أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

يٰۤـاَيُّهَا الَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا ارۡكَعُوۡا وَاسۡجُدُوۡا وَ اعۡبُدُوۡا رَبَّكُمۡ وَافۡعَلُوۡا الۡخَيۡرَ لَعَلَّكُمۡ تُفۡلِحُوۡنَ۩ ۞

ترجمہ:

اے ایمان والو رکوع کرو اور سجدہ کرو اور اپنے رب کی عبادت کرو اور نیکی کے کام کرو تاکہ تم کامیاب ہو ۞

تفسیر:

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : اے ایمان والو ! رکوع کرو اور سجدہ کرو اور اپنے رب کی عبادت کرو اور نیکی کے کام کرو تاکہ تم کامیاب ہو۔ (الحج : ٧٧)

یایھا الذین کا خطاب صرف مومنوں کو شامل ہے 

اس سے پہلی آیات میں اللہ تعالیٰ نے پہلے الٰہیات پر کلام فرمایا، پھر نبوت پر کلام فرمایا، اس کے بعد احکام شرعیہ پر کلام کو شروع فرمایا، اور اس میں چار وجہوں سے کلام فرمایا : (١) جن کو احکام کا مکلف کیا ہے ان کا تعین فرمایا (٢) جو احکام دیئے ہیں ان کی تفصیل (٣) ان احکام پر عمل کرنے کے بعد جو ثمرہ مرتب ہوگا (٤) ان احکام کا مکلف کرنے کی تاکید۔

جن کو ان احکام کا مکلف کیا ہے ان کا تعین کرتے ہوئے فرمایا : اے ایمان والو ! اور اس خطاب سے مراد تمام مکلفین ہیں خواہ وہ مومن ہوں یا کافر، کیونکہ ان احکام کا مکلف ہر شخص ہے اس لئے ان احکام کے ساتھ صرف مومنوں کو کملف کرنے کی تخصیص کی کوئی وجہ نہیں ہے، یہ امام شافعی اور ان کے متبعین کا موقف ہے اور بعض احناف کا بھی یہی نظریہ ہے کہ کفار بھی احکام کے مکلف ہیں کیونکہ قرآن مجید میں ہے : جب اہل جنت نے اہل دوزخ سے سوال کیا :

ماسلککم فی سقر۔ قالوا لم نک من المصلین۔ ولم نک نطعم المسکین۔ (المدثر :42-44) تمہیں کس چیز نے دوزخ میں داخل کردیا۔ وہ کہیں گے کہ ہم نمازیوں میں سے نہ تھے۔ اور ہم مسکینوں کو کھانا نہیں کھلاتے تھے۔ 

اس سے معلوم ہوا کہ کفار بھی اس حکم کے مکلف ہیں کہ وہ نماز پڑھیں اور مسکینوں کو کھانا کھلائیں۔

اور جمہور احناف کا موقف یہ ہے کہ احکام شرعیہ کے صرف مومن مکلف ہیں، کفار احکام شرعیہ کے مکلف نہیں ہیں وہ صرف ایمان لانے کے مکلف ہیں کیونکہ کفر کے ساتھ نماز پڑھنا، روزہ رکھنا، زکوۃ دینا اور حج کرنا مقبول نہیں ہے اس لئے ان احکام کے صرف مومن مکلف ہیں کفار ان احکام کے مکلف نہیں ہیں۔

دوسری وجہ یہ ہے کہ یایھا الذین امنوا کا مصداق صرف مومنین ہیں کفار اس خطاب میں داخل نہیں ہیں اور تیسری وجہ یہ ہے کہ اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے فرمایا اجتبکم اس نے تم کو برگزیدہ بنایا ہے، یہ خطاب صرف مومنوں کے لائق ہے اور پھر فرمایا ہے کہ اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے فرمایا اجتبکم اس نے تم کو برگزیدہ بنایا ہے، یہ خطاب صرف مومنوں کے لائق ہے اور پھر فرمایا ہے کہ اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے فرمایا اجتبکم اس نے تم کو برگزیدہ بنایا ہے، یہ خطاب صرف مومنوں کے لائق ہے اور پھر فرمایا ہے وسمکم المسلمین اس نے اس سے پہلے تمہارا نام مسلمان رکھا ہے اور یہ خطاب بھی صرف مومنین کے لائق ہے اور فرمایا وتکونوا شھداء علی الناس اور تم لوگوں پر گواہ ہو جائو، یہ تمام خطابات صرف مومنین کے لائق ہیں۔

