أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

قَالَ رَبِّ انْصُرۡنِىۡ بِمَا كَذَّبُوۡنِ ۞

ترجمہ:

رسول نے دعا کی اے میرے رب ! میری مدد فرما کیونکہ انہوں نے میری تکذیب کی ہے

تفسیر:

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : رسول نے دعا کی اے میرے رب ! میری مدد فرما کیونکہ انہوں نے میری تکذیب کی ہے۔ اللہ نے فرمایا تھوڑی دیر گزرتی ہے کہ یہ اپنے کئے پر پشیمان ہوں گے۔ بالآخر تقاضائے عدل کے مطابق ایک زبردست چنگھاڑنے ان کو پکڑ لیا پس ہم نے ان کو (ہلاک کر کے) خس و خاشاک بنادیا سو ظالم لوگوں کے لئے دوری ہو۔ (الموممنون : ٤١-٣٩)

رسول کا قوم کے ایمان سے مایوس ہو کر ان کی ہلاکت کی دعا کرنا 

جب وہ رسول اپنی قوم کے اکابر اور اصاغر کے ایمان لانے اور پیغام حق کو قبول کرنے سے مایوس ہوگئے تو انہوں نے اللہ تعالیٰ سے دعا کی اے میرے رب میری مدد فرما کیونکہ انہوں نے میری تکذیب کی ہے، اللہ تعالیٰ نے فرمایا تھوڑی دیر گزرتی ہے کہ یہ اپنے کئے پر پشیمان ہوں گے، اس کا محمل یہ ہے کہ ان کی قوم کے سامنے عذاب کی علامات نمودار ہوگئیں جس کی وجہ سے وہ اپنے نبی کی دعوت قبول نہ کرنے پر پچھتائے اور عذاب دیکھنے کے بعد ایمان لانا قبول نہیں ہوتا اس لئے ان کو اپنی دامت اور حسرت سے کوئی فائدہ نہ ہوا، پھر اللہ تعالیٰ نے اپنے برحق عذاب کا ذکر فرمایا کہ ایک زبردست چنگھاڑنے ان کو پکڑ لیا، اس چنگھاڑ کے متعلق کئی اقوال ہیں : ١۔ حضرت جبرئیل (علیہ السلام) نے ان کے اوپر ایک زبردست چنگھاڑ ماری اور اس کی وجہ سے وہ مرگئے۔ ٢۔ حضرت ابن عباس (رض) نے فرمایا اس چنگھاڑ سے مراد زلزلہ ہے۔ ٣۔ حسن نے کہا چنگھاڑ سے مراد نفس عذاب اور موت ہے۔

اللہ تعالیٰ نے فرمایا ظالم لوگوں کے لئے دوری ہو، یہ ارشاد لغنت کے منزلہ میں ہے یعنی اللہ تعالیٰ کی رحمت اور اس کی خبر سے ان کے لئے دوری ہو، یہ اللہ تعالیٰ نے ان کے استخفاف اور ان کی توہین کے لئے فرمایا اور ان کے اوپر ایسا عذاب نازل فرمایا جو ان کے عذاب اخروی پر دلالت کرتا ہے جس میں یہ نعمتوں، راحتوں اور اجر وثواب سے بہت دور ہوں گے۔

تبیان القرآن – سورۃ نمبر 23 المؤمنون آیت نمبر 39