أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

وَّلِيَـعۡلَمَ الَّذِيۡنَ اُوۡتُوا الۡعِلۡمَ اَنَّهُ الۡحَـقُّ مِنۡ رَّبِّكَ فَيُؤۡمِنُوۡا بِهٖ فَـتُخۡبِتَ لَهٗ قُلُوۡبُهُمۡ‌ ؕ وَاِنَّ اللّٰهَ لَهَادِ الَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡۤا اِلٰى صِرَاطٍ مُّسۡتَقِيۡمٍ‏ ۞

ترجمہ:

اور جو اہل ہیں ان کو یہ جان لینا چاہیے کہ یہ (قرآن) آپ کے رب کی طرف سے حق ہے پس وہ اس پر ایمان لائیں اور ان کے دل اس کی طرف جھک جائیں، اور بیشک اللہ ایمان والوں کو ضرور صراط مستقیم کی طرف راہ دکھانے والا ہے

تفسیر:

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : اور جو اہل علم ہیں ان کو یہ جان لینا چاہیے کہ یہ (قرآن) آپ کے رب کی طرف سے حق ہے پس وہ اس پر ایمان لائیں اور ان کے دل اسی کی طرف جھک جائیں اور بیشک اللہ ایمان والوں کو ضرور صراط مستقیم کی طرف راہ دکھانے والا ہے۔ (الحج : ٥٤ )

ایک قول یہ ہے کہ اہل علم سے مراد مومنین ہیں اور دوسرا قول یہ ہے کہ اس سے مراد اہل کتاب ہیں۔

نیز اس آیت میں فرمایا یہ حق ہے، مقاتل نے کہا اس سے مراد ہے کہ یہ قرآن حق ہے۔ کلبی نے کہا شیطان کے ڈالے ہوئے شبہات کا منسوخ ہونا حق ہے اور فرمایا : اور اللہ ایمان والوں کو ضرور صراط مستقیم دکھانے والا ہے جس سے وہ جان لیں گے کہ شیطان کے یہ ڈالے ہوئے شبہات باطل ہیں۔

تبیان القرآن – سورۃ نمبر 22 الحج آیت نمبر 54