بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ ﴿﴾

اللہ کے نام سے شروع جو نہایت مہربان رحم والا (ف۱)

(ف1)

سورۂ ابراہیم مکیّہ ہے سوائے آیت ” اَلَمْ تَرَ اِلیَ الَّذِیْنَ بَدَّلُوْا نِعْمَتَ اللّٰہِ کُفۡراً ” اور اس کے بعد والی آیت کے اس سورت میں سات رکوع باون آیتیں آٹھ سو اکسٹھ کلمے تین ہزار چار سو چونتیس حرف ہیں ۔

الٓرٰ-كِتٰبٌ اَنْزَلْنٰهُ اِلَیْكَ لِتُخْرِ جَ النَّاسَ مِنَ الظُّلُمٰتِ اِلَى النُّوْرِ ﳔ بِاِذْنِ رَبِّهِمْ اِلٰى صِرَاطِ الْعَزِیْزِ الْحَمِیْدِۙ(۱)

ایک کتاب ہے (ف۲) کہ ہم نے تمہاری طرف اتاری کہ تم لوگوں کو (ف۳) اندھیریوں سے (ف۴) اجالے میں لاؤ (ف۵) ان کے رب کے حکم سے اس کی راہ (ف۶) کی طرف جو عزت والا سب خوبیوں والا ہے

(ف2)

یہ قرآن شریف ۔

(ف3)

کُفر و ضلالت و جہل و غوایت کی ۔

(ف4)

ایمان کے ۔

(ف5)

ظلمات کو جمع اور نور کو واحد کے صیغہ سے ذکر فرمانے میں ایماء ہے کہ دینِ حق کی راہ ایک ہے اور کُفر و ضلالت کے طریقے کثیر ۔

(ف6)

یعنی دینِ اسلام ۔

اللّٰهِ الَّذِیْ لَهٗ مَا فِی السَّمٰوٰتِ وَ مَا فِی الْاَرْضِؕ-وَ وَیْلٌ لِّلْكٰفِرِیْنَ مِنْ عَذَابٍ شَدِیْدِ ﹰ (۲)

اللہ کہ اسی کا ہے جو کچھ آسمانوں میں ہے اور جو کچھ زمین میں (ف۷) اور کافروں کی خرابی ہے ایک سخت عذاب سے

(ف7)

وہ سب کا خالِق و مالک ہے ، سب اس کے بندے اور مملوک تو اس کی عبادت سب پر لازم اور اس کے سوا کسی کی عبادت روا نہیں ۔

الَّذِیْنَ یَسْتَحِبُّوْنَ الْحَیٰوةَ الدُّنْیَا عَلَى الْاٰخِرَةِ وَ یَصُدُّوْنَ عَنْ سَبِیْلِ اللّٰهِ وَ یَبْغُوْنَهَا عِوَجًاؕ-اُولٰٓىٕكَ فِیْ ضَلٰلٍۭ بَعِیْدٍ(۳)

جنہیں آخرت سے دنیا کی زندگی پیاری ہے اور اللہ کی راہ سے روکتے (ف۸) اور اس میں کجی(ٹیڑھا پن) چاہتے ہیں وہ دور کی گمراہی میں ہیں (ف۹)

(ف8)

اور لوگوں کو دینِ الٰہی قبول کرنے سے مانع ہوتے ہیں ۔

(ف9)

کہ حق سے بہت دور ہوگئے ہیں ۔

وَ مَاۤ اَرْسَلْنَا مِنْ رَّسُوْلٍ اِلَّا بِلِسَانِ قَوْمِهٖ لِیُبَیِّنَ لَهُمْؕ-فَیُضِلُّ اللّٰهُ مَنْ یَّشَآءُ وَ یَهْدِیْ مَنْ یَّشَآءُؕ-وَ هُوَ الْعَزِیْزُ الْحَكِیْمُ(۴)

اور ہم نے ہر رسول اس کی قوم ہی کی زبان میں بھیجا (ف۱۰) کہ وہ انہیں صاف بتائے (ف۱۱) پھراللہ گمراہ کرتا ہے جسے چاہے اوروہ راہ دکھاتا ہے جسے چاہے اور وہی عزت حکمت والا ہے

(ف10)

جس میں وہ رسول مبعوث ہوا ، خواہ اس کی دعوت عام ہو اور دوسری قوموں اور دوسرے مُلکوں پر بھی اس کا اِتِّباع لازم ہو جیسا کہ سیدِ عالَم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی رسالت تمام آدمیوں اور جنّوں بلکہ ساری خَلق کی طرف ہے اور آپ سب کے نبی ہیں جیسا کہ قرآنِ کریم میں فرمایا گیا ” لِیَکُوْنَ لِلْعَالَمِیْنَ نَذِیْراً ”۔

(ف11)

