أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

اَفَلَمۡ يَدَّبَّرُوا الۡقَوۡلَ اَمۡ جَآءَهُمۡ مَّا لَمۡ يَاۡتِ اٰبَآءَهُمُ الۡاَوَّلِيۡنَ ۞

ترجمہ:

آیا انہوں نے اللہ کے کلام میں غور نہیں کیا یا ان کے پاس کوئی ایسی چیز آئی تھی جو ان کے پہلے باپ دادا کے پاس نہیں آئی تھی

تفسیر:

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : آیا انہوں نے اللہ کے کلام میں غور نہیں کیا یا ان کے پاس کوئی ایسی چیز آئی تھی جو ان کے پہلے باپ داد ا کے پاس نہیں آئی تھی۔ یا انہوں نے اپنے رسول کو پہچانا نہیں تو وہ اس کے منکر ہوگئے۔ یا وہ یہ کہتے ہیں کہ اس رسول کو جنون ہے (نہیں نہیں) بلکہ وہ ان کے پاس حق لے کر آیا ہے اور ان میں سے اکثر حق کو ناپسند کرتے ہیں۔ اور اگر حق ان کی خواہشوں کی پیروی کرتا تو تمام آسمان اور زمینیں اور جو بھی ان میں ہیں وہ سب ہلاک ہوجاتے (نہیں نہیں) بلکہ ہم تو ان کے پاس ان کی نصیحت لائے ہیں سو وہ اپنی نصیحت سے ہی منہ پھیرنے والے ہیں۔ کیا آپ ان سے کوئی اجرت طلب کر رہے ہیں ! سو آپ کے رب کا اجر ہی سب سے بہتر ہے اور وہ سب سے بہتر روزی دینے والا ہے۔ (المومنون : ٧٢-٦٨ )

مشرکین کے ایمان نہ لانے کے وجوہ اور ان کا رد اور ابطال 

المئومنون : ٦٨ میں یہ بتایا ہے کہ قرآن مجید ان کے نزدیک مشہور اور معروف تھا اور وہ اس میں غور و فکر کرنے پر قادر تھے کیونکہ ان کے کلام اور قرآن مجید کی فصاحت اور بلاغت میں نمایاں اور غیر معمولی فرق تھا اور قرآن مجید میں کسی قسم کا تضاد اور تعارض نہیں تھا اور قرآن مجید نے ان کو صانع کے وجود کی معرفت اور اس کی وحدانیت کی معرفت پر متنبہ کیا تھا تو وہ اس قرآن میں کیوں تدبر نہیں کرتے تاکہ باطل کو ترک کرکے حق کو اتخیار کرلیں۔ اس کی دوسری تفسیر یہ ہے کہ مشرکین اس لئے آپ کی نبوت کا انکار کرتے تھے کہ اللہ کسی رسول کو اپنا پیغام دے کر بھیجنا خلاف عادت اور غیر معمولی کام ہے تو یہ بات غلط ہے اس کا رد کرتے ہوئے اللہ تعالیٰ نے فرمایا یا ان کے پاس کوئی ایسی چیز ائٓی تھی جو ان کے باپ دادا کے پاس نہیں آئی تھی۔ کیونکہ وہ تواتر سے جانتے تھے کہ رسول اپنی امتوں کے پاس کوئی ایسی چیز آئی تھی جو انکے باپ دادا کے پاس نہیں آئی تھی۔ کیونکہ وہ اور ان امتوں میں سے بعض لوگ رسول کی تصدیقف کر کے نجات پانے والی تھے اور بعض لوگ ان کی تکذیب کر کے ہلاک ہوگئے اور ان مکذبین پر ایسا عذاب آیا تھا جس نے ان کو بیخ و بن سے اکھاڑ کر پھینک دیا تھا۔

تبیان القرآن – سورۃ نمبر 23 المؤمنون آیت نمبر 68