أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

وَّاَصۡحٰبُ مَدۡيَنَ‌ۚ وَكُذِّبَ مُوۡسٰى فَاَمۡلَيۡتُ لِلۡكٰفِرِيۡنَ ثُمَّ اَخَذۡتُهُمۡ‌ۚ فَكَيۡفَ كَانَ نَكِيۡرِ‏ ۞

ترجمہ:

اور صاحاب دین نے (بھی تکذیب کی تھی) اور موسیٰ کی تکذیب کی گئی، پس میں نے کافروں کو کچھ مہلت دی پھر میں نے ان کو پکڑ لیا تو کیسا تھا میرا عذاب

پھر فرمایا : میں نے ان مکذبین کو اس وقت تک مہلت دی جو وقت ان پر عذاب نازل کرنے کے لئے میرے علم میں مقرر تھا، پھر یہ مکذبین جو میرے عذاب کے نازل ہونے کا انکار کرتے تھے تو عذاب آنے کے بعد ان کا کیا حال ہوا ؟ کیا میں نے ان کی نعمتوں کو مصیبتوں سے نہیں بدال۔ کیا ان کے افراد کی کثرت کو قلت سے نہیں بدلا۔ کیا ان کی زندگی کو موت سے نہیں بدال۔ کیا ان کے آباد شہروں کو کھنڈرات سے نہیں بدلا۔ کیا میں نے انبیاء (علیہم السلام) سے جو کافروں پر عذاب نازل کرنے کا وعدہ کیا تھا اس کو پورا نہیں کیا، اور ان نبیوں کو زمین میں کامیابی عطا نہیں فرمائی۔ سو اے محمد ! (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) آپ کو بھی ان کی تکذیب پر صبر کرنا چاہیے کیونکہ اللہ تعالیٰ ان کو اپنی مصلحت کی وجہ سے مہلت دے رہا ہے، اس لئے خواہ آپ پر دشوار ہو آپ تسلیم و رضا کے طریقہ کو اپنائیں، ہرچند کہ اس بیان سے تسلی ہوجاتی ہے لیکن چونکہ کفار مسلسل آپ کو ایذاء پہنچاتے رہتے تھے، اس لئے اللہ تعالیٰ آپ کی تسلی کے لئے وقتاً فوقتاً ایسی آیات نازل فرماتا ترہتا تھا۔

اس جگہ یہ سوال ہوتا ہے کہ پچھلی امتوں میں تو بہرحال مکذبین پر عذاب آگیا تھا اور ہمارے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے مکذبین اور مخالفین پر عذاب نہیں آتا۔ اس کی دو وجہیں ہیں ایک یہ کہ اللہ تعالیٰ کے علم میں نزول عذاب کی ایک حد مقرر ہے جو اس حد پر پہنچ جاتا ہے اس پر عذاب نازل ہوتا ہے اور جو اس حد تک نہیں پہنچتے، ان پر عذاب نازل نہیں ہوتا۔ دوسری وجہ یہ ہے کہ عذاب اس وقت نازل ہوتا ہے جب ان میں سے کوئی بھی ایمان نہ لائے یا اکثر لوگ ایمان نہ لائیں۔ یہ دو وجہیں امام رازی نے بیان کی ہیں اور میری رائے میں اس کی وجہ یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے آپ کو رحمتہ للعالمین بنا کر بھیجا ہے اور آپ کے ہوتے ہوئے ان مکذبین پر عذال نازل کرنا آپ کو رحمتہ للعالمین بنانے کے منافی ہے۔ نیز اللہ تعالیٰ یہ فرما چکا ہے :

وما کان اللہ لیعذبھم وانت فیھم (الانفال) اور اللہ کی یہ شان نہیں کہ وہ آپ کے ہوتے ہوئے ان میں عذاب بھیج دے۔

القرآن – سورۃ نمبر 22 الحج آیت نمبر 44