حدیث نمبر 381

روایت ہے حضرت سلیمان مولیٰ میمونہ سے ۱؎ فرماتے ہیں مقام بلاط میں حضرت ابن عمر کے پاس گئے لوگ نماز پڑھ رہے تھے۲؎ میں نے عرض کیا کہ کیا آپ ان کے ساتھ نماز نہیں پڑھتے۳؎ فرمایا میں پڑھ چکا ہوں اور میں نے رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا کہ ایک دن میں ایک نماز دوبارہ نہ پڑھو ۴؎ (احمد ،ابودؤد،نسائی)

شرح

۱؎ آپ سلیمان ابن یسار ہیں،ام المؤمنین  میمونہ رضی اللہ عنہا کے آزاد کردہ غلام، بڑے فقیہ،محدث ،عابد،و تارک الدنیا تابعی ہیں،آپ کے بھائی عطا ابن یسار ہیں،۷۳ عمر ہوئی،  ۱۰۷ھ؁ میں وفات پائی رضی اللہ تعالٰی عنہ۔

۲؎  بلاط لغت میں وہ پتھر ہے جس کا مکانوں میں فرش لگایا جاتا ہے یہاں وہ جگہ مراد ہے جو حضرت عمر نے مسجد نبوی شریف کے متصل چبوترے کی شکل میں بنائی تھی تاکہ اگر کسی کو کوئی دنیاوی بات کرنا ہو تو مسجد سے نکل کر وہاں جا کر کرے۔

۳؎  یعنی مسجد نبوی میں جماعت اولیٰ ہورہی ہے اورآپ یہاں بیٹھے ہیں  کیا وجہ ہے۔خیال رہے کہ آپ مسجد سے علیحدہ بیٹھے تھے لہذا جائز تھا۔

۴؎ حق یہ ہے کہ یہ نماز فجر یا عصر یا مغرب تھی جس کے بعد نفل درست نہیں۔ حدیث کا مطلب یہ ہے کہ میں یہ نماز پڑھ چکا ہوں اور اس کے بعد نفل جائز نہیں تو لامحالہ دوبارہ فرض ہی کی نیت سے پڑھوں اور ایک دن میں ایک فرض دوبار ہو نہیں سکتے اسکے اور مطلب بھی بیان کیئے گئے مگر یہ بہتر ہے اس صورت میں یہ حدیث گزشتہ احادیث کے خلاف بھی نہیں اور اس پر کچھ شبہ بھی نہیں اگلی حدیث اس کی شرح ہے۔اسی لیئے فقہاء فرماتے ہیں کہ شہر میں بعد نماز جمعہ احتیاطی نفل کی نیت سے نفل کے طریقہ پر پڑھے کیونکہ فرض تو پڑھ چکا اور گاؤں میں جمعہ نہ پڑھے کہ وہاں جمعہ ہوتا نہیں اگر پڑھا تو نفل ہوگا اور نفل جماعت و خطبہ و اذان سے پڑھنا، پھر فرض ظہر اکیلے پڑھنا بہت برا ہے لیکن اگر کسی نے پڑھ لیا تو بہت بعد میں ظہر فرض کی نیت سے پڑھے،ان مسائل کا ماخذ یہ حدیث ہے۔