أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

وَقَالَ الۡمَلَاُ مِنۡ قَوۡمِهِ الَّذِيۡنَ كَفَرُوۡا وَكَذَّبُوۡا بِلِقَآءِ الۡاٰخِرَةِ وَاَتۡرَفۡنٰهُمۡ فِى الۡحَيٰوةِ الدُّنۡيَا ۙ مَا هٰذَاۤ اِلَّا بَشَرٌ مِّثۡلُكُمۡ ۙ يَاۡكُلُ مِمَّا تَاۡكُلُوۡنَ مِنۡهُ وَيَشۡرَبُ مِمَّا تَشۡرَبُوۡنَ ۞

ترجمہ:

اور رسول کی قوم کے وہ کافر سردار جنہوں نے آخرت کی ملاقات کی تکذیب کی تھی اور جن کو ہم نے دنیا کی زندگی میں فراوانی عطا فرمائی تھی وہ کہنے لگے یہ رسول صرف تمہاری مثل بشر ہے یہ ان ہی چیزوں میں سے کھاتا ہے جن سے تم کھاتے ہو اور ان ہی چیزوں سے پیتا ہے جن سے تم پیتے ہو

تفسیر:

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : اور رسول کی قوم کے وہ کافر سردار جنہوں نے آخرت کی ملاقات کی تکذیب کی تھی اور جن کو ہم نے دنیا کی زندگی میں فراوانی عطا فرمائی تھی (وہ) کہنے لگے : یہ رسول صرف تمہاری مثل بشر ہے یہ ان ہی چیزوں میں سے کھاتا ہے جن سے تم کھاتے ہو اور ان ہی چیزوں سے پیتا ہے جن سے تم پیتے ہو۔ اور اگر تم نے اپنے جیسے بشر کی اطاعت کی تو تم ضرور نقصان اٹھانے والوں میں سے ہو جائو گے۔ کیا یہ رسول تم سے یہ وعدہ کرتے ہیں کہ جب تم مر جائو گے اور مٹی اور ہڈیاں ہو جائو گے تو تم (قبروں سے) نکالے جائو گے۔ جس کا تم سے وعدہ کیا گیا ہے (اس کا پورا ہونا) بہت دور ہے بہت دور ہے۔ ہماری تو صرف یہی دنیا کی زندگی ہے ہم مرتے ہیں اور جیتے ہیں اور ہم (قبروں سے) اٹھائے نہیں جائیں گے۔ یہ رسول تو صرف اللہ پر جھوٹا بہتان باندھا رہا ہے اور ہم اس پر ایمان لانے والے نہیں ہیں۔ (المومنون : ٣٨-٣٣)

رسول کا اپنی قوم کی طرف پیغام پہنچانا اور قوم کا سرکشی سے اس پیغام کو رد کرنا 

اکثر مفسرین کے نزدیک قوم نوح کے بعد جس قوم کو اللہ تعالیٰ نے پیدا فرمایا اور ان میں رسول کو مبعوث فرمایا وہ قوم عاد ہے، کیونکہ قرآن مجید کی اکثر سورتوں میں قوم نوح کے بعد عاد ہی کا ذکر کیا گیا ہے، ایک قول یہ ہے کہ یہ قوم ثمود ہے کیونکہ ان آیات میں آگے چل کر المومنون : ٤١ میں فرمایا ہے کہ ایک زبردست چنگھاڑنے ان کو پکڑ لیا اور یہ عذاب قوم ثمود پر آیا تھا اور ایک قول یہ ہے کہ اس قوم کا مصداق حضرت شعب (علیہ السلام) کی قوم مدین ہے کیونکہ ان کی ہلاکت بھی ایک زبردست چنگھاڑ کی وجہ سے ہوئی تھی۔

