وَ لَقَدْ اَرْسَلْنَا رُسُلًا مِّنْ قَبْلِكَ وَ جَعَلْنَا لَهُمْ اَزْوَاجًا وَّ ذُرِّیَّةًؕ-وَ مَا كَانَ لِرَسُوْلٍ اَنْ یَّاْتِیَ بِاٰیَةٍ اِلَّا بِاِذْنِ اللّٰهِؕ-لِكُلِّ اَجَلٍ كِتَابٌ(۳۸)

اور بےشک ہم نے تم سے پہلے رسول بھیجے اور ان کے لیے بیبیاں (ف۱۰۵) اور بچے کیے اور کسی رسول کا کام نہیں کہ کوئی نشانی لے آئے مگر اللہ کے حکم سےہر وعدہ کی ایک لکھت(تحریر) ہے (ف۱۰۶)

(ف105)

شانِ نُزول : کافِروں نے سیدِعالَم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر یہ عیب لگایا تھا کہ وہ نکاح کرتے ہیں اگر نبی ہوتے تو دنیا ترک کردیتے ، بی بی بچّے سے کچھ واسطہ نہ رکھتے ۔ اس پر یہ آیتِ کریمہ نازِل ہوئی اور انہیں بتایا گیا کہ بی بی بچّے ہونا نبوّت کے مُنافی نہیں لہذا یہ اعتراض مَحض بے جا ہے اور پہلے جو رسول آچکے ہیں وہ بھی نکاح کرتے تھے ، ان کے بھی بیبیاں اور بچے تھے ۔

(ف106)

اس سے مقدّم و موخّر نہیں ہوسکتا خواہ وہ وعدہ عذاب کا ہو یا کوئی اور ۔

یَمْحُوا اللّٰهُ مَا یَشَآءُ وَ یُثْبِتُ ۚۖ-وَ عِنْدَهٗۤ اُمُّ الْكِتٰبِ(۳۹)

اللہ جو چاہے مٹاتا اور ثابت کرتا ہے (ف۱۰۷) اور اصل لکھا ہوا اسی کے پاس ہے(ف۱۰۸)

(ف107)

سعید بن جبیر اور قتادہ نے اس آیت کی تفسیر میں کہا کہ اللہ جن احکام کو چاہتا ہے منسوخ فرماتا ہے جنہیں چاہتا ہے باقی رکھتا ہے ۔ انہیں ابن جبیر کا ایک قول یہ ہے کہ بندوں کے گناہوں میں سے اللہ جو چاہتا ہے مغفرت فرما کر مٹا دیتا ہے اور جو چاہتا ہے ثابت رکھتا ہے ۔ عِکرمہ کا قول ہے کہ اللہ تعالٰی توبہ سے جس گناہ کو چاہتا ہے مٹاتا ہے اور اس کی جگہ نیکیاں قائم فرماتا ہے اور اس کی تفسیر میں اور بھی بہت اقوال ہیں ۔

(ف108)

جس کو ا س نے ازَل میں لکھا یہ علمِ الٰہی ہے یا اُم الکتاب سے لوحِ محفوظ مراد ہے جس میں تمام کائنات اور عالَم میں ہونے والے جملہ حوادث و واقعات اور تمام اشیاء مکتوب ہیں اور اس میں تغیُّر و تبدُّل نہیں ہوتا ۔

وَ اِنْ مَّا نُرِیَنَّكَ بَعْضَ الَّذِیْ نَعِدُهُمْ اَوْ نَتَوَفَّیَنَّكَ فَاِنَّمَا عَلَیْكَ الْبَلٰغُ وَ عَلَیْنَا الْحِسَابُ(۴۰)

اور اگر ہمیں تمہیں دکھادیں کوئی وعدہ (ف۱۰۹) جو انہیں دیا جاتا ہے یا پہلے ہی (ف۱۱۰) اپنے پاس بلالیں تو بہرحال تم پر تو صرف پہنچانا ہے اور حساب لینا(ف۱۱۱) ہمارا ذمہ (ف۱۱۲)

(ف109)

عذاب کا ۔

(ف110)

ہم تمہیں ۔

(ف111)

اور اعمال کی جزا دینا ۔

(ف112)

