرت انس (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) حضرت ام حرام بنت ملحان کے گھر گئے آپ نے وہاں پر تکیہ لگا لیا پھر آپ ہنسے، انہوں نے پوچھا یا رسول اللہ ! آپ کس وجہ سے ہنسے ہیں ؟ آپ نے فرمایا میری امت کے کچھ لوگ اللہ کی راہ میں سمندر میں جہازوں پر سواری کریں گے، وہ جہاز بادشاہوں کے تخت کی طرح ہوں گے۔ انہوں نے کہا یا رسول اللہ ! آپ اللہ سے دعا کیجیے کہ اللہ مجھے بھی ان میں سے کر دے۔ آپ نے دعا کی کہ اے اللہ ! اس کو ان میں سے کر دے، پھر آپ دو بار ہنسے، انہوں نے پھر اس کی وجہ پوچھی یا اس کی مثل کہا۔ آپ نے پھر پہلے کی طرح کہا حضرت ام حرام نے کہا آپ اللہ سے دعا کیجیے کہ اللہ مجھے ان میں سے کر دے۔ آپ نے فرمایا تم پہلوں میں سے ہو اور دوسروں میں سے نہیں ہو۔ حضرت انس نے کہا پھر حضرت ام حرام نے حضرت عبادہ بن الصامت سے شادی کی، وہ بنت قرظہ کے ساتھ سمندر میں سوار ہوئیں، جب وہ واپس لوٹیں تو ایک سواری پر سوار ہوئیں اس سواری نے ان کو گرا دیا اور اس سے وہ فوت ہوگئیں۔ (صحیح البخاری رقم الحدیث :2877، صحیح مسلم رقم الحدیث 1912 سنن الترمذی رقم الحدیث :1645 سنن ابودائود رقم الحدیث :2491، سنن النسائی رقم الحدیث :1371)

وجہ دلالت یہ ہے کہ حضرت ام حرام  اللہ کی راہ میں قتل نہیں کی گئی تھیں لیکن رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ان کا شمار اللہ کی راہ میں جہاد کرنے والوں میں کیا۔

حضرت ابومالک اشعری (رض) بیان کرتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ان کا شمار اللہ کی راہ میں جہاد کرنے والوں میں کیا۔

حضرت ابومالک اشعری (رض) بیان کرتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ جو شخص اللہ کی راہ میں گھر سے نکلا پھر مرگیا یا اس کو قتل کردیا گیا تو وہ شہید ہے، یا اس کو اس کے گھوڑے نے کرا دیا یا اس کو کسی سانپ یا بچھونے ڈس لیا یا وہ بستر پر مرگیا یا جس طرح اللہ نے چاہا وہ طبعی موت مرگیا تو وہ شہید ہے اور اس کے لئے جنت ہے۔ (سنن ابو دائود رقم الحدیث :2499، المسند الجامع رقم الحدیث :12609)

عبداللہ بن المبارک نے بیان کیا ہے کہ ایک شخص ایک جہاد میں منجنیق کے پتھر لگنے سے فوت ہوا اور دوسرا شخص طبعی موت کے پاس بیٹھ گئے، انہوں نے کہا مجھے اس کی پرواہ نہیں کہ میں ان دونوں میں سے کسی کی قبر سے بھی اٹھایا جائوں گا پھر انہوں نے یہ آیت پڑھی :

والذین ھاجروا فی سبیل اللہ ثم قتلوا اوماتوا لیرزقنھم اللہ رزقا حسناً ۔ (الحج : ٥٨) اور جن لوگوں نے اللہ کے راستہ میں ہجرت کی پھر وہ قتل کردیئے گئے یا وہ (طبعی موت) مرگئے، اللہ ضرور ان کو عمدہ رزق عطا فرمائے گا۔