اس قوم کی طرف جس رسول کے بھیجنے کا ذکر ہے وہ رسول بھی اللہ تعالیٰ نے اس قوم میں سے ہی بھیجا تھا جن کی نشو و نما ان ہی کے درمیان ہوئی تھی، جن کو وہ اچھی طرح جانتے اور پہچانتے تھے، ان کے خاندان مکان، مولد اور ان کی سیرت اور کردار سے اچھی طرح واقف تھے، اکثریت کے قول کے مطابق یہ رسول حضرت ھود (علیہ السلام) تھے، ان کا تفصیلی تعارف ہم الاعراف : ٦٥ میں بیان کرچکے ہیں۔ حضرت ھود (علیہ السلام) نے بعثت کے بعد سب سے پہلے وہ پیغام پہنچایا اور اسی دین کی دعوت دی جو ہر نبی کا اولین نصب العین اور ان کے مشن کا سرنامہ رہا ہے۔

ان کی قوم کے سرداروں نے اس طرح ان کے پیغام کو مسترد کردیا جس طرح ہر نبی کی قوم کے کافر سردار اپنے اپنے نبیوں کے لائے ہوئے پیغام کو رد کرتے رہے ہیں اور انکی اکثریت ایمان لانے سے محروم رہتی ہے، کیونکہ یہ لوگ بہت مالدار تھے ایک تو ان کا آخرت کے عقیدے پر ایمان نہیں تھا اور دوسرا سبب یہ تھا کہ ان کے پاس دنیاوی مال و دولت اور سامان عیش و عشرت کی فراوانی تھی چناچہ انہوں نے یہ کہہ کر اپنے رسول کی دعوت قبول کرنے سے انکار کردیا کہ یہ شخص تو ہماری طرح کھاتا پیتا ہے یہ اللہ کا رسول کس طرح ہوسکتا ہے، انہوں نے صرف اپنے رسول کی بشریت اور ظاہر حال کو سامنے رکھا اور اس کے دیگر فضائل اور مناقب اور اس کے باطن کی روشنی کی طرف دیکھنے سے آنکھیں بند کرلیں جس طرح آج بھی ان کے طریقہ پر چلتے ہوئے بہت سے گمراہ فرقے سیدنا محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی بشریت کو سامنے رکھتے ہیں اور آپ کے بشری تقاضوں کا ذکر کرتے ہیں اور توحید کے پر چار کے نام پر کمالات نبوت اور آپ کے تمام فضائل و مناقب سے آنکھیں بند کرلیتے ہیں اور آپ کی خصوصیات اور شرف و مرتبہ اور آپ کی عزت و وجاہت کا بالکل تذکرہ نہیں کرتے وہ نبی کو ایک عام آدمی کی حیثیت سے دنیا کے سامنے پیش کرتے ہیں وہ کہتے ہیں کہ سوا شرعی مسائل کے آپ کو اور کسی چیز کا علم تھا اور نہ کسی مال کے اظہار کی قدرت تھی اور وہ آپ کے کمالات کے باب میں ذاتی اور عطائی کے فرق کو بھی تسلیم نہیں کرتے۔

ان کافر سرداروں نے اپنے متعبین سے کہا اگر تم نے اپنے جیسے انسان کے دعویٰ نبوت کو تسلیم کرلیا اور اس کی فضیلت اور برتری کو مان لیا تو تم زبردست نقصان اٹھائو گے کیونکہ ایک بشر دور سے بشر سے کیوں کر افضل ہوسکتا ہے یہی وہ مغالطہ ہے جس کی وجہ سے ان کافر سرداروں نے اپنے رسول کی رسالت کو نہیں مانا حالانکہ اللہ تعالیٰ جس بشر کو اپنا پیغام پہنچانے کے لئے چن لیتا ہے تو وہ اس وحی اور رسالت کی وجہ سے تمام غیر نبی اور غیر رسول انسانوں سے شرف اور مرتبہ میں بہت بلند اور فاضل اور اعلیٰ ہوجاتا ہے۔

ھیمات اس کا معنی ہے دوری ہو اور اس کو تاکید کی وجہ سے دوبارہ ذکر کیا گیا ہے، انہوں نے دوبارہ زندہ کئے جانے کا انکار کیا اور کہا صرف اسی دنیا کی زندگی ہے جس میں ہم جیتے اور مرتے ہیں اور دوبارہ زندہ کئے جانے کا وعدہ محض ایک افتراء اور بہتان ہے جو یہ شخص اللہ تعالیٰ پر باندھا رہا ہے۔

تبیان القرآن – سورۃ نمبر 23 المؤمنون آیت نمبر 33