أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

ثُمَّ اَنۡشَاۡنَا مِنۡۢ بَعۡدِهِمۡ قَرۡنًا اٰخَرِيۡنَ‌ ۞

ترجمہ:

پھر ہم نے انکے بعد ایک اور زمانہ کے لوگ پیدا کئے

تفسیر:

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : پھر ہم نے ان کے بعد ایک اور زمانہ کے لوگ پیدا کئے۔ پس ہم نے ان میں ان ہی میں سے ایک رسول بھیجا (جس نے کہا) کہ تم اللہ کی عبادت کرو اس کے سوا تمہاری عبادت کا اور کوئی مستحق نہیں، تو کیا تم نہیں ڈرتے۔ (المئومنون : ٣٢-٣١)

حضرت ھود (علیہ السلام) کا قصہ 

ان آیتوں سے اللہ تعالیٰ نے حضرت ھود (علیہ السلام) کا قصہ شرع فرمایا ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ نے حضرت نوح کے بعد حضرت ھود کو مبعوث فرمایا ہے جیسا کہ اس آیت سے ظاہر ہوتا ہے :

واذکروآ اذ جعلکم خلفآء من بعد قوم نوح وزادکم فی الخلق بضطۃ (الاعراف ٦٩) اور یاد کرو جب قوم نوح کے بعد اللہ نے تم کو ان کا جانشین بنادیا اور تمہاری جسامت کو بڑھا دیا۔

اللہ تعالیٰ نے حضرت ھود (علیہ السلام) کا قصہ الاعراف : ٧٢٦٥ میں تفصیل سے بیان فرمایا ہے تبیان القرآن ج ٤ ص ٢٠٧- ١٩٨ ہم نے اس کی تفصیل حسب ذیل عنوانات کے تحت کی ہے :

(١) حضرت ھود علیہ اسللام کا شجرہ نسب۔ (٢) حضرت ھود علیہ اسللام کی قوم عاد کی طرف بعثت۔ (٣) عاد کی قوت اور سطوت اور ان پر عذاب نازل ہونے کے متعلق قرآن مجید کی آیات۔ (٤) قوم عاد کے وطن کی تاریخی حیثیت۔ (٥) صالحین کے عرس کی تحقیق (٦) حضرت ھود (علیہ السلام) کے قصہ اور حضرت نوح (علیہ السلام) کے قصہ کے مابین فرق۔ (٧) حضرت نوح اور حضرت ھود (علیہما السلام) کے مقابلہ میں سیدنا محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی وجاہت۔ (٨) اللہ تعالیٰ کی توحید اور استحقاق عبادت پر دلیل۔

تبیان القرآن – سورۃ نمبر 23 المؤمنون آیت نمبر 31