أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

وَلِكُلِّ اُمَّةٍ جَعَلۡنَا مَنۡسَكًا لِّيَذۡكُرُوا اسۡمَ اللّٰهِ عَلٰى مَا رَزَقَهُمۡ مِّنۡۢ بَهِيۡمَةِ الۡاَنۡعَامِ ؕ فَاِلٰهُكُمۡ اِلٰـهٌ وَّاحِدٌ فَلَهٗۤ اَسۡلِمُوۡا‌ ؕ وَبَشِّرِ الۡمُخۡبِتِيۡنَ ۞

ترجمہ:

اور ہر امت کے لئے ہم نے قربانی کا طریقہ مقرر کیا ہے، تاکہ وہ اللہ کے دئے ہوئے بےزبان چوپایوں پر (ذبح کے وقت) اللہ کا نام لیں، پس تمہاری عبادت کا مستحق ہے، واحد مستحق عبادت ہے اسی کی اطاعت کرو، اور عاجزی کرنے والوں کو بشارت دیجیے

تفسیر:

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : اور ہر امت کے لئے ہم نے قربانی کا طریقہ مقرر کیا ہے تاکہ وہ اللہ کے دیئے ہوئے بےزبان چوپایوں پر ذبح کے وقت اللہ کا نام لیں، تمہاری عبادت کا مستحق واحد مستحق عبادت ہے، اسی کی اطاعت کرو اور عاجزی کرنے والوں کو بشارت دیجیے۔ جب اللہ کا ذکر کیا جائے تو ان کے دل تھرتھرا جاتے ہیں اور وہ مصائب پر صبر کرتے ہیں اور نماز قائم رکھتے ہیں اور ہم نے جو کچھ ان کو دیا ہے اس میں سے خرچ کرتے ہیں۔ اور قربانی کے اونٹوں کو ہم نے تمہارے لئے اللہ کی نشانیوں میں سے بنادیا ہے، ان میں تمہارے لئے بھلائی ہے، تم ان کو قطار میں کھڑا کر کے صان کو نحر کرنے کے وقت) اللہ کا نام لو، پس جب ان کے پہلو زمین پر گرجائیں تو تم خود (بھی) ان سے کھائو اور محتاج اور مانگنے والے کو بھی کھلائو اسی طرح ہم نے ان مویشیوں کو تمہارے لئے مخسر کردیا ہے ات کہ تم شکر ادا کرو۔ (الحج :34-36)

منسک اور مختبین کے معنی 

اس آیت میں نسک کا لفظ ہے، نسک کا معنی ہے عبادت اور الناسک کا معنی ہے عابد، اور یہ لفظ حج کے اعمال کے ساتھ مخصوص ہے۔ منسک کی جمع مناسک ہے اور اس کا معنی ہے حج کے اعمال اور اس کے طریقے اور نسی کہ ذبیحہ کے ساتھ مختص ہے۔ (المفردات ج ٢ ص 634)

اس آیت میں منسلک کا معنی ہے قربانی کا طریقہ

اس آیت کا معنی یہ ہے کہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے عہد سے لے کر سابقہ تمام امتوں میں سے ہر امت کے لئے ہم نے قربانی کا ایک خاص طریقہ مقرر کیا ہے اور اس کا مقصد یہ ہے کہ وہ اپنی قربانیوں پر اللہ عزوجل کا نام لیں، پھر فرمایا پس تمہاری عبادت کا مستحق، واحد مستحق عبادت ہے۔ یعنی زمانوں اور قوموں کے اختلاف سے قربانی کرنے کے طریقے مختلف ہوتے رہے ہیں لیکن ہر زمانہ میں ہر قوم میں صرف اسی خدائے واحد کی عبادت مشروع کی گئی تھی، شریعتیں مختلف رہی ہیں اور دین سب کا ایک ہے، پھر فرمایا اسی کی اطاعت کے ساتھ گردن جھکائو یعنی اللہ کے ساتھ کسی کو شریک نہ کرو اور اللہ کے تمام احکام کو تسلیم کرو اور مانو اور ان کے تقاضوں پر عمل کرو۔

اس کے بعد فرمایا اور عاجزی کرنے والوں کو بشارت دیجیے۔ نظم قرآن میں مختبین کا لفظ ہے، حبت کا معنی پست زمین اور گڑھا ہے اور جو جگہ پست ہو وہ جھکی ہوئی ہوتی ہے، اس لئے حضرت ابن عباس اور مجاہد نے کہا ہے مخبتیں کا معنی ہے، متواضعین یعنی عجزی کرنے والے کلبی نے کہا اس کا معنی ہے زیادہ کوشش سے عبادت کرنے والے۔ مقاتل نے کہا اس کا معنی ہے مخلصین، مجاہد سے یہ بھی منقول ہے کہ اس سے مراد صالحین ہیں جن کے دل اللہ کے ذکر سے مطمئن رہتے ہیں۔ عمرو بن اوس نے کہا اس سے مراد وہ لوگ ہیں جو کسی پر ظلم نہیں کرتے اور جب ان پر ظلم کیا جائے تو وہ اس کا بدلہ نہیں لیتے۔

تبیان القرآن – سورۃ نمبر 22 الحج آیت نمبر 34