أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

وَيَسۡتَعۡجِلُوۡنَكَ بِالۡعَذَابِ وَلَنۡ يُّخۡلِفَ اللّٰهُ وَعۡدَهٗ‌ ؕ وَاِنَّ يَوۡمًا عِنۡدَ رَبِّكَ كَاَ لۡفِ سَنَةٍ مِّمَّا تَعُدُّوۡنَ‏ ۞

ترجمہ:

اور یہ آپ سے جلد عذاب کا مطالبہ کر رہے ہیں اور اللہ اپنی وعید کے خلاف ہرگز نہیں کرے گا اور بیشک آپ کے رب کے نزدیک ایک دن تمہاری گنتی کے ہزار دنوں کی مثل ہے

تفسیر:

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : اور یہ آپ جلد عذاب کا مطالبہ کر رہے ہیں اور اللہ اپنی وعید کے خلاف ہرگز نہیں کرے گا اور بیشک آپ کے رب کے نزدیک ایک دن تمہاری گنتی کے ہزار دنوں کی مثل ہے۔ اور میں نے ایسی بہت سی بستیوں کو مہلت دی تھی جو ظالم تھیں پھر میں نے ان کو پکڑ لیا اور میری ہی طرف لوٹ کر آنا ہے۔ (الحج 47-48)

آخرت میں عذاب کا ایک دن دنیا کے ہزار دنوں کے برابر ہو گا 

اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے یہ بتایا ہے کہ کفار نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے جلد عذاب ھیجنے کا مطالبہ کرتے تھے۔ اس میں یہ دلیل ہے کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ان کو ہمیشہ ڈراتے رہتے تھے کہ اگر تم نے کفر، شرک اور بت پرستی کو ترک نہیں کیا تو تم پر عذاب آئے گا اور اس عذاب سے مراند آخرت کا عذاب نہیں ہے، کیونکہ اگر اس سے مراد دنیا کا عذاب نہ ہوتا اور آخرت کا عذاب ہوتا تو اللہ تعالیٰ یہ نہ فرماتا : اور اللہ اپنی وعید کے خلاف ہرگز نہیں کرے گا، اور اگر یہ آخرت کا عذاب ہوتا تو پھر وہ اس عذاب کو جلد بھیجنے کا مطالبہ نہیں کرتے اور یہ عذاب جنگ بدر کے دن شکست کی صورت میں ان پر آچکا ہے اور اللہ تعالیٰ کی وعید پوری ہوگئی۔ اس کے بعد فرمایا اور بیشک آپ کے رب کے نزدیک ایک دن تمہاری گنتی کے ہزار دنوں کی مثل ہے۔ یعنی ان کو آخرت میں جو عذاب دیا جائے گا اس کا ایک دن بھی ہزار دنوں کے برابر ہوگا۔ یعنی اس عذاب کا درد اور اس کی شدت اس قدر زیادہ ہوگی کہ اس عذاب کا ایک دن بھی ہزار دنوں کے برابر معلوم ہوگا۔

اس کا دوسرا محمل یہ ہے کہ جس دن حساب لیا جائے گا وہ اس قدر طویل دن ہوگا جو اپنے طول میں ہزار دنوں کے برابر ہوگا اور جب کہ دنیاوی دن جو کم مقدار میں ہوتے ہیں، ان میں بھی درد اور شدت کا وقت بہت طویل معلوم ہوتا ہے تو جو دن فی نفسہ طویل ہو اور اس میں درد اور شدت بھی بہت زیادہ ہو، اس دن کی تکلیف اور اذیت کا کون اندازہ کرسکتا ہے پھر وہ کیسے بےعقل لوگ تھے جو اللہ کے عذاب کے جلد آنے کا مطالبہ کرتے تھے۔

اس کا تیسرا محمل یہ ہے کہ اللہ کے اعتبار سے دنیاوی ایک دن ہو یا ہزار سال کا ایک دن دونوں برابر ہیں، کیونکہ اللہ تعالیٰ ہر چیز پر قادر ہے اور جب وہ ایک دن کی مہلت کو دور نہیں سمجھ رہے تو ہزار دن کی مہلت کو کیسے دور سمجھ رہے ہیں۔

اس کا چوتھا محمل یہ ہے کہ وہ دنیاوی کم مقدار کے دنوں میں جلد عذاب بھیجنے کا مطالبہ کر رہے ہیں حالانکہ آخرت میں جو ان پر عذاب آئے گا وہ بہت لمبے دنوں میں آئے گا، اس کا ایک دن بھی ہزار دنوں کے برابر ہوگا۔

تبیان القرآن – سورۃ نمبر 22 الحج آیت نمبر 47