أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

فَتَقَطَّعُوۡۤا اَمۡرَهُمۡ بَيۡنَهُمۡ زُبُرًا‌ ؕ كُلُّ حِزۡبٍۢ بِمَا لَدَيۡهِمۡ فَرِحُوۡنَ ۞

ترجمہ:

پھر لوگوں نے اپنے دین کے امور کو کاٹ کاٹ کر ٹکڑے ٹکڑے کرلیا، ہر گروہ اسی سے خوش ہوتا ہے جو اس کے پاس ہو

تفسیر:

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : پھر لوگوں نے اپنے دین کے امور کو کاٹ کاٹ کر ٹکڑے ٹکڑے کرلیا، ہر گروہ اس سے خوش ہوتا ہے جو اس کے پاس ہو۔ (المومنون : ٥٣ )

اس آیت کا معنی یہ ہے کہ انبیاء (علیہم السلام) کی امتوں نے اپنے اپنے دین کے امور کو کاٹ کر ٹکڑے ٹکڑے کردیا اس آیت میں فرمایا ہے انہوں نے زبر کو کاٹ کر ٹکڑیٹکڑے کردیا زبر زبور کی جمع ہے اس کا معنی ہے کاتبیں یعنی انہوں نے اپنے دین کو مختلف کتابیں اور مختلف ادیان بنادیا، مقاتل اور ضحاک نے کہا یعنی مشرکین مکہ، مجوس، یہود اور نصارٰی نے اور ہر فریق نے جو اپنا نظریہ گھڑ لیا اور اپنی خواہشات کو دین کا جامہ پہنا دیا اور یہ سمجھتا ہے اس نے جو نظریہ اپنایا ہے ہو حق ہے اور اس کا مخالف باطل پر ہے۔

حضرت معاویہ بن ابی سفیان (رض) بیان کرتے ہیں کہ ایک دن رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ہمارے درمیان کھڑے ہوئے اور فرمایا سنو تم سے پہلے جو اہل کتاب تھے وہ بہتر فرقوں میں متفرق ہوگئے اور یہ امت تہتر فرقوں میں متفرق ہوگی، اس میں سے بہتر دوزخ میں ہوں گے اور ایک جنت میں ہوگا، اور یہ وہ فرقہ ہے جو سب سے بڑی جماعت ہے، ابن یحییٰ اور عمر دین عثمان نے اپنی اپنی روایت میں یہ اضافہ کیا ہے کہ عنقریب میری امت میں ایسے لوگ نکلیں گے کہ گمراہی ان میں اس طرح گزیدہ کے جسم میں زہر داخل ہوجاتا ہے کہ کوئی رگ اور کوئی جوڑ اس زہر کے اثر سے نہیں بچتا۔ (سنن ابودائود رقم الحدیث : ٤٥٨٧، مطوبعہ دارالفکر بیروت، ١٤١٤ ھ)

حضرت عریاض بن ساریہ (رض) بیان کرتے ہیں کہ ایک دن رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے صبح کی نماز کے بعد ہم کو بہت مئوثر نصیحت فرمائی جس سے ہر آنکھ سے آنسو جاری ہوگئے اور ہر دل خوف سے لرز گیا، ایک شخص نے کہا یہ تو اس شخص کی نصیحت ہے جو الوداع ہو رہا ہو تو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے معلوم کرو کہ آپ ہم سے کیا عہد لیتے ہیں، رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا میں تم کو اللہ سے ڈرنے کی وصیت کرتا ہوں اور اگر تمہارا حاکم حبشی غلام بھی مقرر کردیا جائے تو اس کے احکام سننا اور اس کی اطاعت کرنا اور بیشک جو میرے بعد زندہ رہے گا وہ بہت اختلاف دیکھے گا اور تم بدعات سے دور رہنا کیونکہ بدعات (سیہ) گمراہی میں پس تم میں سے جو شخص ان بدعات کو پائے تو وہ میری سنت اور خلفاء راشدین مہدبین کی سنت کو لازم کرلے اور اس کو داڑھوں سے پکڑ لے۔ (سنن الترمذی رقم الحدیث : ٢٦٧٦ سنن ابو دائود رقم الحدیث، ٤٦٠٧ سنن ابن ماجہ رقم الحدیث، ٤٣ مسند احمد ج ٤ ص ١٢٦ سنن داری رقم الحدیث : ٩٦ صحیح ابن حبان رقم الحدیث : ٥ المعجم الکبیرج ١٨ رقم الحدیث : ٢١٧ مسند الشامیین رقم الحدیث، ١١٨٠ المستدرک ج ١ ص ١١٩٥ الآجری فی الشریعہ رقم الحدیث : ٤٧ )

