آپ ختم قادریہ پڑھیں، لیکن یہ بھی پڑھیں

(افتخار الحسن رضوی )

اس حقیقت کو نظر انداز کرنا مشکل ہے کہ شخصیات باعث خیر و برکت ہوتی ہیں۔ سورہ بنی اسرائیل کی پہلی آیت میں “بَارَكْنَا حَوْلَهُ” سے لے کر عصرِ حاضر کے کسی سفید پوش، پسینے میں شرابور، غریب و صالح مسلمان تک یہ سفر جاری ہے۔ بزرگوں کے ناموں میں موجود خیرات و برکات کے دلائل اس وقت مزید قوی ہو جاتے ہیں جب ان کی پشت پناہی بارگاہ مصطفٰی کریم ﷺ سے ہوتی ہے۔ انگلیوں سے “پنج آبِ رحمت” کی روانی ہو، یا کمزور و نحیف بدن والی بکری کا دودھ درجنوں کے لیے کافی ہو جائے، وضو کا بچا ہوا پانی برکتوں کا دریا بن جائے یا پھر لعاب دہن باعثِ شفاء بن جائے، یہ سب “شخصیت و وجودِ انسانی” کی برکات ہی ہیں۔ صحرائے عرب میں اونٹ چرانے والے خطاب کے بیٹے کو جب فاروقی منصب عطا ہو جائے تو اس کے قدم میں اتنی طاقت پیدا ہو جاتی ہے کہ زلزلے رک جائیں اور اس کے قلم میں موجود اثر کی وجہ سے دریا رواں ہو جاتے ہیں۔ حیدر کے بازو میں وہ قوت ہے کہ خیبر فتح ہو جائے ۔ جزولی کا وجود “دافع بلیات” بن جائے، بوصیری کے اشعار ذریعہ شفاء بن جائیں، شاہِ جیلاں کا وجود رشد وہدایت کا منبع و مرکز بن جائے، علی ہجویری کی “گھوڑی” باعث خیر بن جائے۔ تاریخ تو یہ بھی بتاتی ہے کہ احمد رضا کے حکم سے بریلی کے بازار میں خریداروں کا رخ پھر گیا تھا۔

اس سب کے باوجود ایک نو مسلم، غیر مسلم اور “نسبت کی حلاوت” سے محروم شخص کو آپ یہ سب سنا کر قائل نہیں کر سکتے۔ سوشل میڈیا پر میری تحاریر پڑھنے والا کوئی شخص اگر یہ سمجھتا ہے کہ مجھے نسبت، وظائف، اوراد اور ختمات کا انکار ہے تو یہ اس کی کم علمی اور عدم واقفیت ہے۔ اس بات سے اندازہ کر لیں کہ اپنی زندگی میں پیدا ہونے والے متعدد برساتی دشمنوں کا خاتمہ “بطفیل حضرت دستگیر دشمن ہووے زیر” سے ہی کر دیا۔ لیکن عزیزان گرامی جب آپ امت مسلمہ کی اجتماعیت اور وحدت کی بات کریں گے تو ہمیشہ کتاب و سنت کے دائرے میں رہ کر ہی بات کی جائے گی۔ استمداد، تصوف، طریقت، استغاثہ، بعیت، ختمات وغیرہ وغیرہ یہ سب وہ معاملات یا معمولات ہیں جو صد فیصد قطعیات میں شمار ہوتے ہیں، ان امور پر اختلاف رکھنے سے بندہ کافر نہیں ہوتا۔ اگر ایسا ہی ہوتا تو ائمہ اربعہ ابو حنیفہ، شافعی، مالکی و حنبلی سرکاران گرامی رضی اللہ عنہم کس کے مرید تھے؟ وہ کون سا شجرہ اور ختم پڑھتے تھے؟ خلیفہ اول سے لے کر ان ائمہ کرام رضی اللہ عنہم تک کس کس نے اپنی حاجات کی برآوری کے لیے نماز، نوافل، قرآن اور ادعیہ ماثورہ کے لیے علاوہ دیگر وظائف و عبارات سے مدد لی؟

اپنی زندگی میں ہمارے روحانی مشاہدات، تجربات، معمولات کی حیثیت انفرادی ہے، ضروری نہیں کسی شیخِ کامل کی بارگاہ سے فردِ واحد پر ہونے والی “عطاء” پوری امت کے لیے دلیل بن جائے، مثلاً نبی کا خواب شرعی قانون بن سکتا ہے، حجت و دلیل ہے، لیکن غیر نبی کا خواب کبھی بھی شرعی قوانین کا حصہ نہیں ہو سکتا خواہ یہ خواب کسی صحابی رسول ہی نے دیکھا ہو ہاں بارگاہ مصطفٰی کریمﷺ سے اس کی تائید ہو جائے تو الگ بات ہے۔

ہم خرافات میں کھو چکے ہیں۔ آج کے مسلمان کی چند بڑی پریشانیوں میں سے مال، کاروبار، بیوی بچے، شادیاں، مقدمے، قرضے، بیماریاں، ویزے، ہجرتیں اور دیگر دنیوی مسائل شامل ہیں، ان سب کے حل کے لیے ہم صلوٰۃ الحاجات، نوافل، قرآن کی تلاوت، توبہ استغفار، صدقات و خیرات، ادعیہ ماثورہ وغیرہ تو نہیں پڑھتے، البتہ پیر جی سرکار کے بتائے ہوئے غیر مسنون وظائف، تعویذات، فارسی، ہندی، پنجابی اور اردو کی عبارات پڑھتے ہیں، پیر جی کو نذرانہ پیش کرتے ہیں ِ خود ساختہ و مادہ پرستی پر مبنی علاج کرتے ہیں۔ ہماری ان حرکات کی وجہ سے اغیار ہمیں “فرقہ” ثابت کرنے میں کامیاب ہو جاتے ہیں، جدید اذہان اور main stream مسلمانان عالم ہمارے ان ڈھکوسلوں کی وجہ سے تصوف، طریقت اور سنیت کو غلط سمجھ کر اس راہ پر چلے جاتے ہیں جسے آپ مدتوں سے اپنی “پناہ گاہوں” میں بیٹھ کر “بد مذہب و بد عقیدہ” کہتے آئے ہیں۔ اس بد عقیدگی کی راہ آپ نے خود ہموار کی ہے۔

ختم قرآن و ختم قادریہ میں ہرگز تقابل نہیں ہو سکتا۔ صرف سوئی ہوئی قوم کو جگانا مقصد تھا، سوال کی چوٹ سے ذہنوں اور دماغوں پر جمی ہوئی گرد چھٹ جاتی ہے۔ آپ مجھ سے اپنی مرضی کے الفاظ لکھوا سکتے ہیں، نہ اپنی مرضی کا بیان لے سکتے ہیں۔ لیکن ایک بات عرض کروں، میری تحاریر پڑھنے سے قبل خود کو ہند و پاک سے باہر نکال کر یہ سوچ لیا کریں کہ اس فقیر کو پڑھنے والے دنیا کے ہر اس کونے میں موجود ہیں جہاں جہاں سرکار مدینہﷺ کی خیرات کھانے والے موجود ہیں۔ لہٰذا مجھے علاقائی تہواروں سے بالا تر ہو کر پڑھیں۔ اگر میں جناب کے مزاج کے خلاف لکھتا ہوں تو دلائل کے ساتھ ضرور اختلاف کریں، اگر دلائل نہیں تو اپنی اصلاح کریں۔

6 جون 2020

14 شوال 1441

افتخار الحسن رضوی