علم ہوتے ہوئے جاھلیت کا عمل

دور حاضر میں بہت ساری قومیں اپنے آپکو مھذب اور تعلیم یافتہ کہلانے کے باوجود چودہ سو سالہ پورانی جھالت کی طرف جا رہی ہیں،اور نام بدل کر وہی گھناوٗنا جرم کر رہے ہیں،فرق نوعیت کا ہے، اصل جرم دونوں جگہ برابر ہے،وہ یہ کہ ایک لڑکی تو برداشت کر لیتے ہیں اس سے زائد ان کے لئے بارگراں،اب جبکہ اسکان سے ماں کے پیٹ میں لڑکا ہے یا لڑکی اسے چار ماہ بعد معلوم کر لیا جاتا ہے لڑکی معلوم ہونے پر قصدا وضع حمل کرا لیتے ہیں،اور وضع حمل کرانے کا سبب اس کے علاوہ کوئی نہیں کہ وہ پیٹ میں پرورش پانے والی لڑکی ہے،کیا وہ لڑکا ہوتا تو ایسا کیا جاتا؟ یہ بات مسلم ہے کہ لڑکی تھی اسی لئے وضع حمل کیا گیا،اس زمانے میں ان کے پاس یہ سہولت نہ تھی اس لئے پیدا ہونے کے بعد زمین میں دبا دیا جاتا تھا اور اب سھولت ہو گئی تو پیدا ہونے سے پہلے ہی وضع حمل کرلیا جاتا ہے اور سمجھتے ہیں ہمنے کہاں قتل کیا ؟یعنی یہ جرم جاھلیت کے جرم سے بھی بڑھ گیا کہ وہاں تو قتل کو قتل سمجھا جاتا تھا اور یہاں اعضاء انسان مکمل ہوجانے کے بعد قصدا وضع حمل کو قتل سمجھا ہی نہیں جاتا ہے،گناہ کر کے گناہ نہ سمجھنا کئے ہوئے گناہ سے بھی بڑا گناہ ہے،الحاصل دعویٰ ترقی کا ہے اور کام پورانی جاھلیت کا ہے،یوں کہہ لو کہ اسی پورانی جاھلیت کی رسم کو ترقی سمجھ لیا گیا ہے،ان کے پاس دین کی سمجھ نہ تھی اس لئے کر رہے تھے اور یہاں علم ہوتے ہئے کیا جا رہا ہے، یہ تو اس جاہلیت کے عمل سے بھی زیادہ برا ہے،ذی علم کا گناہ نادان کے گناہ سے بڑا ہوتا ہے