أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

وَلَقَدۡ خَلَقۡنَا فَوۡقَكُمۡ سَبۡعَ طَرَآئِقَ ۖ وَمَا كُنَّا عَنِ الۡخَـلۡقِ غٰفِلِيۡنَ ۞

ترجمہ:

اور بیشک ہم نے تمہارے اوپر سات راستے بتائے اور ہم اپنی مخلوق سے غافل نہیں ہیں

تفسیر:

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے اور بیشک ہم نے تمہارے اوپر سات راستے بنائے اور ہم اپنی مخلوق سے غافل نہیں ہیں۔ اور ہم نے ایک اندازے کے مطابق آسمان سے پانی نازل کیا پھر اس کو زمین میں ٹھہرایا اور بیشک ہم اس کو بہا کرلے جانے پر بھی قادر ہیں۔ پھر ہم نے اس پانی سے تمہارے لئے کھجور اور انگور کے باغات اگائے جن میں تمہارے لئے یہ بہ کثرت پھل ہیں اور جن سے تم کھاتے ہو۔ اور وہ درخت (زیتون) پیدا کیا جو طور سیناء سے نکلات ہے جو تیل نکالتا ہے اور کھانے والوں کا سالن ہے۔ اور تمہارے لئے چوپایوں میں ضرور مقام غور ہے ہم تمہیں ان میں سے وہ (دودھ) پلاتے ہیں جو ان کے پیٹوں میں ہے اور تمہاریلئے ان میں بہت زیادہ فائدے ہیں اور ان میں سے بعض کو تم کھاتے ہو۔ اور ان مویشیوں پر اور کشتیوں پر تم سوار کئے جاتے ہو۔ (المومنون : ٢٢-١٧)

مخلوق کی ضروریات اور مصلحتوں کی رعایت 

اس آیت میں راستوں کے لئے طرائق کا لفظ ہے یہ طریقہ کی جمع ہے اور اس کا معنی ہے راستہ یہاں اس سے مراد آسمان ہیں عربی میں اوپر تلے کی چیزوں کو بھی طریقہ کہتے ہیں، آسمان بھی اوپر تلے ہیں اس لئے انہیں طرائق فرمایا، یا طریقہ راستہ کے معنی میں ہے کیونکہ ملائکہ کے آنے جانے کے لئے آسمان گزر گاہ اور راستہ ہے فرشتے آگ کے گولے بھی آسمانوں سے پھینکتے ہیں اس لئے آسمانوں کی طرائق فرمایا۔

پھر فرمایا ہم اپنی مخلوق سے غافل نہیں ہیں، یعنی ہم آسمانوں کو پیدا کر کے اپنی زمین کی مخلوق سے غافل نہیں ہوگئے بلکہ ہم نے آسمانوں کو زمین پر گرنے سے محفوظ بنادیا ہے تاکہ زمین کی مخلوق ہلاک نہ ہو، اس کا دوسرا محمل یہ ہے کہ ہم آسمانوں کو پیدا کر کے زمین کی مخلوق کی مصلحتوں اور انکی زندگی کی ضروریات سے غافل نہیں ہوگئے بلکہ ہم ان کی تدبیر اور ان کا انتظام کرتے رہتے ہیں اور اس کا یہ معنی بھی ہے کہ زمین سے جو کچھ نکلتا ہے یا جو کچھ زمین کے اوپر آتا ہے، اسی طرح آسمان سے جو کچھ نازل ہوتا ہے اور جو کچھ آسمان کی طرف چڑھتا ہے ہم اس سے غافل نہیں ہیں وہ سب ہمارے علم میں ہے اور ہر چیز پر ہماری نظر ہے اور ہم اپنے علم کے لحاظ سے ہر جگہ تمہارے ساتھ ہیں۔

تبیان القرآن – سورۃ نمبر 23 المؤمنون آیت نمبر 17