أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

لِّـكُلِّ اُمَّةٍ جَعَلۡنَا مَنۡسَكًاهُمۡ نَاسِكُوۡهُ‌ فَلَا يُنَازِعُنَّكَ فِى الۡاَمۡرِ‌ وَادۡعُ اِلٰى رَبِّكَ‌ ؕ اِنَّكَ لَعَلٰى هُدًى مُّسۡتَقِيۡمٍ۞

ترجمہ:

ہم نے ہر امت کے لئے عبادت کا ایک طریقہ مقرر کردیا ہے جس کے موافق وہ عبادت کرنے والے ہیں تو انہیں اس (طریقہ) میں آپ سے جھگڑا نہیں کرنا چاہیے اور آپ انہیں اپنے رب کی طرف دعوت دیں، بیشک آپ ضرور سیدھے راستہ پر ہیں

تفسیر:

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : ہم نے ہر امت کے لئے عبادت کا ایک طریقہ مقرر کردیا ہے جس کے موافق وہ عبادت کرنے والے ہیں تو انہیں اس (طریقہ) میں آپ سے جھگڑا نہیں کرنا چاہیے اور آپ انہیں اپنے رب کی طرف دعوت دیں، بیشک آپ ضرور سیدھے راستہ پر ہیں۔ (الحج : ٦٧ )

منسک کے معنی کی تحقیق 

منسلک کے معنی میں کئی اقوال ہیں

(١) حضرت ابن عباس نے کہا اس سے مراد عید کا دن ہے جس میں وہ جانور ذبح کرتے ہیں

(٢) مجاہد نے کہا منسک کا لفظ قربانی کے جانوروں کے لئے مخصوص ہے۔

(٣) کسی عبادت کی ادائیگی کے لئے عرف میں ہیں جو جگہ یا جو وقت معین ہو اس کو منسلک کہتے ہیں۔

(٤) قفال کا مختاریہ ہے کہ منسک کا معنی ہے شریعت اور عبادت کرنے کا مخصوص طریقہ، اور یہ معنی اس آیت کے قریب ہے :

لکل جعلنا منکم شرعۃ ومنھا جا (المائدۃ : ٤٨) ہم نے تم میں سے ہر ایک کے لئے عبادت کا ایک مخصوص منشور اور دستور مقرر کردیا ہے۔

اور منسک کا لفظ نسک سے بنا ہے جس کا معنی عبادت ہے اور جب منسک کا لفظ ہر عبادت پر بولا جاتا ہے تو اس کو کسی ایک طریقہ عبادت کے ساتھ مخصوص کرنے کی کوئی وجہ نہیں ہے اگر یہ اعتراض کیا جائے کہ تم نے منسلک کے لفظ کو ذبح پر محمول کیوں نہیں کیا کیونکہ عرف میں نسک کے لفظ سے قربانی کا ہی معنی سمجھا جاتا ہے ؟ اس کا جواب یہ ہے کہ یہ درستن ہیں ہے کہ عرف میں نسک کے لفظ سے قربانی کا ہی معنی سمجھا جاتا ہے کیونکہ عرق میں تمام افعال حج کو مناسک کہتے ہیں۔ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا :

خذاواعنی منا سکم (سنن بیہقی ج ٥ ص ١٢٥) مجھ سے اپنے حج کے ارکان اور افعال کا علم حاصل کرو۔

پھر آپ اپنی امت کی عبادت کرنے کے لئے جو طریقہ بھی مقرر کریں اس پر کسی کو اعتراض اور بحث نہیں کرنی چاہیے کیونکہ ہر نبی نے اپنے زمانہ کے مخصوص حالات، رسم و رواج اور تہذیب و ثقافت کے اعتبار سیم خصوص عبادت کے طریقے مقرر کئے ہیں اور ہر زمانہ کے تقاضے الگ الگ ہوتے ہیں۔ یہ آیت اس وقت نازل ہوئی جب کافروں نے یہ اعتراض کیا کہ جو جانور طبعی موت مرجائے تم اس کو نہیں کھاتے اور جس کو تم ذبح کرتے ہو اس کو کھالیتے ہو، گویا اللہ کا مارا ہوا نہیں کھاتے اور اپنا مارا ہوا کھالیتے ہو، اس وقت یہ آیت نازل ہوئی کہ آپ اللہ کی عبادت کرنے کا جو طریقہ چاہیں مقرر کریں کسی کو اعتراض کرنے کا حق نہیں ہے اور اس وقت یہ آیت نازل ہوئی کہ آپ اللہ کی عبادت کرنے کا جو طریقہ چاہیں مقرر کریں کسی کو اعتراض کرنے کا حق نہیں ہے اور آپ اپنے طریقہ پر قائم رہیں اور لوگوں کی عبادت کرنے کا جو طریقہ چاہیں مقرر کریں کسی کو اعتراض کرنے کا حق نہیں ہے اور آپ اپنے طریقہ پر قائم رہیں اور ولگوں کو اللہ کی توحید اس کے دین اور اس پر ایمان لانے کی دعوت دیتے رہیں آپ سیدھی راہ پر ہیں اس میں کوئی کجی نہیں ہے۔

تبیان القرآن – سورۃ نمبر 22 الحج آیت نمبر 67