چار قسم کے احکام شرعیہ 

اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے احکام کا ذکر فرمایا اور اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے چار احکام بیان فرمائے ہیں :

(١) نماز، اس پر واسجدوا دلالت کرتا ہے کیونکہ بعض علماء کے نزدیک نماز کا سب سے افضل رکن سجدہ ہے اور رکوع اور سجود نماز کے ساتھ مختص ہیں حتیٰ کہ رکوع اور سجود نماز کے قائم مقام ہیں۔

(٢) دوسری حکم کا ذکر ہے اور تم اپنے رب کی عبادت کرو، اور اس کے کئی محمل ہیں : (١) تم اپنے رب کی عبادت کرو اور اس کے غیر کی عبادت نہ کرو (ب) جن کاموں کے کرنے کا حکم دیا ہے اور جن کاموں سے منع کیا ہے ان سب کاموں میں اپنے رب کی عبادت کرو (ج) رکوع اور سجدود اور باقی اطاعت کو بطور عبادت کرو کیونکہ فقط ان افعال کو کرنا کافی نہیں ہے جب تک کہ ان میں عبادت کا قصد نہ کیا جائے کیونکہ عبادت سے ہی ثواب کا دروازہ کھلتا ہے۔

(٣) اور نیکی کے کام کرو، حضرت ابن عباس (رض) نے فرمایا اس سے مراد ہے صلہ رحم اور دور سے اچھے اخلاق۔

امام رازی نے فرمایا ہے میرے نزدیک یہ ترتیب اس نکتہ پر مبنی ہے کہ نماز انواع عبادت کی ایک قسم ہے اور عبادت نیکی کے کاموں کی انواع کی ایک قسم ہے، کیونکہ نیکی کے کاموں کی دو قسمیں ہیں خالق کی تعظیم کرنا اور وہ عبادت ہے اور مخلوق پر شفقت کرنا اور اس میں تمام کا رم اخلاق، فقراء پر صدقہ کرنا اور لوگوں سے اچھی باتیں کرنا داخل ہیں گویا کہ اللہ سبحانہ نے یوں فرمایا میں نے تم کو نماز کا مکلف کیا ہے بلکہ اس سے بھی عام چیز کا مکلف کیا ہے وہ ہے عبادت کرنا، بلکہ اس سے بھی عام چیز کا مکلف کیا ہے اور وہ ہے نیکی کے کام کرنا۔ اس کے بعد فرمایا : تاکہ تم کامیاب ہو جائو یعنی آخرت کی نعمتوں کو حاصل کرلو، عربی میں لعل کا لفظ امید کے لئے آتا ہے، کیونکہ کبھی کبھی انسان سے عبادت میں کوتاہی ہوجاتی ہے اور اس دور کے مسلمانوں سے تو زیادہ تر عبادت میں کوتاہی ہی ہوتی ہے اس لئے اس کا یقین نہیں ہوتا کہ یہ عبادت آیا مقبول ہوگی یا نہیں ؟ اور انجام اور عواقب بھی مستور اور مخفی ہیں اس لئے انسان اخروی فوز و فلاح کی صرف امید ہی کرسکتا ہے، اور ایمان خوف اور امید کے درمیان ہے، یعنی بندہ اللہ کے عذاب سے خوف زدہ رہے اور اللہ تعالیٰ کی مغفرت اور ثاب کا امیدار ہے۔

چوتھے حکم کا ذکر اس کے بعد والی آیت میں ہے اور وہ ہے اللہ تعالیٰ کی راہ میں جہاد کرنا۔

تبیان القرآن – سورۃ نمبر 22 الحج آیت نمبر 77