اور جب اس کی قوم اچھی طرح سمجھ لے تو دوسری قوموں کو ترجموں کے ذریعے سے وہ احکام پہنچا دیئے جائیں اور ان کے معنٰی سمجھا دیئے جائیں ۔ بعض مفسِّرین نے اس آیت کی تفسیر میں یہ بھی فرمایا ہے کہ قومِہٖ کی ضمیر سیدِ عالَم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی طرف راجع ہے اور معنٰی یہ ہیں کہ ہم نے ہر رسول کو سیدِ انبیاء محمّدِ مصطفٰے صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی زبان یعنی عربی میں وحی فرمائی اور یہ معنٰی ایک روایت میں بھی آئے ہیں کہ وحی ہمیشہ عربی زبان ہی میں نازِل ہوئی پھر انبیاء علیہم السلام نے اپنی قوموں کے لئے ان کی زبانوں میں ترجمہ فرما دیا ۔ ( اتقان ، حسینی )

مسئلہ : اس سے معلوم ہوتا ہے کہ عربی تمام زبانوں میں سب سے افضل ہے ۔

وَ لَقَدْ اَرْسَلْنَا مُوْسٰى بِاٰیٰتِنَاۤ اَنْ اَخْرِ جْ قَوْمَكَ مِنَ الظُّلُمٰتِ اِلَى النُّوْرِ ﳔ وَ ذَكِّرْهُمْ بِاَیّٰىمِ اللّٰهِؕ-اِنَّ فِیْ ذٰلِكَ لَاٰیٰتٍ لِّكُلِّ صَبَّارٍ شَكُوْرٍ(۵)

اور بےشک ہم نے موسیٰ کو اپنی نشانیاں (ف۱۲) دے کر بھیجا کہ اپنی قوم کو اندھیریوں سے (ف۱۳) اجالے میں لا اور انہیں اللہ کے دن یاد دلا (ف۱۴) بےشک اس میں نشانیاں ہیں ہر بڑے صبر والے شکر گزار کو

(ف12)

مثل عصا و یدِ بیضا وغیرہ معجزاتِ باہرہ کے ۔

(ف13)

کُفر کی نکال کر ایمان کے ۔

(ف14)

قاموس میں ہے کہ ایّامُ اللہ سے اللہ کی نعمتیں مراد ہیں ۔ حضرت ابنِ عباس و اُبی بن کعب و مجاہد و قتادہ نے بھی ایّامُ اللہ کی تفسیر (اللہ کی نعمتیں) فرمائیں ۔ مقاتل کا قول ہے کہ ایّامُ اللہ سے وہ بڑے بڑے وقائع مراد ہیں جو اللہ کے امر سے واقع ہوئے ۔ بعض مفسِّرین نے فرمایا کہ ایّامُ اللہ سے وہ دن مراد ہیں جن میں اللہ نے اپنے بندوں پر انعام کئے جیسے کہ بنی اسرائیل کے لئے مَن و سلوٰی اتارنے کا دن ، حضرت موسٰی علیہ السلام کے لئے دریا میں راستہ بنانے کا دن ( خازن و مدارک و مفرداتِ راغب) ان ایّامُ اللہ میں سب سے بڑی نعمت کے دن سیدِعالَم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ولادت و معراج کے دن ہیں ، ان کی یاد قائم کرنا بھی اس آیت کے حکم میں داخل ہے اسی طرح اور بزرگوں پر جو اللہ تعالٰی کی نعمتیں ہوئیں یا جن ایّام میں واقعاتِ عظمیہ پیش آئے جیسا کہ دسویں محرم کو کربلا کا واقعہ ہائلہ ، ان کی یادگار میں قائم کرنا بھی تذکیر بِایّامِ اللہ میں داخل ہے ۔ بعض لوگ میلاد شریف معراج شریف اور ذکرِ شہادت کے ایّام کی تخصیص میں کلام کرتے ہیں انہیں اس آیت سے نصیحت پذیر ہونا چاہیئے ۔

وَ اِذْ قَالَ مُوْسٰى لِقَوْمِهِ اذْكُرُوْا نِعْمَةَ اللّٰهِ عَلَیْكُمْ اِذْ اَنْجٰىكُمْ مِّنْ اٰلِ فِرْعَوْنَ یَسُوْمُوْنَكُمْ سُوْٓءَ الْعَذَابِ وَ یُذَبِّحُوْنَ اَبْنَآءَكُمْ وَ یَسْتَحْیُوْنَ نِسَآءَكُمْؕ-وَ فِیْ ذٰلِكُمْ بَلَآءٌ مِّنْ رَّبِّكُمْ عَظِیْمٌ۠(۶)

اور جب موسیٰ نے اپنی قوم سے کہا (ف۱۵) یاد کرو اپنے اوپر اللہ کا احسان جب اس نے تمہیں فرعون والوں سے نجات دی جو تم کو بری مار دیتے تھے اور تمہارے بیٹوں کو ذبح کرتے اور تمہاری بیٹیاں زندہ رکھتے اور اس میں (ف۱۶) تمہارے رب کا بڑا فضل ہوا

(ف15)

حضرت موسٰی علیہ الصلٰوۃ و التسلیمات کا اپنی قوم کو یہ ارشاد فرمانا تذکیر ایّامُ اللہ کی تعمیل ہے ۔

(ف16)

یعنی نجات دینے میں ۔