أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

مَا قَدَرُوا اللّٰهَ حَقَّ قَدۡرِهٖؕ اِنَّ اللّٰهَ لَقَوِىٌّ عَزِيۡزٌ‏۞

ترجمہ:

انہوں نے اللہ کی اس طرح قدر نہیں کی جس طرح اس کی قدر کرنے کا حق تھا، بیشک اللہ نہایت قوی بےحد غالب ہے

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : انہوں نے اللہ کی اس طرح قدر نہیں کی جس طرح اس کی قدر کرنے کا حق تھا، بیشک اللہ نہایت قوی بےحد غالب ہے۔ (الحج : ٧٤)

بت پرستوں کا اللہ تعالیٰ کی قدر نہ کرنا 

یعنی انہوں نے اللہ تعالیٰ کی اس طرح تعظیم نہیں کی جس طرح تعظیم کرنے کا حق تھا کیونکہ بت جو انتہائی کمزور اور گھٹیا ہیں انہوں نے ان کو استحقاق عبادت میں اللہ تعالیٰ کا شریک بنادیا اور اللہ تعالیٰ قوی ہے اس کے لئے کوئی کام کرنا مشکل نہیں ہے اور وہ غالب ہے کیونکہ کوئی شخص اور کوئی چیز اس سے مقابلہ کرنے پر قادر نہیں ہے۔ اور وہ غالب ہے کیونکہ کوئی شخص اور کوئی چیز اس سے مقابلہ کرنے پر قادر نہیں ہے۔

یہ آیت یہودیوں میں سے مالک بن الصیف، کعب بن اشرف اور کعب بن اسد وغیرہ ہم کے متعلق نازل ہوئی ہے جنہوں نے یہ کہا کہ اللہ سات آسان اور سات زمینیں بنانے کے بعد تھک گیا، پھر وہ لیٹ گیا اور ایک ٹانگ کو دوسری ٹانگ پر رکھ کر آرام کیا۔ (تفسیر کبیرج ٩ ص 252، داراحیاء اتلتراث العربی بیروت 1415 ھ)

تو ان کے رد میں یہ آیت نازئی ہوئی، اسی طرح حسب ذیل آیت بھی ان کے رد میں نازل ہوئی :

ولقد خلقنا السموت والارض وما بینھما فی ستۃ ایام وما مسنا من لغوب۔ (ق :38) بیشک ہم نے آسمانوں کو اور زینوں کو جو کچھ ان کے درمیان میں ہے ان سب کو چھ دن میں پیدا کردیا اور ہم کو تھکاوٹ نے چھوا تک نہیں۔

یہ تمام شبہات اس وقت پیدا ہوت یہیں جب اللہ تعالیٰ کو کسی مخلوق کے مشابہ مانا جائے اور جب یہ عقیدہ ہو کہ اللہ تعالیٰ کسی چیز کے مشابہ نہیں ہے اور کوئی چیز اس کی مثال نہیں ہے، تو پھر کوئی اشتباہ نہیں ہوتا پس اللہ سبحانہ زیز اور غالب ہے وہم اس کا تصور نہیں کرسکتا اور فکر اس کا اندازہ نہیں کرسکتا اور عقل اس کی حقیقت کو نہیں جان سکتی زمانہ اس کا احاطہ نہیں کرسکتا، جہات اس کی تحدید نہیں کرسکتیں وہ صمدی الذات ہے اور سرمدی الصفات ہے۔

القرآن – سورۃ نمبر 22 الحج آیت نمبر 74