اور سلیمان بن عامر نے کہا کہ فضالہ برودس ایک علاقہ کے امیر تھے وہ دو آدمیوں کے جنازہ پر گئے ایک قتل کیا گیا تھا اور دوسرا طبعی موت مرا تھا۔ انہوں نے دیکھا کہ لوگوں کا میلان اس شخص کی طر تھا جو قتل کیا گیا تھا۔ انہوں نے کہا یہ کیا وجہ ہے کہ تم مقتول کی طرف میلان کر رہے ہو، اس ذات کی قسم جس کے قبضہ وقدرت میں میری جان ہے مجھے اس کی کوئی پرواہ نہیں ہے کہ مجھے دونوں میں سے کس کی قبر سے اٹھایا جاتا ہے پھر انہوں نے یہ آیت پڑھی۔ (تفسیر الثعالبی، الجامع لاحکام القرآن جز ١٢ ص 83)

میری رائے یہ ہے کہ فاضل تو وہی ہے جو اللہ کی راہ میں قتل کیا گیا اور ان دلائل کا جواب یہ ہے کہ اس آیت میں اور ان احادیث اور آثار میں یہ ذکر کیا گیا ہے کہ وہ شخص اللہ کی راہ میں جہاد کے لئے مجاہدین کے ساتھ نکلا پھر اس کو طبعی موت نے آلیا تو اس کی نیت اور جہاد کے لئے اس کے نکلنے کے اعتبار سے اللہ تعالیٰ اس کو بھی وہی ثواب عطا فرمائے گا جو شہید کو عطا فرماتا ہے۔ ان احادیث اور آثار کا یہ معنی نہیں ہے کہ ہر طبع موت مرنے الا اجر وثواب میں شہید کے برابر ہے۔

اللہ کی راہ میں قتل کئے جانے والے کا اجر و ثواب 

حضرت عمرو بن عبسہ (رض) بیان کرتے ہیں کہ میں نے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں حاض رہو کر پوچھا یا رسول اللہ ! کون سا جہاد افضل ہے ؟ آپ نے فرمایا جس کا خون بہایا جائے اور اس کا گھوڑا زخمی کیا جائے۔ (اس کی سند ضعیف ہے) (سنن ابن ماجہ رقم الحدیث :2794، مسند احمد ج ٤ ص 385، مسند عبدبن حمید رقم الحدیث :300)

حضرت عبداللہ بن حبشی الخشعمی (رض) بیان کرتے ہیں کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے سوال کیا گیا کہ کون سا عمل سب سے افضل ہے ؟ آپ نے فرمایا (نماز میں) لمبا قدم۔ پوچھا گیا کہ کون سا صدقہ سب سے افضل ہے ؟ آپ نے فرمایا مفلس کی کمائی۔ آپ سے پوچھا گیا کہ کون سی ہجرت سب سے فاضل ہے ؟ آپ نے فرمایا جس نے ان چیزوں سے ہجرت کرلی جن کو اللہ نے اس پر حرام کردیا ہے۔ آپ سے پوچھا گیا کون سا جہاد سب سے افضل ہے ؟ آپ نے فرمایا جس نے اپنے مال اور اپنی جان سے مشرکین کے خلاف جہاد کیا پھر پوچھا گیا کون سا قتل ہونا سب سے مکرم ہے ؟ آپ نے فرمایا جس کا خون بہایا گیا اور اس کا گھوڑا زخمی کردیا گیا۔ (اس حدیث کی سند صحیح ہے) (سنن ابودائود رقم الحدیث :1449، سن النسائی رقم الحدیث :5001, 2525 سنن ابن ماجہ رقم الحدیث :1336)

حضرت ابوہریرہ (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اس ذات کی قسم جس کے قبضہ وقدرت میں میری جان ہے جو شخص بھی اللہ کی راہ میں زخمی ہوتا ہے اور اللہ ہی کو علم ہے کو کون اس کی راہ میں زخمی ہوتا ہے وہ قیامت کے دن اس طرح آئے گا کہ اس کے خون کا رنگ خون کی طرح ہوگا اور اس میں مشک کی خوشبو آرہی ہوگی۔ (صحیح البخاری رقم الحدیث :2803 صحیح مسلم رقم الحدیث :1876 سنن النسائی رقم الحدیث :5029 سنن ابن ماجہ رقم الحدیث :2753)

