أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

ثُمَّ اَرۡسَلۡنَا مُوۡسٰى وَاَخَاهُ هٰرُوۡنَ بِاٰيٰتِنَا وَسُلۡطٰنٍ مُّبِيۡنٍۙ ۞

ترجمہ:

بھیجا ہم نے موسیٰ اور ان کے بھائی ہارون کو اپنی نشانیوں اور روشن دلیل کے ساتھ بھیجا

تفسیر:

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : پھر ہم نے موسیٰ اور ان کے بھائی ہارون کو اپنی نشانیوں اور روشن دلیل کے ساتھ بھیجا۔ فرعون اور اس کے درباریوں کی طرف، سو انہوں نے تکبر کیا اور وہ بہت سرکش لوگ تھے۔ تو وہ کہنے لگے کیا ہم اپنے جیسے دو بشروں پر ایمان لے آئیں حالانکہ ان دونوں کی قوم تو خود ہماری عبادت کرتی ہے۔ سو انہوں نے ان دونوں کی تکذیب کی تو وہ ہلاک شدہ لوگوں میں سے ہوگئے۔ اور بیشک ہم نے موسیٰ کو کتاب دی تاکہ وہ لوگ راہ راست پر آجائیں۔ (المومنون : ٤٩-٤٥ )

حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کا قصہ 

حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کا مفصل واقعہ طہ : ٩٩٩ میں گزر چکا ہے۔

ان آیتوں میں حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو جن نشانیوں کے دینے کا ذکر ہے ان کی تعیین اور انکے مصداق میں اختلاف ہے حضرت ابن عباس (رض) نے فرمایا وہ یہ نو نشانیاں ہیں : (١) عصا۔ (٢) ید بیضا (٣) ٹٹڈیوں کو نازل کرنا۔ (٤) جو ئوں کو نازل کرنا۔ (٥) مینڈکوں کو نازل کرنا۔ (٦) خون کو نازل کرنا۔ (٧) سمندر کو چیر کر بارہ راستے بناتا۔ (٨) قبطیوں پر قحط نازل کرنا۔ (٩) ان کے پھلوں کی پیداوار کو کم کرنا۔

اس پر یہ اعتراض ہے کہ یہ آیات اور ناشنیاں تو حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کا معجزہ تھیں تو جب آیات سے مراد معجزات ہیں تو پھر سلطان مبین (روشن دلیل) سے کیا مراد ہے اگر اس سے بھی مراد معجزہ ہو تو لازم آئے گا کہ کسی چیز پر خود اسی چیز کا عطف ہو حالانکہ عطف تغایر کو چاہتا ہے۔ اس اعترضا کے حسب ذیل جوابات ہیں :

(١) آیات سے معجزات مراد ہیں اور سلطان مبین سے سب سے اشرف معجزہ مراد ہے اور وہ حضرت موسیٰ کا عصاء ہے کیونکہ وہ بہت سے معجزات کو مستلزم ہے کیونکہ وہ عصا اژدھا بن گیا تھا اور فرعون کے جادوگروں کے اژدھوں کو نگل کیا تھا اور جب اس کو سمندر پر مارا تو بارہ راستے بن گئے اور جب اس کو پتھر پر مارا تو بارہ چشمے پھوٹ نکلے اور وہ حضرت موسیٰ کی حفاظت کرتا تھا، ان تمام فضائل کی وجہ سے عصا کا الگ ذکر فرمایا۔

(٢) یہ بھی ہوسکتا ہے کہ آلایات سے مراد حضرت موسیٰ کے عصا سمیت نو معجزات ہوں اور سلطان مبین سے مراد ان معجزات کی حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی نبوت پر دلالت ہو۔

(٣) یہ بھی ہوسکتا ہے کہ سلطان مبین سے یہ مراد ہو کہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) اللہ ت عالیٰ کے وجود پر دلائل پیش کرنے اور اپنی نبوت پر براہین پیش کرنے میں فرعون اور اس کے حواریوں پر غالب آگئے کیونکہ سلطنت کے معنی غلبہ ہیں۔ یہ آیت اس پر دلالت کرتی ہے کہ جس طرح حضرت موسیٰ اور حضرت ہارون میں نبوت مشترک تھی اسی طرح ان کے معجزات بھی مشترک تھے۔

تبیان القرآن – سورۃ نمبر 23 المؤمنون آیت نمبر 45