أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

وَ اِنَّ لَـكُمۡ فِى الۡاَنۡعَامِ لَعِبۡرَةً‌  ؕ نُسۡقِيۡكُمۡ مِّمَّا فِىۡ بُطُوۡنِهَا وَلَـكُمۡ فِيۡهَا مَنَافِعُ كَثِيۡرَةٌ وَّمِنۡهَا تَاۡكُلُوۡنَ ۞

ترجمہ:

اور تمہارے لئے چوپایوں میں ضرور مقام غور ہے، ہم تمہیں ان میں سے وہ دودھ پلاتے ہیں جو ان کے پیٹوں میں ہے اور تمہارے لئے ان میں بہت زیادہ فائدے ہیں اور ان میں سے بعض کو تم کھاتے ہو

دودھ کے غذائی اور طبی فوائد 

المئومنون : ٢١ میں فرمایا اور تمہارے لئے چوپایوں میں ضرور مقام غور ہے ہم تمہیں ان میں سے وہ (دودھ) پلاتے ہیں جو ان کے پٹوں میں ہے اور تمہارے لئے ان میں بہت زیادہ فائدے ہیں اور ان میں سے بعض کو تم کھاتے ہو۔

گائے کے خالص سو گرام دودھ میں ٦٥ حرارے، ٣، ٣ گرام پروٹین، ٨ ئ ٣ گرام چکنائی ٧ ئ ٤ گرام لیکٹوز ١٢٠ ملی گرام کیلشیم، ٥ ئ ٠ ملی گرام فولاد، ٠٤ ئ ٠ ملی گرام وٹامن بی ٥ ئ ١٠ ملی گرام وٹامن سی، ٣٥ مائیکرو گرام وٹامن اے -٥ مائیکرو گرام فولک ایسڈ ہوتے ہیں۔

انسان کے لئے دودھ بہترین غذا ہے اس میں گوشت ہڈی، اور خون پیدا کرنے کے تمام ضروری اجزاء موجود ہیں، بکری، گائے اور بھینس کے دودھ زیادہ تر استعمال ہوتے ہیں۔ بکری کے دودھ میں چکنائی کم ہوتی ہے، بھینس کے دودھ میں زیادہ چکنائی ہوتی ہے اور گائے کے دودھ میں متوازن چکنائی ہوتی ہے اس لئے ہم نے صرف گائے کے دودھ میں متوازن چکنائی ہوتی ہے اس لئے ہم نے صرف گائے کے دودھ کے غذائی اجزاء بیان کئے ہیں۔

القرآن – سورۃ نمبر 23 المؤمنون آیت نمبر 21