الفصل الثالث

تیسری فصل

حدیث نمبر 377

روایت ہے حضرت بسر ابن محجن سے وہ اپنے والد سے راوی کہ وہ ایک مجلس میں رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھے کہ نماز کی اذان ہوئی ۱؎ تو رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہوئے نماز پڑھی اور واپس ہوئے محجن اپنی جگہ رہے ان سے رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا کہ لوگوں کے ساتھ نماز پڑھنے سے تمہیں کون سی شئے مانع ہوئی کیا تم مسلمان نہیں۲؎ عرض کیا ہاں یا رسول اﷲ لیکن میں اپنے گھر میں نماز پڑھ چکا تھا۳؎ تب ان سے رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جب تم مسجد میں آؤ حالانکہ نماز پڑھ چکے ہو اور نماز کی تکبیریں کہی جائیں تو لوگوں کے ساتھ نماز پڑھ لو اگرچہ پہلے پڑھ چکے ہو۴؎(مالک و نسائی)

شرح

۱؎ ظاہر یہ ہے کہ آپ داخل مسجد میں حضور کے ساتھ تھے،اذان ہوتے حضور نے وہیں نماز پڑھی یہ وہیں بیٹھے رہے اسی بنا پر حضور کا ان پر وہ عتاب ہوا جو آگے آرہا ہے جیسا کہ عرض کیا جائے گا۔

۲؎ اس سے معلوم ہوا کہ جماعت اولیٰ کے وقت مسجد میں بیٹھا رہنا سخت گناہ بلکہ کفار کی علامت ہے یا تو بہ نیت نفل جماعت میں شریک ہوجائے ورنہ تکبیر سے پہلے ہی وہاں سے چلا جائے ۔خیال رہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمانا کہ کیا تم مسلمان نہیں اپنی بے علمی کی وجہ سے نہیں بلکہ یہی بتانے کے لیئے ہے کہ یہ علامت کفار کی ہے۔

۳؎ یہ سمجھ کر کہ مسجد میں نماز ہوچکی ہوگی۔ممکن ہے کہ یہ کسی دور کے محلہ کے باشندے ہوں اور اپنے محلہ کی مسجد میں نماز پڑھ کر آئے ہوں۔بہرحال ان صحابی پر یہ اعترا ض نہیں کہ انہوں نے بغیر جماعت گھر میں نماز کیوں پڑھی۔

۴؎ یہ حکم استحبابی ہے اور یہ نماز نفل ہوگی لہذا انہیں اوقات میں ہوسکے گی جن میں بعد فرض نفل جائز ہیں یعنی ظہر و عشاء۔خیال رہے کہ یہ جماعت اولیٰ کے آداب ہیں دوسری جماعتیں ہوتی رہیں تم وہاں بیٹھے رہو کیونکہ ابھی حدیث میں گزر چکا کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے صدیق اکبر کو حکم دیا کہ فلاں کے ساتھ نماز پڑھ لو وہ جماعت ہوتی رہی اور سر کا مع صحابہ مسجد میں تشریف فرما رہے۔