أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

اَمۡ يَـقُوۡلُوۡنَ بِهٖ جِنَّةٌ ؕ بَلۡ جَآءَهُمۡ بِالۡحَـقِّ وَاَكۡثَرُهُمۡ لِلۡحَقِّ كٰرِهُوۡنَ ۞

ترجمہ:

یا وہ کہتے ہیں کہ اس رسول کو جنون ہے ! (نہیں نہیں) بلکہ وہ ان کے پاس حق لے کر آیا ہے اور ان میں سے اکثر حق کو ناپسند ہیں

المئومنون : ٧٠ میں فرمایا وہ یہ کہتے ہیں کہ اس رسول کو جنون ہے۔ یعنی اس دعویٰ رسالت کی وجہ یہ ہے کہ آپ کی عقلمیں خربای ہے سو یہ بات بھی غلط ہے کیونکہ وہ بداھتاً جانتے تھے کہ آپ تمام لوگوں سے زیادہ عقل مند ہیں اور کوئی مجنون شخص ایسے قوی دلائل کیسے پیش کرسکتا ہے اور ایسی جامع شریعت اور ماضی اور مستقبل کی صحیح صحیح خبریں کیسے بیان کرسکتا ہے، اللہ تعالیٰ نے ان کے اس شبہ کا رد فرمایا نہیں نہیں بلکہ وہ ان کے پاس حق لے کر آیا ہے اور ان میں سے اکثر حق کو نپاسند کرتے ہیں ان کے ناپسند کرنے کی وجہ یہ تھی کہ اگر وہ سیدنا محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی نبوت کو تسلیم کرلیتے تو تمام لوگ آپ کی اتباع کرتے اور عوام پر ان کی ریاست اور ان کا اقتدار جاتا رہتا، اور اکثر اس لئے فرمایا کہ بعض لوگ آپ کے برحق ہونے کو پہچانتی تھے اور وہ آپ پر اس لئے ایمان نہیں لائے تھے کہ ان کی قوم ان کو ملامت کرے گی اور کہے گی کہ انہوں نے اپنے باپ دادا کے دین کو ترک کردیا۔

القرآن – سورۃ نمبر 23 المؤمنون آیت نمبر 70