أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

وَالَّذِيۡنَ هُمۡ لِلزَّكٰوةِ فَاعِلُوۡنَۙ ۞

ترجمہ:

اور جو اپنا باطن صاف کرنے والے ہیں

المومنون : ٤ میں فرمایا اور جو زکوۃ ادا کرنے والے ہیں۔

زکوۃ کے معانی 

ابو مسلم نے کہا ہر پسندیدہ اور مستحسن فعل کو زکوۃ کہتے ہیں، قرآن مجید میں ہے :

قد افلح من تزکی (الاعلی : ١٤) جسنے اپنا باطن صاف کر لای وہ کامیاب ہوگیا۔

فلا تزکوا انفسکم (النجم : ٣٢) تم اپنی تعریف اور تحسین نہ کرو 

خذمن اموالھم صدقۃ تطھرھم وتزکیھم بھا (التوبتہ : ١٠٣) ان کے مالوں سے صدقہ لے کر ان کو پاک کریں اور ان کے باطل کو صاف کریں۔

اس آیت میں زکوۃ کا یہی معنی مراد ہے، زکوۃ کا دوسرا معنی ہے : بہ قدر نصاب مال پر جب ایک سال گزر جائے تو اس میں سیڈھائی فیصد مال نکال کر فقراء اور مساکین کو دینا اس آیت سے زکوۃ کا یہ معنی مراد نہیں ہے کیونکہ اس معنی میں زکوۃ مدینہ منورہ اس کی زیادہ تفصیل کی ہے۔ 

القرآن – سورۃ نمبر 23 المؤمنون آیت نمبر 4