حضرت مقدام بن معدی کرب (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اللہ کے نزدیک شہید کی چھ خصوصیات ہیں : پہلی بار جب اس کے جسم سے خون نکلتا ہے تو اللہ تعالیٰ اس کی مغفرت فرما دیتا ہے اور وہ جنت میں اپنے ٹھکانے کو دیکھ لیتا ہے، اس کو عذاب قبر سے محفوظ کھا جاتا ہے اور وہ قیامت کے دن کی بڑی گھبراہٹ سے مامون کھا جاتا ہے، بڑی آنکھوں الی حور سے اس کا نکاح کردیا جاتا ہے اور اس کے ستر رشتہ داروں کے حق میں اس کی شفاعت قبول کی جاتی ہے۔ (سنن الترمذی رقم الحدیث :1663، سنن ابن ماجہ رقم الحدیث :2799، مسند احمد ج ٤ ص 131، المسند الجامع رقم الحدیث :11818)

حضرت جابر بن عبداللہ (رض) بیان کرتے ہیں کہ جب حضرت عبداللہ بن عمرو بن حرام جنگ احد کے دن شہید کردیئے گئے تو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اے جابر ! کیا میں تم کو یہ نہ بتائوں کہ تمہارے رب عزو جل نے تمہارے والد سے کیا ارشاد فرمایا ؟ میں نے عرض کیا کیوں نہیں ! آپ نے فرمایا اللہ تعالیٰ نے ہر شخص سے حجاب کی اوٹ سے کلام فرمایا اور تمہارے والد سے بالمشافہ کلام فرمایا۔ پس فرمایا اے میرے بندے مجھ سے تمنا کر میں تجھے عطا کروں گا۔ انہوں نے کہا اے میرے رب تو مجھے (دوبارہ) زندہ کر دے میں دوسری بار تیری راہ میں قتل کیا جائوں۔ فرمایا : میرے علم میں پہلے سے یہ ہے کہ وہ دنیا کی طرف نہیں لوٹائے جائیں گے۔ انہوں نے کہا اے میری رب ! تو ان کو میری خبر دے دے تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی :

ولا تحسبن الذین قتلوا فی سبیل اللہ امواتاً ۔ الایۃ (آل عمران :169) اور جو لوگ اللہ کی راہ میں قتلکئے گئے ان کو ہرگز مردہ گمان مت کرو۔ (سنن ابن ماجہ رقم الحدیث :190, 2800 سنن الترمذی رقم الحدیث :2287 مسند احمد ج ٣ ص 361، اس کی سند حسن ہے) 

حضرت انس بن مالک (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : شہید کے سوا اہل جنت میں سے کوئی شخص یہ خواہش نہیں کرے گا کہ اسے دنیا میں لوٹا دیا جائے۔ شہید ہو چاہے گا کہ اس کو دنیا کی طرح لوٹا دیا جائے حتیٰ کہ وہ چاہے گا کہ اس کو دس بار اللہ کی راہ میں قتل کیا جائے کیونکہ وہ دیکھے گا کہ اللہ تعالیٰ نے اس کو کتنی عزت عطا فرمائی ہے۔ (صحیح البخاری رقم الحدیث :2817 صحیح مسلم رقم الحدیث :1877 سنن الرمذی رقم احدیث 1661 مسند احمد ج ٣ ص 103 سنن الداری رقم الحدیث :2414 صحیح ابن حبان رقم الحدیث :4662 مسند ابویعلی رقم الحدیث :2879 سنن بیہقی ج ٩ ص 163 شرح السنتہ رقم الحدیث :2627 مسند ابو دائود الیالسی رقم الحدیث :1964)

حضرت ابوہریرہ (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : شہید کو قتل ہونے کے وقت اتنی تکلیف بھی نہیں ہوتی جتنی تم میں سے کسی ایک کو چیونٹی کے کاٹنے سے ہوتی ہے۔ (سنن الترمذی رقم الحدیث :1668، سنن النسائی رقم الحدیث :3161، سنن ابن ماجہ رقم الحدیث :2802 سنن الداری رقم الدیث :2413 مسند احمد ج ٢ ص 297 صحیح ابن حبان رقم الحدیث 4655 حلیۃ الاولیاء ج ٩ ص 264 سنن بیہقی ج ٩ ص 164)

تبیان القرآن – سورۃ نمبر 22 الحج آیت نمبر 58