أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

فَذَرۡهُمۡ فِىۡ غَمۡرَتِهِمۡ حَتّٰى حِيۡنٍ ۞

ترجمہ:

پس اے رسول مکرم ! ) آپ ان کو ان کے کفر کی غفلت میں چھوڑ دیں حتی کہ ان کا وقت آجائے

تفسیر:

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : پس (اے رسول مکرم) آپ ان کو ان کے کفر کی غفلت میں چھوڑ دیں حتی کہ ان کا وقت آجائے۔ (المومنون : ٥٤ )

غمرۃ کا معنی اور مصداق 

اس آیت میں فرمایا ہے ان کو ان کی غمرۃ میں چھوڑ دیں یعنی آپ ان لوگوں کو چھوڑ دیجیے جو اپنے پیش روکفار کے حکم میں ہیں اور ان کے کفر اور سرکشی کے باوجود جو ان سے عذاب مئوخر ہو رہا ہے اس کی آپ پرواہ نہ کیجیے۔ غمرۃ لغت میں اس چیز کو کہتے ہیں جو تم کو ڈھانپ لے اور تم سے بلند ہوجائے، اس کی اصل ہے ستر یعنی کسی چیز کو چھپا لینا۔ اسی وجہ سے کینہ کو غمر کہتے ہیں کیونکہ کینہ دل کو چھپا لیتا ہے اور جو پانی بہت زیادہ ہو اس کو بھی غمرۃ کہتے ہیں کیونکہ وہ زمین کو ڈھانپ لیتا ہے اور غمر الرداء اس شخص کو کہتے ہیں جو اپنی عطا اور بخشش سے لوگوں کو ڈھانپ لیتا ہے۔

یہاں اس سے مراد حیرت، غفلت اور ضلالت (گمراہی) ہے، یعنی انکو ان کی گمراہی میں چھوڑ دیجیے حتیٰ کہ ان کو موت آجائے۔ اس کا یہ معنی بھی ہے ان کفاروں کو دوزخ میں جانے دیجیے حتی کہ یہ منکر خود اپنی آنکھوں سے عذاب کو دیکھ لیں۔

تبیان القرآن – سورۃ نمبر 23 المؤمنون آیت نمبر 54