أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

بَلۡ قُلُوۡبُهُمۡ فِىۡ غَمۡرَةٍ مِّنۡ هٰذَا وَلَهُمۡ اَعۡمَالٌ مِّنۡ دُوۡنِ ذٰلِكَ هُمۡ لَهَا عٰمِلُوۡنَ ۞

ترجمہ:

(نہیں نہیں ! ) بلکہ ان کے دل اس سے غفلت میں ہیں اور اس کے سوا ان کے اور (بھی) برے اعمال ہیں جن کو وہ کرنے والے ہیں

کفار کے کرتوت اور ان پر نزول عذاب کی کیفیت

المئومنون : ٦٣ میں فرمایا : بلکہ ان کے دل اس سے غفلت میں ہیں، اس آیت میں غفلت کے لئے غمرۃ کا لفظ فرمایا ہے اور ہم اس سے پہلے بیان کرچکے ہیں کو غمرۃ کا معنی غفلت، حجاب اور قرآن کے معانی سے اندھا ہونا ہے، جب کسی شخص کو پانی ڈھانپ لے تو کہتے ہیں غمرۃ الماء ان کے دل غمرۃ میں ہیں، اس کا معنی یہ بھی ہے کہ انکے دل حیرت میں ہیں اور قرآن کے معانی سے اندھے پن اور حجاجب میں ہیں، نیز فرمایا اور اس کے سوا ان کے اور بھی برے اعمال ہیں جن کو وہ کرنے والے ہیں، قتادہ اور مجاہد نے کہا حق کے انکار کے عالوہ ان کے اور بھی گناہ ہیں جن کو وہ ضرور کرنے والے ہیں، حسن اور ابن زید نے کہا اور بھی برے اعمال ہیں جو انہوں نے ابھی تک نہیں کئے لیکن وہ ان کو ضرور کریں گے اور ان کی وجہ سے وہ دوزخ میں داخل ہوں گے اور اس کا ایک معنی یہ بھی ہے کہ خالق کا کفر کرنے کے علاوہ انہوں نے مخلوق پر بھی ظلم کیا ہے۔

القرآن – سورۃ نمبر 23 المؤمنون آیت نمبر 63