أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

اَيَحۡسَبُوۡنَ اَنَّمَا نُمِدُّهُمۡ بِهٖ مِنۡ مَّالٍ وَّبَنِيۡنَۙ ۞

ترجمہ:

کیا وہ یہ گمان کر رہے ہیں کہ ہم مال اور اولاد سے جو ان کی مدد کر رہے ہیں

تفسیر:

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : کیا وہ یہ گمان کر رہے ہیں کہ ہم مال اور اولاد سے جو ان کی مدد کر رہے ہیں۔ تو ہم ان کی بھلائیاں پہنچانے میں جلدی کر رہے ہیں (نہیں نہیں ! ) بلکہ یہ سمجھ نہیں رہے۔ (المئومنون : ٥٦-٥٥ )

کافروں کے کفر کے باوجود ان کو نعمتیں دینے کے وجوہ 

یہ امداد تو ان کو صرف گناہوں میں ڈھیل دینے کے لئے ہے اور ان کو معاصی کی دلدل میں زیادہ کھینچنے کے لئے ہے اور وہ یہ سمجھ رہے ہیں کہ ان کی زیادہ نیکیوں کا ان کو صلہ رہا ہے نہیں نہیں یہ تو حیوانات اور بہائم کے مشابہ ہیں ان میں کوئی سمجھ اور شعور نہیں ہے کہ یہ اس پر غور کرتے کہ یہ استدراج اور ڈھیل ہے یا ان کی نیکیوں کا انعام ہے۔

امام رازی نے یہ روایت ذکر کی ہے کہ یزید بن میسرہ بیان کرتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے نبیوں میں سے کسی نبی کی طرف یہ وحی کی کیا میرا بندہ اس پر خوش ہوتا ہے کہ اس پر دنیا کشادہ کردی گئی حالانکہ وہ مجھ سے بہت دور ہوتا ہی اور وہ اس پر افسوس کرتا ہے کہ میں اس سے دنیا اٹھا لیتا ہوں حالانکہ وہ میرے قریب ہوتا ہے اور حسن نے بیان کیا کہ جب حضرت عمر (رض) کے پاس کسریٰ کے کنگن آئے تو انہوں نے وہ کنگن اٹھا کر حضرت سراقہ بن مالک کے ہاتھ میں پہنا دیئے وہ کنگن اتنے کھلے تھے کہ حضرت سراقہ کے کندھوں تک پہنچ گئے پھر حضرت عمر نے کہا اے اللہ ! تجھ کو علم ہے کہ تیرے نبی (علیہ الصلوۃ والسلام) اس کو پسند کرتے تھے کہ ان کے پاس مال آئے تو وہ اس کو تیری راہ میں خرچ کریں اور حضرت ابوبکر بھی اسی کو پسند کرتے تھے اے اللہ ! اس مال کو لوگوں کے لئے آزمئاشنہ بنانا پھر انہوں نے یہ آیت پڑھی : ایحسبون انما نمدھم بہ من مال و بنین، کیا وہ یہ گمان کر رہے ہیں کہ ہم مال اور اولاد سے جو ان کی مدد کر رہے ہیں تو وہ ان کی بھلائیاں پہنچانے میں جلدی کر رہے ہیں۔ (نہیں نہیں ! ) بلکہ یہ سمجھ نہیں رہے۔

اس آیت کا دوسرا محمل یہ ہے کہ اللہ سبحانہ نے ان کو یہ نعمتیں اس لئے عطا کیں کہ وہ فارغ البال ہو کر اللہ تعالیٰ کی اطاعت اور عبادت کریں اور روزی کا حصول اور اس کے لئے مشقت کرنا ان کی اطاعت اور عبادت میں مانع نہ ہو، لیکن انہوں نے ان نعمتوں کے حصول کے باوجود اللہ تعالیٰ کی اطاعت اور عبادت سے اعراض کیا تو ان پر اللہ کے عذاب نزول کی وجہ اور زیادہ مستحکم ہوگئی۔

تبیان القرآن – سورۃ نمبر 23 المؤمنون آیت نمبر 55