حکایت نمبر327: صابرہ خاتون

حضرتِ سیِّدُنااَصْمَعِی علیہ رحمۃ اللہ القوی فرماتے ہیں: ” ایک مرتبہ میں اپنے ایک دوست کے ساتھ سفر پر تھا ، جنگل سے گزرتے ہوئے ہم راستہ بھول گئے ،کچھ دورایک خیمہ نظر آیا تواس طر ف گئے وہا ں پہنچ کر بلند آواز سے سلام کیا ، تو ایک عورت خیمے سے باہرآئی اور ہمارے سلام کا جواب دیتے ہوئے پوچھا: ” تم کون ہو ؟” ہم نے کہا:” ہم راستہ بھول گئے ہیں خیمہ دیکھا تو اس طر ف چلے آئے۔” عور ت نے کہا:” تم لوگ تھوڑی دیر یہیں ٹھہرویہاں تک کہ میں تمہاراحق پورا کروں جس کے تم حق دار ہو۔” ہم وہیں کھڑے رہے۔ وہ پردے کے پیچھے چلی گئی اورکہا:”تم اپنامنہ دوسری طرف کرویہاں تک کہ تمہیں تمہارا حق دیا جائے۔” ہم دوسری طرف دیکھنے لگے ، اس نے اپنی چادر اُتار کربچھائی اور خود پردے کی اَوٹ میں ہی رہی اورکہنے لگی:”اس چادر پر بیٹھ جاؤ، میرا بیٹا ابھی آتا ہی ہوگاپھرتمہاری ضیافت کا اہتمام کردیا جائے گا ۔” ہم چادر پر بیٹھ گئے کچھ دور ایک سوار آتا دکھائی دیا تو بولی:” یہ اونٹ تو میرے بیٹے کا ہے لیکن اس پر سوار ہونے والا میرے بیٹے کے علاوہ کوئی اور ہے ۔”کچھ ہی دیر بعدسوار خیمے کے پاس پہنچ گیا اس نے عورت سے کہا:” اے اُمِّ عقیل! اللہ عَزَّوَجَلَّ تمہارے بیٹے کے معاملے میں تمہیں عظیم اجر عطا فرمائے ۔” یہ سن کر اس عورت نے کہا: ”تمہارا بھلا ہو، کیا میرا بیٹا مرگیا ؟” کہا :” ہاں۔” پوچھا:” اس کی موت کا سبب کیا بنا؟” کہا:” وہ اوٹنوں کے درمیان پھنس گیاتھا، اونٹوں نے اسے کنوئیں میں دھکیل دیاجس کی وجہ سے اس کی موت واقع ہوگئی۔” بیٹے کی موت کی خبر سن کر و ہ صابرہ خاتون نہ روئی اور نہ ہی کسی قسم کا واویلا کیا بلکہ اس اونٹ والے سے کہا: ”نیچے اُترو ہمارے ہاں کچھ مہمان آئیں ہیں ان کی ضیافت کا اہتمام کرو ، وہ سامنے مینڈھا بندھا ہوا ہے اسے ذبح کر کے مہمانوں کو پیش کرو۔”

چنانچہ، مینڈھا ذبح کیاگیا اور اس کے گو شت سے ہماری دعوت کی گئی۔ ہم کھانا کھاتے ہوئے سوچ رہے تھے کہ یہ عورت کتنی صبر والی ہے کہ جوان بیٹے کی موت پر کسی طر ح کا غیر شرعی کام نہ کیا او ر نہ ہی کسی قسم کا شور شرابہ کیا ۔جب ہم کھانا چکے تو صابرہ خاتون نے کہا:” تم میں سے کوئی شخص مجھے اللہ عَزَّوَجَلَّ کی کتاب میں سے کچھ آیات سنا کر مجھ پر احسان کریگا ؟” میں نے کہا:” ہاں! میں تمہیں قرآنی آیات سنا تا ہوں۔” صابرہ خاتون نے کہا:” مجھے کچھ ایسی آیات سناؤ جن سے صبر و شکر کی دولت نصیب ہو ۔ میں نے سورۂ بقرہ کی درج ذیل آیات بینات کی تلاوت کی : وَبَشِّرِ الصّٰبِرِیۡنَ ﴿155﴾ۙالَّذِیۡنَ اِذَاۤ اَصَابَتْہُمۡ مُّصِیۡبَۃٌ ۙ قَالُوۡۤا اِنَّا لِلہِ وَ اِنَّاۤ اِلَیۡہِ رٰجِعُوۡنَ ﴿156﴾

ترجمۂ کنزالایمان:اورخوشخبری سناان صبروالوں کوکہ جب ان پرکوئی مصیبت پڑے توکہیں ہم اللہ کے مال ہیں اورہم کواسی کی طرف پھرنا۔ (پ2،البقرۃ:155۔156)

خاتو ن نے یہ آیاتِ قرآنیہ سنیں تو کہا: ” جو تم نے پڑھا کیا قرآن میں بالکل اسی طرح ہے ؟” میں نے کہا :” ہاں! خدا عَزَّوَجَلَّ کی قسم! قرآن میں اسی طر ح ہے ۔” صابرہ خاتون نے کہا:” تم پر سلامتی ہو، اللہ عَزَّوَجَلَّ تمہیں خوش رکھے۔” پھر اس نے نماز پڑھی اور کہا: ”اِنَّا لِلّٰہِ وَاِنَّآ اِلَیْہِ رَاجِعُوْن ”بے شک میرا بیٹا عقیل اللہ عَزَّوَجَلَّ کی بارگاہ میں پہنچ گیا ہوگا، تین مرتبہ اس نے یہی کلمات کہے پھر اس طرح مُلْتَجِی ہوئی: ”اے میرے پاک پروردگار عَزَّوَجَلَّ ! جیسا تو نے حکم دیا میں نے ویسا ہی کیا اب تو بھی اپنے اس وعدے کو پورا فرما دے جو تو نے کیا ہے ، بے شک تو وعدہ خلافی نہیں کرتا ۔”(اللہ عزوجل کی اُن پر رحمت ہو..اور.. اُن کے صدقے ہماری مغفرت ہو۔آمین بجاہ النبی الامین صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وسلَّم)(سُبْحَانَ اللہ عَزَّوَجَلَّ ! صبر ہو تو ایسا اور یقین ہو تو ایسا ۔اس خوش بخت ماں نے اپنے جگر کے ٹکڑے، اپنے جوان بیٹے کی موت پر بے وقوف اور جاہل عورتوں کی طرح نوحہ ، چیخ وپکار اور کوئی بھی غیر شرعی کام نہ کیا۔ بلکہ حکمِ خداوندی سن کر نماز ادا کی اور وہی کیا جو حکمِ خداوندی تھا۔وہ خوش نصیب ماں اپنے پاک پروردگار عَزَّوَجَلَّ کی کتنی فرمانبردار تھی۔اللہ عَزَّوَجَلَّ ہمیں بھی مصائب وآلام پر صبر کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔جو نیک بندے مصیبت میں حرفِ شکایت زبان پر نہیں لاتے اور نہ ہی مصائب سے گھبراتے ہیں ان عاشقان ِرسول کا صدْقہ! اللہ عَزَّوَجَلَّ ہمیں بھی دولتِ صبر و شکر سے مالا مال فرما دے۔( آمین بجاہ النبی الامین صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وسلَّم))؎ زباں پر شکوۂ رنج والم لایا نہیں کرتے نبی کے نام لیوا غم سے گھبرایا نہیں کرتے