تو آپ کافِروں کے اعراض کرنے سے رنجیدہ نہ ہوں اور عذاب کی جلدی نہ کریں ۔

اَوَ لَمْ یَرَوْا اَنَّا نَاْتِی الْاَرْضَ نَنْقُصُهَا مِنْ اَطْرَافِهَاؕ-وَ اللّٰهُ یَحْكُمُ لَا مُعَقِّبَ لِحُكْمِهٖؕ-وَ هُوَ سَرِیْعُ الْحِسَابِ(۴۱)

کیا انہیں نہیں سوجھتا کہ ہم ہر طرف سے ان کی آبادی گھٹاتے آرہے ہیں (ف۱۱۳) اور اللہ حکم فرماتا ہے اس کا حکم پیچھے ڈالنے والا کوئی نہیں (ف۱۱۴) اور اسے حساب لیتے دیر نہیں لگتی

(ف113)

اور زمینِ شرک کی وسعت دمبدم کم کر رہے ہیں اور سیدِ عالَم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے لئے کُفّار کے گرد و پیش کی اراضی یکے بعد دیگرے فتح ہوتی چلی جاتی ہے اور یہ صریح دلیل ہے کہ اللہ تعالٰی اپنے حبیب کی مدد فرماتا ہے اور ان کے لشکر کو فتح مند کرتا ہے اور انکے دین کو غلبہ دیتا ہے ۔

(ف114)

اس کا حکم نافذ ہے کسی کی مجال نہیں کہ اس میں چوں چرا یا تغییر و تبدیل کرسکے جب وہ اسلا م کو غلبہ دینا چاہے اور کُفر کو پست کرنا تو کس کی تاب و مجال کہ اس کے حکم میں دخل دے سکے ۔

وَ قَدْ مَكَرَ الَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِهِمْ فَلِلّٰهِ الْمَكْرُ جَمِیْعًاؕ -یَعْلَمُ مَا تَكْسِبُ كُلُّ نَفْسٍؕ- وَ سَیَعْلَمُ الْكُفّٰرُ لِمَنْ عُقْبَى الدَّارِ(۴۲)

اور ان سے اگلے (ف۱۱۵) فریب کرچکے ہیں تو ساری خفیہ تدبیر کا مالک تو اللہ ہی ہے(ف۱۱۶) جانتا ہے جو کچھ کوئی جان کمائے (ف۱۱۷) اور اب جاننا چاہتے ہیں کافرکسے ملتا ہے پچھلا گھر (ف۱۱۸)

(ف115)

یعنی گزری ہوئی اُمّتوں کے کُفّار اپنے انبیاء کے ساتھ ۔

(ف116)

پھر بغیر اس کی مشیت کے کسی کی کیا چل سکتی ہے اور جب حقیقت یہ ہے تو مخلوق کا کیا اندیشہ ۔

(ف117)

ہر ایک کا کسب اللہ تعالٰی کو معلوم ہے اور اس کے نزدیک ان کی جزا مقرر ہے ۔

(ف118)

یعنی کافِر عنقریب جان لیں گے کہ راحتِ آخرت مومنین کے لئے ہے اور وہاں کی ذلّت و خواری کُفّار کے لئے ہے ۔

وَ یَقُوْلُ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا لَسْتَ مُرْسَلًاؕ-قُلْ كَفٰى بِاللّٰهِ شَهِیْدًۢا بَیْنِیْ وَ بَیْنَكُمْۙ-وَ مَنْ عِنْدَهٗ عِلْمُ الْكِتٰبِ۠(۴۳)

اور کافر کہتے ہی تم رسول نہیں تم فرماؤ اللہ گواہ کافی ہے مجھ میں اور تم میں (ف۱۱۹) اور وہ جسے کتاب کا علم ہے (ف۱۲۰)

(ف119)

جس نے میرے ہاتھوں میں معجزاتِ باہرہ و آیاتِ قاہرہ ظاہر فرما کر میرے نبیٔ مُرسَل ہونے کی شہادت دی ۔

(ف120)

خواہ وہ عُلَمائے یہود میں سے توریت کا جاننے والا ہو یا نصارٰی میں سے انجیل کا عالم ، وہ سیدِ عالَم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی رسالت کو اپنی کتابوں میں دیکھ کر جانتا ہے ان عُلَماء میں سے اکثر آپ کی رسالت کی شہادت دیتے ہیں ۔