أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

ثُمَّ اَنۡشَاۡنَا مِنۡۢ بَعۡدِهِمۡ قُرُوۡنًا اٰخَرِيۡنَؕ ۞

ترجمہ:

پھر ان کے بعد ہم نے اور کئی امتیں پیدا کیں

تفسیر:

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : پھر ان کے بعد ہم نے اور کئی امتیں پیدا کیں۔ کوئی امت اپنی مقررہ میعاد سے نہ آگے بڑھ سکتی ہے نہ پیچھے ہٹ سکتی ہے۔ پھر ہم نے لگاتار اپنے رسول بھیجے، جب بھی کسی امت کے پاس اس کا رسول آیا تو اس نے اس کو تکذیب کی سو ہم بعض کو بعض کے بعد لائے اور ہم نے ان سب کو (نیست و نابود کر کے) قصہ کہانی بنادیا پس ان لوگوں کے لئے دوری ہو جو ایمان نہیں لائے۔ (المومنوکن : ٤٤-٤٢ )

حضرت ہود (علیہ السلام) کے بعد آنے والے دیگر انبیاء کا قصہ 

اللہ سحانہ قرآن مجید میں کبھی انبیائ (علیہم السلام) کا تفصیل سے قصہ ذکر فرماتا ہے جیسا کہ گزر چکا ہے اور کبھی ان کا اجمال سے قصہ ذکر فرماتا ہے جیسا کہ ان آیتوں میں ذکر ہے اور ایک قول یہ ہے کہ ان آیتوں میں جن رسولوں کا ذکر ہے اس سے مراد حضرت لوط، حضرت شعیب، حضرت ایوب اور حضرت یوسف (علیہم السلام) ہیں۔

اللہ تعالیٰ نے فرمایا پھر ان کے بعد ہم نے اور کئی امتیں پیدا کیں، اس سے مراد یہ ہے کہ ہم نے زمین کو مکلفین سے خالی نہیں رکھا، ہم نے زمین میں لوگوں کو پیدا کیا اور ان کو مکلف ہونے کی عمر تک پہنچایا حتیٰ کہ وہ متمدن دنیا میں پچھلے لوگوں کے قائم مقام ہوگئے۔ 

المومنون : ٤٣ میں فرمایا : کوئی امت اپنی مقررہ میعاد سے نہ آگے بڑھ سکتی ہے نہ پچیھے ہٹ سکتی ہے۔

اس آیت میں اجل کا لفظ ذکر فرمایا ہے اور جب اجل کا لفظ ذکر کیا جاتا ہے تو اس سے مراد موت کا وقت ہوتا ہے، اس میں یہ بیان فرمایا ہے کہ ہر امت کی زندگی اور موت کی ایک میعاد مقرر ہے، جو نہ مقدم ہوتی ہے نہ مئوخر اور اس میں یہ تنبیہہ ہے کہ اللہ تعالیٰ ہر چیز کو اس کے وجود میں آنے سے پہلے جانتا ہے۔ اس کی نظیریہ آیت ہے :

ان اجل اللہ اذا جآء لایوخر لوکنتم تعلمون۔ (نوح : ٤) بیشک جب اللہ کا مقرر کیا ہوا وقت آجائیت و وہ مئوخر نہیں کیا جاتا کاش کہ تم جانتے۔

اس کا ایک معنی یہ بھی ہے کہ جس امت کے ایمان نہ لانے کی بناء پر اس کے عذاب کا وقت مقرر کردیا ہے اس امت پر اس وقت سے پہلے عذاب نہیں آسکتا اور نہ وقت آنے کے بعد اس امت سے عذاب مئوخر ہوسکتا ہے اور وہ عذاب اس امت کو اس وقت تک جڑ سے نہیں اکھاڑتا جب تک کہ اللہ تعالیٰ کو یہ علم نہ ہو کہ یہ ہرگز ایمان نہیں لائیں گے اور دن بہ دن ان کے عناد میں اضافہ ہوتا رہے گا اور ان سے کوئی مومن نہیں پیدا ہوگا اور ان کو زمین پر زندہ رکھنے میں کسی کے لئے کوئی فائدہ نہیں ہے اور ان کے ہلاک ہونے سے کسی کا کوئی قنصان نہیں ہوگا، تو پھر ان کو عذاب بھیج کر ملیا میٹ کردیا جاتا ہے جیسا کہ حضرت نوح (علیہ السلام) نے یہ دعا کی تھی :

انک ان نذرھم یضلوا عبادک ولا یلدوآ الافاجراً کفارا۔ (نوح : ٢٧) بیشک اگر تو نے ان کافروں کو چھوڑ دیا تو یہ تیرے (دوسرے) بندوں کو گمراہ کریں گے اور یہ صرف بدقماش کافروں کو پیدا کریں گے۔

المئومنون : ٢٤ فرمایا پھر ہم نے لگاتار اپنے رسول بھیجے، جب بھی کسی امت کے پاس اس کا رسول آیا تو اس نے اس کی تکذیب کی سو ہم بضع کو عض کے بعد لائے اور ہم نے ان (سب) کو (نیست و نابود کر کے) قصہ کہانی بنادیا پس ان لوگوں کے لئے دوری ہو جو ایمان نہیں لائے۔

اس آیت کا معنی یہ ہے کہ ہم نے بعض قوموں کے فنا ہونے کے بعد دوسری بعض قوموں کو پیدا فرمایا اور ہر قوم کی طرف ایک روسل کو مبعوث فرمایا اور ہر بعد والی قوم اپنے سے پہلی قوموں کی تکذیب کے راستہ پر چل پڑی جن کو اللہ تعالیٰ انواع و اقسام کے عذاب نازل فرما کر غرق کرچکا تھا، پھر اللہ تعالیٰ نے ان کو بھی ان کی تکذیب کی وجہ سے ہلاک کردیا حتیٰ کہ وہمحض ایک قصہ کہانی بن کر رہ گئے۔

تبیان القرآن – سورۃ نمبر 23 المؤمنون آیت نمبر 42