أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

وَاِنۡ يُّكَذِّبُوۡكَ فَقَدۡ كَذَّبَتۡ قَبۡلَهُمۡ قَوۡمُ نُوۡحٍ وَّعَادٌ وَّثَمُوۡدُ ۞

ترجمہ:

اگر یہ آپ کی تکذیب کرتے ہیں (تو آپ پریشان نہ ہوں) سو ان سے پہلے نوح کی قوم نے اور عاد نے اور ثمود نے تکذیب کی تھی

مشرکین کی مخالفت اور ایذائوں پر آپ تسلی دینا 

الحج : ٤٢ میں فرمایا : اگر یہ آپ کی تکذیب کرتے ہیں (تو آپ پریشان نہ ہوں) سو ان سے پہلے نوح کی قوم نے اور عاد نے اور ثمود نے تکذیب کی تھی۔

اس سے پہلے اللہ تعالیٰ نے فرمایا تھا کہ مسلمانوں کو ان کے گھروں سے ناحق نکال دیا اور ان سے قتال کرنے کی اجازت دی اور رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اور مومنین کی نصرت اور مدد کا وعدہ فرمایا اور یہ فرمایا کہ تمام کاموں کا انجام اللہ ہی کے اتخیار میں ہے اور کفار اور مشرکین رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی تکذیب اور مخلافت کرتے تھے اور ٓپ کا مذاق اڑاتے تھے اور آپ ان کے اس ظالمانہ سلوک پر صبر کرتے تھے تو اللہ تعالیٰ نے آپ کی تسلی کے لئے یہ آیات نازل فرمائیں کہ آپ سے پہلے تمام امتوں کے کافروں نے اپنے اپنے نبیوں اور رسولوں کی تکذیب کی ہے۔ حضرت نوح کی قوم نے ان کی تکذیب کی اسی طرح عاد اور ثمود نے اپنے اپنے نبیوں کی تکذیب کی، اور الحج : ٤٣ میں فرمایا اور ابراہیم کی قوم نے اور لوط کی قوم نے ان کی تکذیب کی اور الحج : ٤٤ میں فرمایا اور اصحاب مدین نے (بھی تکذیب کی تھی) اور موسیٰ کی تکذیب کی گیئ، یہاں پر اس طرح نہیں فرمایا کہ موسیٰ کی تکذیب ان کی قوم نے کی۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی تکذیب ان کی قوم بنی اسرائیل نے نہیں کی تھی بلکہ ان کی تکذیب قبطیوں نے کی تھی جو کہ فرعن کی قوم تھے۔ دسوری وجہ یہ ہے کہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کا ذکر اس کے ذیل میں فرمایا ہے کہ ہر قوم نے اپنے رسول کی تکذیب کی، اور حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی بھی تکذیب کی گی تھی حالانکہ ان کی نبوت کا نشانیاں بہت واضح تھیں اور ان کے معجزات بہت عظیم تھے تو اگر آپ کی بھی مشرکین اور مخالفین نے تکذیب کی ہے تو آپ غم نہ کریں۔

القرآن – سورۃ نمبر 22 الحج آیت نمبر 42