حدیث نمبر 368

روایت ہے حضرت انس سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے جو اﷲ کے لیئے چالیس دن باجماعت نماز پڑھے کہ پہلی تکبیر پاتا رہے تو اس کے لیئے دو پروانے لکھے جائیں گے ایک پروانہ آگ سے آزادی کا دوسرا نفاق سے آزادی کا ۱؎ (ترمذی)

شرح

۱؎ یعنی اس عمل کی برکت سے یہ شخص دنیا میں منافقین کے اعمال سے محفوظ رہے گا،اسے اخلاص نصیب ہوگا،قبر و آخرت میں عذاب سے نجات پائے گا۔خیال رہے کہ انسانی تبدیلیاں چالیس پر ہوتی ہیں،بچہ ماں کے پیٹ میں ۴۰ دن نطفہ،چالیس دن خون،پھر چالیس روز اور پارہ گوشت رہتا ہے،بعد ولادت ماں کو چالیس دن نفاس آسکتا ہے،چالیس سال میں عقل کامل ہوتی ہے اس لیئے یہاں بھی چالیس کا عدد مذکور ہوا۔ایک حدیث میں ہے کہ جو شخص چالیس دن اخلاص اختیار کرے تو اس کے دل کی طرف زبان پر حکمت کے چشمے پھوٹیں گے۔یہ حدیث صوفیاء کے چلو کی اصل ہے۔مرقاۃ نے فرمایا سلف صالحین کی اگر کوئی جماعت چھوٹ جاتی تو سات سات روز تک لوگ تعزیت کے لیئے آتے۔تکبیر تحریمہ پانے کے معنی یہ ہیں کہ امام کی قرأت شروع ہونے سے پہلے مقتدی “سُبْحَانَكَ اللّٰھُمَّ” پڑھ لے۔