علامہ حمد بن محمد خطابی متوفی ٣٨٨ ھ حضرت معاویہ کی حدیث کی شرح میں لکھتے ہیں :

نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا میری امت کے تہتر فرقے ہوں گے اس میں یہ دلیل ہے کہ یہ تمام فرقے اسلام سے خارج نہیں ہیں، کیونکہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ان سب کو اپنی امت قرار دیا ہے اور اس میں یہ دلیل بھی ہے کہ تاویل کرنے سے کوئی شخص ملت سے خارج نہیں ہوتا خواہ اس کی تاویل خطا پر مبنی ہو۔ (معالم السنن مع مختصر سنن ابو دائود ج ٧ ص ٤، مطبوعہ دارالمعرفتہ بیروت)

شیخ عبدالحق محدث دہلوی متوفی ١٠٥٢ ھ نے فرقہ ناجیہ کا مصداق اہل سنت و جماعت کو قرار دیا ہے پھر اس کی وضاحت میں لکھتے ہیں :

اگر کہیں یہ کیسے معلوم ہوا کہ ناجی گروہ اہلسنت و جماعت کا ہے، یہی راہ راست اور خدا کی طرف جانے کا راستہ ہے اور دوسرے تمام راستے جہنم کے راستے ہیں حالانکہ ہر فرقہ دعویٰ کرتا ہے کہ وہ راہ راست پر ہے اور اس کا مذہب برحق ہے۔ اس کا جواب یہ ہے کہ یہ تو کوئی بات نہیں ہوئی کیونکہ خالی دعویٰ کافی نہیں ہوتا، دلیل چاہیے جبکہ اہلسنت و جماعت کے برحق ہونے کی دلیل یہ ہے کہ انکا دین اسلام نقل ہوتا آیا ہے جبکہ یہاں صرف عقل کافی نہیں ہوتی اور متواتر خبروں سے معلوم ہوا نیز احادیث و آثار کی چھان بین سے یقین آیا کہ سلف صالحین میں سے صحابہ وتابعین اور ان بعد والے تمام بزرگ اسی عقیدے اور طریقے پر تھے۔ مذہب اور ارشادات اکابر میں بدعت اور من مانی کا رروائی کی ملاوٹ صدر اول کے بعد واقع ہوئی۔ صحابہ اور پہلے بزرگوں میں سے کوئی بھی ان کے طریقوں پر نہ تھا اور وہ ان راستوں سے بری تھے بدعات جاری ہونے کے بعد ان فرقوں نے ان بزرگوں سے صحبت و محبت کا رشتہ توڑ لیا اور رد کیا۔ صحاح ستہ والے محدثین اور دوسری مشہور قابل اعتماد کتابوں والے کہ جن پر اسلامی احکام کا دار و مدار ہے اور مذاہب اربعہ کے ائمہ مجتہدین اسی جماعت سے ہیں اور جتنے فقہاء ان تائید کی اور عقلی دلائل سے اسے ثابت کیا اور جو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی سنت اور سلف کے اجماع سے ثابت ہے اسے مئوکد کیا۔ اسی لئے تو اس جماعت کا نام اہل سنت و جماعت ہوا۔ اگرچہ یہ نام بعد میں رکھا گیا لیکن ان کا مذہب اور عقیدہ وہی اور نصوص کو انکے ظاہری معانی پر محمول کرتے ہیں۔ (اشعتہ اللمعات ج ١ ص 140-141 مطبوعہ تیج کمار لکھنئو)

اور حضرت شیخ مجددد الف ثانی متوفی ١٠٣٤ ھ لکھت یہیں :

نجات کا راستہ اہل سنت و جماعت کی پیروی میں ہے اللہ تعالیٰ ان کے اقوال و افعال اور اصول و فروغ میں برکت مرحمت فرمائے کیونکہ نجات پانے اولی جماعت یہی ہے اور اس کے سوا باقی سب فرقے خرابی اور ہلاکت میں پڑے ہوئے ہیں۔ آج خواہ کسی کو اس بات کا علم نہ ہو لیکن کل ہر ایک جان لے گا جبکہ وہ جاننا فائدہ نہ دے گا۔ (مکتوبات دفتر اول، مکتوب : ٤٩ )

تبیان القرآن – سورۃ نمبر 23 المؤمنون آیت نمبر 53