أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

اُولٰٓئِكَ هُمُ الْوٰرِثُوْن ۞

ترجمہ:

وہی لوگ وارث ہیں

المئومنون : ١١-١٠ میں فرمایا وہی لوگ وارث ہیں۔ جو الفردوس کی وراثت پائیں گے وہ اس میں ہمیشہ رہنے والے ہیں۔

کیا جنت میں دخول صرف ان ہی صفات سے ہوگا جن کا المئومنون کی ابتداء میں ذکر ہے ؟

اس آیت سے بہ ظاہر معلوم ہوتا ہے کہ صرف وہی مومن جنت میں جائیں گے جو اپنی نمازوں میں خشوع کریں گے لغو باتوں سے اعراض کریں گے اپنا باطن صاف کریں گے، جو اپنی پاک دامنی کی حفاظت کریں گے جو اپنے عہد اور امانت کا پاس کریں گے اور جو اپنی نمازوں کی حفاظت کریں گے، حالانکہ اس آیت میں مومنوں کے نیک کاموں کے کرنے کا ذکر ہے اور ممنوعات سے بچنے کا ذکر نہیں ہے ؟ اس کا جواب یہ ہے کہ عہد اور امانت تمام قسم کے احکام شرعیہ کو شامل ہیں خواہ وہ فرائض اور واجبات ہوں یا محرمات اور مکروہات ہوں۔

اس پر دوسرا اعتراض یہ ہے کہ اس آیت سے بہ ظاہر حصر معلوم ہوتا ہے کہ صرف وہی مومن جنت میں جائیں گے جو تمام احکام شرعیہ پر عمل کرتے ہوں حالانکہ بچے اور مجنون بھی جنت میں جائیں گے اور عفو کے بعد فساق بھی جنت میں جائیں گے۔ اس کا جواب یہ ہے کہ عفو کے بع دفساق ان مومنین کے ساتھ لاحق ہوجائیں گے اور رہے بچے اور مجنون تو وہ غیر مکلف ہیں اور اس آیت میں مکلفین کے اعتبار سے حصر ہے اور اس کا دوسرا جواب یہ ہے کہ یہ مومنین اصالتاً جنت میں جائیں گے اور بچے اور مجنون ان کے تابع ہو کر جنت میں جائیں گے۔

الفردوس کا معنی اور اس کے متعلق احادیث 

فردوس حبشی یا رومی زبان کا لفظ ہے، یہ فارسی زبان سے لیا گیا ہے، فارسی میں فردوس اس باغ کو کہتے ہیں جس کے درخت پھیلتے جائیں اور قبطی زبان میں فردوس انگور کی بیلوں کو کہتے ہیں، قاموس اور منتہی الارب میں مذکور ہے کہ فردوس پانی کی اس چھوٹی سی نہر کو کہتے ہیں جس میں ہر طرف سبزہ اگا ہوا ہو اور جس باغ کے اندر ہر طرح کے پھل اور پھول ہوں۔ (تابع العروس ج ٤ ص ٢٠٥ مطبوعہ داراحیاء التراث العربی بیروت)

حضرت ابوہریرہ (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا جنت میں سو درجے ہیں جن کو اللہ تعالیٰ نے اللہ کی راہ میں جہاد کرنے والوں کے لئے تیار کیا ہے، ہر دو درجوں کے درمیان اتنا فاصلہ ہے جتنا آسمان اور زمین کے درمیان فاصلہ ہے۔ پس جب تم اللہ سے سوال کرو تو الفردوس کا سوال کرو کیونکہ وہ جنت کا اوسط ہے اور سب سے بلند درجہ ہے، اس کے اوپر رحمٰن کا عرش ہے اور اس سے جنت کے دریا نکلتے ہیں۔ (صحیح البخاری رقم الحدیث : ٢٧٩٠، مسند احمد رقم الحدیث : ٨٤٠٠ عالم الکتب بریوت)

یہ حدیث حضرت عبادہ بن الصامت (رض) سے بھی مروی ہے۔ (سنن الترمذی رقم الحدیث : ٢٥٣١، مسند احمد ج ٥ ص ٣١٦)

جنت کے وارث ہونے کا معنی 

اس آیت میں فرمایا ہے کہ مومنین جنت الفردوس کے وارث ہوں گے، اس وراثت کی دو طرح توجیہہ ہے، ایک یہ کہ انسان دنیا میں کچھ مال و متاع کو تو اپنے قوت بازو سے حاصل کرتا ہے اور اس میں اس کی محنت اور سکب کا دخل ہوتا ہے اور کچھ مال اس کو وراثت سے ملتا ہے مثلاً کوئی عزیز کچھ مال اور ترکہ چھوڑ کر مریا اور وہ اس کو وراثت سے مل گیا تو اس مال میں اس کی محنت اور کسب اور اس کے کسی استحقاق کا دخل نہیں ہوتا، اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ مئومنوں کو جنت بہ طور وراثت ملے گی یعنی اس میں ان کی محنت اور ان کے عمل کا کوئی دخل نہیں ہے اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ مومنوں کو جنت بہ طور وراثت ملے گی یعنی اس میں ان کی محنت اور ان کے عمل کا کوئی دخل نہیں ہے اللہ تعالیٰ نے ان کو جنت ان کے کسی حق کے بغیر محض اپنے فضل سے عطا فرمائی ہے اور اس کی دوسری توجیہہ یہ ہے کہ وراثت میں انسان کو کسی کا ترکہ ملتا ہے اور اخرت میں مومنوں کو ایک جنت تو اپنی ملے گی اور ننانوے جنتیں کفار کے ترکہ سے ملیں گی جو ان کے لئے بنائ گئی تھیں وہ اپنے کفر کی وجہ سے دوزخ میں چلے گئے اور اپنی جنتوں کو ترکہ میں چھوڑ گئے جو مومنوں کو وراثت میں دیدی جائیں گی، جیسا کہ حسب ذیل احادیث سے ظاہر ہے :

حضرت ابوہریرہ (رض) اس آیت کی تفسیر میں بیان کرتے ہیں کہ مومنین جنت میں اپنے ٹھکانوں کے وارث ہوں گے اور اپنے ان بھائیوں کے ٹھکانوں کے وارث ہوں گے جو اگر اللہ کی اطاعت کرتے تو ان ٹھکانوں میں رہتے جو ان کے لئے تیار کئے گئے تھے۔ (جامع البیان رقم الحدیث : ١٩٢٥٢، المستدرک ج ٢ ص ٣٩٣ حاکم نے کہا یہ حدیث صحیح ہے اور ذہبی نے بھی اسکی موافقت کی ہے)

القرآن – سورۃ نمبر 23 المؤمنون آیت نمبر 10